28

چند باتیں آزادی مارچ کے حوالے سے

وزیر اعظم عمران خان نے سینئر صحافیوں اور اینکرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ اپوزیشن مائنس ون کے ایجنڈے پرکام کر رہی ہے لیکن میں واضح الفاظ میں کہتا ہوں کہ پاکستانی عوام نے ہمیں پانچ سال کے لئے منتخب کیا ہے‘ منتخب وزیراعظم ہوں‘ اپوزیشن کے مطالبے پر استعفیٰ نہیں دوں گا‘فوج میرے پیچھے کھڑی ہے‘ پاک فوج اس وقت منتخب حکومت کی ہرپالیسی کے ساتھ ہے‘ہمیں ایک دوسرے پر اعتماد ہے‘ ہم مل کر ملک کومشکل صورت حال سے نکالیں گے ‘حکومت اس طرح چھوڑ کر نہیں جائیں گے‘مولانا کسی اور کے ایجنڈے پر کام کررہے ہیں۔
اس امر میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب سیاسی اور عسکری قیادت ایک جان دو قالب کی صورت مل کر وطن عزیز کی ترقی کے لئے کوشاں ہیں، یہی وجہ ہے کہ غیر ملکوں کے اہم دوروں میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور وزیراعظم عمران خان اکٹھے نظر آتے ہیں اور اس امر میں بھی کوئی شک نہیں کہ یہ ایک بہترین صورت حال ہے، دنیا میں کوئی بھی ملک ایسی صورت میں ترقی کی منازل طے نہیں کرسکتا جبکہ عسکری قیادت کی سوچ مختلف ہو اور سیاسی قیادت کی مختلف ۔ اس ضمن میں ایک بات تو بہرحال سامنے ہے کہ عسکری قیادت کا کوئی بھی اقدام وطن عزیز کی بہتری کے لئے ہی ہوتا ہے ویسے بھی فوج وطن کی ایک ایک انچ زمین کے لئے اپنی جانوں کے نذرانے دیتی ہے اس لئے فوج کو اپنے ملک کی سرزمین سے عقیدت کی حد تک محبت ہوتی ہے، جبکہ سیاسی قیادت وطن عزیز کی ترقی کے لئے اپنی صلاحیتیں نچھاور کرتی ہے اور جب زندگی اور صلاحیتوں کا مقابلہ ہو تو بہرحال زندگی کی قربانی انمول ہوتی ہے صلاحیتوں کا استعمال تو ہر شعبہ زندگی میں کرنا پڑتا ہے تبھی ترقی کی راہیں کھلتی ہیں لیکن زندگی کی قربانی صرف اور صرف فوج میں ہوتی ہے اور یہ کوئی اچانک ہونے والا حادثہ نہیں ہوتا بلکہ سرحد پر کھڑا ہوا جوان جانتا ہے کہ کسی بھی وقت کسی بھی سمت سے آنے والی گولی اس کو درجہ شہادت پر فائز کرسکتی ہے۔ سیاسی حکمران ذاتی نوعیت کے فوائد میں ملک کو پیچھے دھکیل سکتا ہے لیکن عسکری قیادت ہر حال میں وطن عزیز کو آگے رکھتی ہے، اس کی ایک مثال ہمارے سامنے ہے کہ ایک سابق وزیراعظم نے اپنے ذاتی اثاثوں میں اضافے کے لئے ملک دشمنوں سے بھی دوستانہ تعلقات قائم کرکے وہاں سرمایہ کاری کی ہوئی تھی۔ جبکہ فوج کا کوئی افسر یا جوان محض دولت کے حصول کے لئے ایسا نہیں کرسکتا اور اگر کوئی بھٹکا ہوا ایسا کرلے اور یہ کام عسکری قیادت کے علم میں آجائے تو ایسے فوجی افسر یا جوان کو قرار واقعی سزا بھی دی جاتی ہے۔ لہذا سیاسی قیادت اگر یہ سمجھے کہ اس کا ہر فیصلہ آخری اور وطن عزیز کے لئے مفید ہوگا اور اس حوالے سے عسکری قیادت کو اعتماد میں نہ لے تو یہ اقدام سراسر زیادتی ہی قرار پائے گا۔ نیز جب سیاسی اور عسکری قائدین کی الگ الگ آراءہوں تو بیرون ملک بھی یہ تنازعات کھل جاتے ہیں اور پھر دنیا کے دیگر ممالک اپنے اپنے مفادات کے لئے فیصلے کرتے ہیں جبکہ ایسا ملک تنزلی کا شکار ہوجاتا ہے جیسا کہ پاکستان کے ساتھ ہوا کہ چین ہم سے ایک سال بعد آزاد ہوا اور وہاں ابتدائی چند برس تک چینی قوم افیون کے نشے میں دھت پڑی رہتی تھی وہ تو چواین لائی نے آکر چین کو ترقی کی راہ پر ڈالا لیکن چونکہ وہاں سیاسی و عسکری قیادت میں کوئی تنازعہ نہیں تھا لہذا چین بہت کم مدت میں ترقی کی منازل طے کرگیا۔
ان حالات میں کہا جاسکتا ہے کہ یہ وطن عزیز کی خوش قسمتی ہے کہ آج سیاسی و عسکری قیادت ایک جان دو قالب ہیںاور وزیراعظم عمران خان کسی بھی ملک میں کوئی بھی بات کریں یا فیصلہ کریں تو آرمی چیف جنر قمر جاوید باجوہ کو یقین ہوتا ہے کہ ان کا ہر قول اور فیصلہ وطن عزیز کے مفاد میں ہی ہوگا اور آرمی چیف کسی بھی ملک میں جاکر کوئی بھی بات کریں تو عمران خان کو یقین ہوتا ہے کہ جنرل قمر جاید باجوہ بیرون ملک جو بھی فیصلہ کریں گے وہ ملکی مفاد میں ہی ہوگا۔ یہ وہ بنیادی فرق ہے جو سیاسی و عسکری قیادت کے متفق ہونے سے حاصل ہوتا ہے۔ اس لئے عمران خان کا یہ موقف سو فیصد درست ہے کہ فوج ان کے پیچھے ہے لہذا وہ مستعفی نہیں ہوں گے اور ویسے بھی سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی 2014ءکے عمران خان کے دھرنے کے دوران کی گئی تقاریر بھی ریکارڈ میں موجود ہیں جن میں میاں نواز شریف نے بڑی حقارت سے کہا تھا، ” میں ان کے کہنے پر مستعفی ہوجاﺅں، یہ منہ اور مسور کی دال“، ” ہر صبح یہ اٹھ کر مجھ سے بھیک مانگتے ہیں کہ میاں نواز شریف اللہ کے واسطے استعفیٰ دے دو“ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ بھی اسمبلی میں دھرنے والوں پر بہت گرجے برسے تھے جبکہ مولانا فضل الرحمان نے دھرنے والوں سے جگہ خالی کرانا آئین کے مطابق حکومت کی ذمہ داری قرار دیا تھا، سیاسی جماعتوں اور قائدین کو سیاست میں ایک اصول رکھنا چاہئے یہ نہیں کہ جب خود اقتدار میں ہوں تو ان کے لئے اور اصول اور جب اپوزیشن میں ہوں تو اور اصول ہوں، یہ جمہوری روایات کے خلاف ہے، جو عمل ایک سیاسی جماعت کے لئے شجر ممنوعہ ہے وہ عمل پھر تمام سیاسی جماعتوں کے لئے شجر ممنوعہ ہی ہوگا۔ جبکہ آج کے حالات پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ آج ہمیں نہایت سنگین صورت حال کا سامنا ہے، ماضی میں کبھی مقبوضہ کشمیر میں ایسی صورت حال پیش نہیں آئی، آج مقبوضہ کشمیر میں بدترین کرفیو تیسرے مہینے میں داخل ہورہا ہے، اور وہاں غذائی اجناس اور ادویات ختم ہوچکی ہیں، عوام اور خاص طور پر بچے قید تنہائی کا شکار ہونے کی وجہ سے نفسیاتی مریض بن چکے ہیں، صرف اتنا ہی نہیں بلکہ آر ایس ایس کے غنڈے فوجی وردیوں میں ملبوس رات کو جس گھر میں چاہیں گھس جاتے ہیں اور وہاں موجود افراد کو بدترین تشدد کا نشانہ بناتے اور بعض چگہ نوجوانوں کو گولی مار کر شہید کردیتے ہیں، دوشیزاﺅں کو جنسی تشدد کا نشانہ بناتے اور بچوں کو اغوا کرکے لے جاتے ہیں اور پھر ان کے اہل خانہ کو یہ بھی نہیں بتاتے کہ انہیں بھارت میں کس جیل میں رکھاہواہے۔ ایسے حالات میں من حیث القوم ہمارا فرض یہ ہے کہ ہم آپس کے سیاسی یا ذاتی اختلافات کو پس پشت ڈالیں اور کشمیریوں کی مشکلات کو سامنے رکھتے ہوئے تمام تر توانائیاںاپنے کشمیری بھائیوں کو آزادی دلانے میں بروئے کار لائیں۔
وزیراعظم عمران خان کا یہ موقف سوفیصد درست ہے کہ مولانا فضل الرحمان کے دھرنے پر بھارت خوشیاں منا رہاہے ‘مولانا کی سمجھ نہیں آتی کبھی مذہبی کارڈ استعمال کرتے ہیں‘ کبھی کچھ کہتے ہیں اور کبھی کچھ‘ان کا چارٹرآف ڈیمانڈ واضح نہیں‘ آزادی مارچ سے کشمیر کاز کو نقصان اور دشمن ممالک کو فائدہ پہنچے گا‘ اس ضمن میں عمران خان کا یہ کہنا بھی حقائق کے عین مطابق ہے کہ جب سے آزادی مارچ اور دھرنے کا سلسلہ شروع ہوا ہے ذرائع ابلاغ پر کشمیر کا ذکر ختم ہوگیا ہے اور اب چوبیس گھنٹے آزادی مارچ اور دھرنے کا ہی ذکر نظر آتا ہے، اور یہ امر بھارت کی خواہشات کے عین مطابق ہے، اور بھارتی ذرائع ابلاغ بھی مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کو بہت زیادہ کوریج دے رہے ہیں، کیونکہ بھارت چاہتا ہی یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں اس کا کیا دھرا پردے میں رہے اور دنیا میں کسی کی توجہ اس جانب مبذول نہ ہو، اسی لئے وزیراعظم عمران خان متعدد بار یہ کہہ چکے ہیں کہ بھارت عالمی برادری کی توجہ کشمیر سے ہٹانے کے لئے پلوامہ طرز کا کوئی نیا ڈرامہ سٹیج کرسکتا ہے اور اسی لئے وزیراعظم عمران خان نے آرمی چیف کو فوجیں مکمل طور پر تیار رکھنے کا کہا ہے تاکہ بھارت کی کسی بھی مہم جوئی کا دنٰدان شکن جواب دیا جاسکے۔
حکومت نے اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کے لئے کمیٹی تشکیل دے دی ہے اس ضمن میں اپوزیشن کا موقف تھا کہ پہلے حکومت یہ اعلان کر ے کہ وہ آزادی مارچ کو روکنے کی کوشش نہیں کرے گی اور اب حکومت نے اعلان کر دیا ہے کہ وہ اپوزیشن کو قانون کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے مارچ کی اجازت دے گی، اور اب حکومت کی قائم کردہ کمیٹی اپوزیشن سے مذاکرات کررہی ہے لیکن اپوزیشن وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ کرنے کے بجائے کوئی اصولی مطالبہ کرے کیونکہ وزیراعظم کے مستعفی ہونے کی نہ تو کوئی منطق ہے اور نہ ہی اس وقت ان کا استعفیٰ دینا وطن عزیز کے مفاد میں ہوگا۔ لہذا اپوزیشن انتہاپسندی کے بجائے سیاسی سوچ کا مظاہرہ کرے اور ایسے مطالبات کرے جس سے وطن عزیز کا کوئی نقصان نہ ہو اور نہ ہی موجودہ حالات میں جن اقدامات کی ضرورت ہے ان میں کسی قسم کی تاخیر کا امکان ہو، یہی اپوزیشن ، حکومت اور وطن عزیز کے مفاد میں ہے۔ کیونکہ آج مولانا کے مارچ کو دیکھتے ہوئے تمام سیاسی جماعتیں جن کے افراد قومی دولت لوٹنے کے الزام کے تحت زیر تفتیش ہیں یا سزا بھگت رہے ہیں وہ بھی محض اپنے قائدین کو قانون کے پھندے سے نکالنے کے لئے اس احتجاج میں شامل ہوگئے ہیں، اس ضمن میں چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے گزشتہ روز اسلام کوٹ میں عوامی رابطہ کے سلسلے میں منعقد ہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوامی طاقت سے کٹھ پتلی اور سلیکٹیڈ حکومت گرا کر پاکستان بچائیں گے اور عوامی حکومت لائیں گے ، میں عمران خان اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف نکلا ہوں ، جمہوریت خطرے میں ہے ، سب کو ریموٹ کنٹرول سے چلایا جارہا ہے۔ بلاول بھٹو کا رویہ بھی درست نہیں ہے کیونکہ اس وقت بلاول کے والد سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کے دیگر اہل خانہ اور ساتھی تحقیقات کی زد میں اور قانون کے شکنجے میں ہیں لہذا عوام میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ بلاول بھٹو ان کو قانون سے بچانے کے لئے احتجاج کے لئے آمادہ ہوئے ہیں، اور یہ کچھ غلط بھی نہیں ہے ملکی حالات کو دیکھتے ہوئے سیاست کی ابجد سے بھی ناواقف شخص یہی کہے گا لہذا بلاول بھٹو بھی سیاسی بلوغت اور جذبہ حب الوطنی کا مظاہرہ کریں اور بلا وجہ احتجاج کا وطیرہ نہ اپنائیں اب ہمیں وطیرہ بدلنا ہوگا اور انتخابی نتائج کو تسلیم کرنے کی عادت ڈالنا ہوگی ورنہ کوئی حکومت مستقل مزاجی سے کام نہیں کرسکے گی اور وطن عزیز ابتر حالت میں ہی رہے گا اس میں بھی ہمارا ہی نقصان ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں