64

ایک فلم کی کہانی

اخبار ایک زمانے میں زندگی تھے۔اخبار میں چھپنا، اس میں دِکھنا،یہ سب غیر معمولی تھا، اخبار میں لکھنے والوں کی تو بات ہی الگ تھی،وہ لوگ جو اس کارخانہٓ عجائب کے کرتا دھرتا ہوتے، عامیوں کو کسی دوسری دنیا کی مخلوق لگتے۔کچھ ایسی ہی باتیں تھیں جن کے دوش پر اڑتا ہوا میں لاہور جاپہنچا۔اخبارات کے دفاتر دیکھے، ان میں کام کرنے والے دیکھے ، کام کرنے کا انداز دیکھا ، چھوٹی پیالیوں میں بار بار پک کر ایک نیا ذائقہ جنم دینے والی چائے پی اور موقع ملنے پر ان بزرگوں کے آٹو گراف حاصل کیے جن کے نام دور بیٹھ کر پڑھے تھے اور لگتا تھا کہ ہماری دنیا جن لوگوں کے ہاتھوں پر کھڑی ہے،ان میں وہ خوش قسمت بھی شامل ہیں۔بس، اسی دھن میں ایک سہ پہر میں شاہ دین بلڈنگ بھی جاپہنچا۔مقصد تھا، جناب مصطفیٰ صادق کو ایک نظر دیکھنا اور ان کے دستخط حاصل کرنا۔ یہ بدقسمتی تھی کہ گوہر مقصود اس روز وہاں موجودنہ تھا۔کسی نے کہا، انھیں چھوڑو، جمیل اطہر صاحب کے آٹو گراف لے لو،اِن کے دستخط مصطفیٰ صادق صاحب سے زیادہ اچھے اورزیادہ خوب صورت ہیں۔اب یاد نہیں کہ اس صورت حال سے میں کس طرح نمٹا لیکن ایک زمانہ بیت جانے کے بعد جب یہ سب کچھ نئے زمانوں کے نئے ہنگاموں کے انبار تلے جادبا تھا،ایک چھوٹے سے پارسل نے دل کا دامن خوشیوں سے بھر دیا۔میرے ہاتھوں میں ایک کتاب تھی، دیار مجددؒ سے داتا ؒنگر تک،ورق الٹا تو چند جگمگاتے ہوئے الفاظ پڑھنے کو ملے،”فاروق عادل کے لیے محبت کے ساتھ،جمیل اطہر“۔وہ آٹو گراف جو سن بیاسی تراسی میں ایک ناتراشیدہ لڑکے کی قسمت میں نہ آسکا، ادھیڑ عمر میں اس کے ہاتھوں میں تھا اور اس کے ساتھ ایک ایسی داستان جس کا تعلق اس ملک سے ہے، اس ملک میںرہنے والوں سے ہے اور اِس دیس کے ان لوگوں سے ہے جن کے ہاتھ میں کچھ اختیار ہے یا جن کے نوشتے صاحبان اختیار کی دنیا زیرو زبر کرسکتے ہیں۔
ادب اور لٹریچر کی دنیا میں خود نوشت اور سوانح عمری ایک ایسی صنف ہے ، پڑھنے والوں کی فطری طور پر جس میں گہری دلچسپی ہوتی ہے۔ شاید یہی فطر ت کا تقاضا بھی ہے۔ہمارے ہاں یہ صنف کچھ ایسی نظر انداز تو نہیں ہوئی، بہت لوگوں نے اپنی داستان ہائے حیات سے ہمیں مستفید کیا لیکن اس صنف کی ایک بدقسمتی بھی ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہماری تاریخ کے وہ بزرگ اور معاشرے کے وہ خدمت گار جن کی محنت سے اس چمن میں بہار آئی اور مہکتے ہوئے پھول کھلے، وہ اس کی طرف متوجہ نہ ہوسکے یاوقت کے سیلِ رواں نے انھیں اس کی مہلت ہی نہ دی۔ان لوگوں میں صحافی بھی شامل ہیں جنھوں نے اس ملک کی تاریخ بنتے اور بگڑتے دیکھی اور قومی زندگی کے ان رازوں سے آگاہ ہوئے جن کا علم محض چند لوگوں کا ہوگا یا پھر انھیں۔اگر اس طرح کی یاداشتیں لکھی جاتیں تو نہ صرف یہ کہ ہماری قومی تاریخ کا دھارا مختلف ہوتا بلکہ یہ بھی کہ آنے والی نسلیں بھی ان تلخ و شیریں تجربات سے آگاہ ہوسکتیں جن کی کٹھنائیوں سے گزر کر یہ ملک آج ا س حال کو پہنچا ہے۔یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ جناب جمیل اطہر نے اپنی بے شمار پیشہ ورانہ اور کاروباری مصروفیات سے وقت نکال کر یہ کام کرڈالا ہے۔
وطنِ عزیز ان دنوں معاشی بحران کی زد میں ہے جن لوگوں کو خوش قسمتی سے روز گار میسر تھا،آج وہ بے روزگاری کے خدشات میں مبتلا ہیںجو نوجوان نئے نئے تعلیمی اداروں سے نکل کر میدانِ عمل کا رخ کررہے ہیں،انھیں اپنا مستقبل تاریک دکھائی دیتا ہے۔کچھ ایسی ہی صورت حال گزشتہ صدی کی پانچویں دکھائی میں بھی پیدا ہوئی ہوگی جب برصغیر کا سینہ چاک کر کے پاکستان کے نام سے اس خطے کے مسلمانوں کے لیے یہ گوشہ عافیت تخلیق کیا گیا۔جمیل اطہر صاحب نے اپنی تصنیف کی ابتدا میں بھی اپنے پڑھنے والوں کو یہی کچھ بتایا ہے کہ محبوب ربانیٓ کی درگاہ سے ہجرت کرنے والا یہ خاندان اپنے نئے وطن پہنچا تو اسے کیسی کیسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور وہ کیا گیدڑ سنگھی تھی جس کے گھسانے سے دم بہ دم اس خاندان کے لوگ ترقی کرتے گئے اور آگے بڑھتے گئے۔جمیل اطہر صاحب کی سرگزشت کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے اس خاندان کو دو خوبیوں سے نواز رکھا تھا، اوّل محنت اور محنت بھی ایسی کہ خاندان کی خواتین تک خم ٹھونک کر میدان عمل میں اتر آئیں اور مردوں کے شانہ بشانہ سرگرم عمل ہوگئیں۔یوں، سرہند شریف کے قاضیوں کے اس خاندان پر اللہ کی کرم نوازی بڑھتی چلی گئی۔ دوسری خوبی یہ تھی کہ یہ لوگ محنت کرنے سے کبھی نہیں گھبرائے اور چھوٹے سے چھوٹا کام کرنے میں بھی کوئی عار محسوس نہیں کی۔مثال کے طور پر اس کتاب میں سے کئی واقعات پیش کیے جاسکتے ہیں لیکن جس واقعے نے مجھے مبہوت کردیا، یہ ہے کہ جمیل اطہر صاحب کے والد گرامی جس زمانے میں مقامی بلدیہ کے سربراہ تھے، انھوں نے اپنے بیٹے کو ہدایت کی کہ وہ آواز لگا کر شہر میں اخبار فروخت کرے۔بیٹا یہ کام اس کے باوجود کرگزرا کہ اس پر آوازے کسے گئے اور کہا گیا کہ کیا میونسپل کمیٹی کے وائس چیئرمین پر اب ایسا وقت آگیا ہے کہ اس کی اولاد شہر میں اخبار بیچے؟وہ کون لوگ تھے جنھوں نے آوازے کسے، انھیں تو آج کوئی نہیں جانتا لیکن جمیل اطہر کی خدمات کا ایک زمانہ معترف ہے اور وہ لٹا پٹا مہاجرخاندان جس نے نئے ملک میں اپنا کاروبار حیات صفر سے شروع کیا تھا،آج صرف خوش حال نہیں بلکہ اللہ کے فضل وکرم اپنے سیکڑوں ہم وطنوں کو روزگار فراہم کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔یہ کتاب وطنِ عزیز میں چلنے والی مختلف سیاسی تحریکوں کچھ ایسے پہلوبھی ہمارے سامنے لاتی ہے جو حالات کی ستم ظریفی اورطاقت وروں کی کج ادائی کے سبب کبھی قوم کے سامنے نہ آسکے۔یہ کتاب ہمیںاپنے قومی رہنماوٓں اور خواب بیچنے والے قلم کاروں کے انداز فکر و زیست سے بھی آگاہ کرتی ہے۔ مثال کے طور بھٹو صاحب کتنے جذباتی تھے اور ارشاد احمد حقانی جیسے اہل دانش کسی ساتھی کی مدد کرنے میں کس قدر محتاط ہواکرتے تھے۔اِس سرگزشت کے مطالعے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایک زمانے میں ہمارے بزرگوں میں اتنا ظرف تھا کہ وہ دائیں اور بائیں کی نظریاتی تفریق سے بلند ہوکر نہ صرف مل کرکام کرتے بلکہ اخبار تک نکال لیتے جیسے روزنامہ وفاق، جس کے مصطفیٰ صادق صاحب جماعت اسلامی کے سابقین میں سے تھے اور جمیل اطہر صاحب کا رجحان آزاد پاکستان پارٹی کی طرف تھا جس کے بطن سے نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) برآمد ہوئی۔یوں پڑھنے والا جان پاتا ہے کہ زمانے میں پنپنے کا طریقہ کیا ہے۔
یہ سرگزشت اس کسمپرسی کا ایسا پراثر بیان ہے جس سے گزر کر پاکستان کے دور دراز علاقوں کے صحافیوں نے اس ملک میں صحافت کا پودا کاشت کیا اور اپنے خون جگر سے سینچ کر اسے پروان چڑھایا۔یہ کتاب محض ایک سرگزشت نہیں ،واقعات کے پیچ وخم میں گرفتار کرلینے والے ایک دل گداز ناول اورپلک جھپکے بغیر دیکھی جانے والی فلم کی کہانی ہے ، کاش کوئی اسے فلما سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں