59

حکومت اور عوام: اشتراک عمل کی ضرورت

وزیر اعظم عمران خان نے ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم‘ پاکستان اسٹریٹجی ڈائیلاگ اور انٹرنیشنل میڈیا کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سول اور عسکری قیادت میں مکمل ہم آہنگی ہے‘حکومت کو عسکری سمیت تمام اداروں کی حمایت حاصل ہے‘انڈیا تباہی کی راہ پر چل رہاہے ‘بھارت سے فوری جنگ کا خطرہ نہیں ‘ امریکا ‘ایران اور سعودی عرب سے کہاہے کہ جنگ ہمارے لئے مہلک ہوگی ‘امریکا نے افغانستان سے متعلق میراموقف مان لیا‘معاشی اصلاحات کے باعث میڈیا نے شدیدحملے کئے‘ سخت معاشی فیصلوں کی وجہ سے عوام کے سخت رویوں کاسامنا کرناپڑا‘کرپشن ، منی لانڈرنگ کے باعث پاکستان میں مہنگائی اور غربت بڑھی‘ 2019ءپاکستان کا محفوظ ترین اور امن کا سال تھا‘ اس سال سرمایہ کاری میں 70 فیصد اضافہ ہوا‘پاکستان صرف امن کا شراکت دار ہے، ہم کبھی بھی کسی اور کی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے، امن و استحکام کے بغیر پاکستان کی معیشت ترقی نہیں کر سکتی‘ حکومت کے لئے سب سے بڑا چیلنج گورننس کی بہتری کے لئے ریاستی اداروں میں اصلاحات لانا ہے اور اس سلسلے میں کام جاری ہے۔
اس امر میں کوئی شک نہیں کہ دنیا میں تیزی سے ترقی کے لئے امن کو بنیادی اہمیت حاصل ہے جن خطوں یا ملکوں میں جنگ یا جنگ کی سی صورت حال ہے وہاں کے عوام ترقی نہیں کرسکے۔ اب اگر ہم ترقی کے حوالے سے عالمی سطح پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ عالمی سطح پر ترقی یافتہ ممالک چوتھے صنعتی انقلاب میں داخل ہو چکے ہیں جبکہ پاکستان نے اب تک اس باب میں کوئی خاص اقدامات نہیں کیے ہیں۔ جب تک ہم خود کو عالمی سطح سے ہم آہنگ نہیں کریں گے، تب تک ترقی کی منازل طے کرنا دشوار ہی نہیں، ناممکن ہوگا لہٰذا چوتھے صنعتی انقلاب کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لئے پاکستان کو ترقی کی حکمت عملی میں تبدیلی لانا ہوگی۔
وزیراعظم عمران خان کی جانب سے کسی بھی ملک کی جنگ میں حصہ بننے سے انکار اور یہ حکمت عملی کہ ہم امن کے ساتھ ہیں نہایت عمدہ اور مثبت اقدام ہے کیونکہ اس حقیقت سے کسی بھی صورت انکار ممکن نہیں کہ دنیا کی ترقی یافتہ قومی امن کی بنا پر ترقی کی راہیں طے کرتی رہیں اور خاص طور پر وہ قوتیں جو دنیا بھر میں جنگوں میں مصروف رہیں جن میں خاص طور پر امریکہ نمایاں ہے اس نے بھی جتنی جنگیں لڑیں وہ دوسرے ملکوں میں جاکرلڑیں لیکن خود اپنے ملک یعنی امریکہ میں امن و امان کی صورت کو خطرے میں نہیں پڑنے دیا ہاں اس پالیسی سے ان کے بجٹ پرنہایت منفی اثر پڑا لیکن پھر بھی وہ ترقی کی راہیں بہرحال طے کرتے رہے۔ اب بنیادی سوال یہ ہے کہ موجودہ حکومت نے اقتدار میں آکر امن کی راہ پر سفر کا آغاز کردیا اور یہ بھی حقیقت ہے کہ 2019ءمیں ہماری سرمایہ کاری میں ستر فیصد اضافہ ہوا لیکن اس کے باوجود یہ کافی نہیں اب بنیادی سوال یہ ہے کہ ہم ایسا کیا کریں کہ حقیقی ترقی کی جانب سفر کا آغاز کرسکیں۔
پاکستان بائیس کروڑ آبادی کا ملک ہے، جس کی آبادی کا بیشتر حصہ پچیس سال سے یا اس سے کم عمر آبادی پر مشتمل ہے اور ہماری برآمدات صرف 25بلین ڈالر ہیں جبکہ عالمی سطح پر نظر ڈالیں تو سنگاپور جو ہمارے مقابلے میں ایک بہت چھوٹا ملک ہے، جہاں کوئی قدرتی وسائل نہیں اور جس کی آبادی مشکل سے ایک کروڑ ہے وہ 330بلین امریکی ڈالر کی برآمدات کر رہا ہے۔ ہماری برآمدات میں یہ جمود واضح طور پر یکے بعد دیگرے جمہوری نظاموں کی زبردست ناکامی ثابت کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ملک میں جب ترقی کا زمانہ تھا یعنی آزادی کے بعد ان دنوں ہماری بدقسمتی کہ قائد اعظم وہ ایک سال بعد ہی دنیائے فانی سے عازم آخرت ہوئے، بعد میں خان لیاقت علی خان کو بھی صرف ایک سال بعد ہی راولپنڈی کے لیاقت باغ میں قتل کردیا گیا اس کے بعد چند ہی ماہ میں ملک مارشل لاءکا شکار ہوگیا اس طرح پہلے محمد ایوب خان بارہ سال پھر یحییٰ خان چند ماہ اقتدار میں رہے لیکن اس دوران مشرقی پاکستان ہم سے علیحدہ کردیا گیا پھر ذوالفقار علی بھٹو اقتدار میں آئے وہ ایک ذہین اور قابل حکمران تھے لیکن ان سے ایک غلطی ہوگئی کہ انہوں نے مزدوروں کو مغربی ممالک کے مزدوروں جیسے حقوق دینے کے لئے بڑی بڑی صنعتوں اور اداروں کو قومی تحویل میں لے لیا، اس اقدام سے کارکنوں کو یقیناً فائدہ پہنچا کہ نجی اداروں میں جو مزدور ملازمت کے عدم تحفظ کے شکار ہونے کے ساتھ چند روپوں کے عوض کام کرتے تھے ان کی ملازمت کو تحفظ حاصل ہوگیا اور ماہانہ اجرت بھی معقول ہوگئی لیکن بھٹو کے اس اقدام سے ملک میں سرمایہ کاری ٹھپ ہو کر رہ گئی اور سرمایہ کار بیرونی ملکوں کی جانب پرواز کرنے لگے بہرحال بھٹو کا پانچ سالہ دور حکومت جنرل ضیاءالحق کے مارشل لاءپر تمام ہوا پھر گیارہ سال ملک مارشل لاءکے تحت چلا، جنرل ضیاءکے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف اقتدار میں میوزیکل چیئر کا کھیل کھیلتے رہے لہذا ترقی سے دور رہے پھر محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کا سانحہ پیش آیا تو انتخابات میں ایک بار پھر پیپلز پارٹی کا پلڑا بھاری رہا لیکن اب پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ میں سمجھوتہ ہوگیا کہ دونوں اپنی آئینی مدت سکون سے پوری کریں اور یہی ہوا کہ پہلے پیپلز پارٹی نے پانچ سال پورے کئے پھر مسلم لیگ ن نے، لیکن ان دس سالوں میں ملکی ترقی کے لئے کام کرنے کے بجائے ذاتی مفادات کو ترجیح دی گئی جس سے وطن عزیز اقتصادی لحاظ سے مزید زوال کا شکار ہوا اور نوبت بنک کرپٹ ہونے کے قریب پہنچ گئی، پھر انتخابات میں عوام نے تحریک انصاف کو منتخب کیا اور عمران خان نے ملکی معیشت کو سنبھالا دینے کی کوششیں شروع کردیں۔ ان کی کوششیں اب رنگ لانے لگی ہیں لیکن ذاتی مفادات کو ترجیح دینے والا سرمایہ دار ٹولہ اب ان کے خلاف برسرپیکار ہے اور ملک میں مصنوعی گرانی پیدا کرکے اس سازش میں مشغول ہے کہ عوام کو ان کے خلاف کرکے کسی طرح وقت سے پہلے انتخابات کراکے ان کو اقتدار سے باہر کردیا جائے۔
کسی بھی ملک کی ترقی کے لئے مقتدر جماعت کو اپنی پالیسیوں کے مطابق اقتصادی پالیسی پر عمل کرنے کا پورا پورا حق ہونا چاہئے جبکہ ہمارے ہاں وزیراعظم عمران خان کے اقتدار میں آنے کے ایک سال بعد ہی بلاوجہ دھرنے اور احتجاج کا سلسلہ شروع کردیا گیا ،اس طرح کسی بھی ملک کی معیشت میں کسی طرح کی پیش رفت ممکن نہیں۔سابق سیاسی رہنماﺅں کی جانب سے جمہوریت کے قیام کے لیے جو بھی دعوے کیے گئے، سب بے بنیاد رہے۔ جمہوریت کا بنیادی عنصر بلدیاتی اداروں کو مضبوط بنانا اور فنڈز کو نچلی سطح تک پہنچانا ہوتا ہے جبکہ بلدیاتی انتخابات کے سلسلے میں صوبائی حکومتوں کی سخت مزاحمت ان کا فنڈز پر اپنا قبضہ جمائے رکھنے کے ارادوں کا واضح ثبوت ہے جنہیں وہ اقتدار میں رہتے ہوئے ذاتی اثاثوں میں تبدیل کرتے ہیں۔ ماضی میں ہمیشہ قصداً سب سے کم ترجیح تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی اور جدت طرازی کو دی گئی تاکہ جاگیردار اپنا مضبوط شکنجہ برقرار رکھیں اور جمہوریت کے بجائے ”جاگیرداری“ قائم رہ سکے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ موجودہ نظام حکمرانی ختم کیا جائے جس سے لوگوں کو تکالیف کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا۔ اب وزیراعظم عمران خان کا دعویٰ تھا کہ وہ نیا بلدیاتی نظام متعارف کراکے بجٹ کو نچلی سطح تک پہنچائیں گے گو ابھی تک اس پر عمل نہیں ہوا اور یہ بھی حقیقت ہے کہ اس ضمن میں مخالف سیاسی قوتوں نے بھی اعتراضات شروع کردئیے تھے کہ نئے نظام کی کیا ضرورت ہے حالانکہ اصولی طور پر جب ہم نے دیکھ لیا کہ پرانے نظام نے بہتر برسوں میں کچھ نہیں دیا تو پھر اب نئے نظام کو بھی آزمالینا چاہئے، بہرحال تلخ حقیقت یہ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے بھی ابھی تک نئے بلدیاتی نظام کے حوالے سے کوئی عملی اقدام نہیں کیا۔ بہرحال اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ وزیراعظم عمران خان نے اقتصادی پیش رفت کے لئے کئی میدانوں میں کوشش کی ہے جیسے وزیراعظم کی قیادت میں علمی معیشت کے قیام کے اقدامات، انتہائی اہم پروگرام ہے جس سے نئے دور میں داخل ہونے میں مدد فراہم ہو سکتی ہے۔نالج اکانومی ٹاسک فورس کے ذریعے منتخب کردہ ترجیحی شعبوں میں اعلیٰ قسم کی زراعت، صنعتی بائیو ٹیکنالوجی، تیزی سے ابھرتی ہوئی انفارمیشن ٹیکنالوجی، معدنی ترقی اور مرکب تعلیم (اعلیٰ معیار کے آن لائن سکول، کالج اور جامعات کی سطح کے کورسز کو روایتی کورسز کے ساتھ ملا کر پڑھانا) شامل ہیں۔وزیراعظم کی منظوری سے ہماری ٹاسک فورس کے ذریعے ایک اہم منصوبہ شروع کیا گیا جس میں ٹیکس محصول میں اضافے اور ٹیکس کا دائرہ وسیع کرنے کے لیے نادرا کے ساتھ مل کر کام کرنا شامل تھا۔ لیکن اس حقیقت سے بھی نظریں چرانا ممکن نہیں کہ وطن عزیز کو ترقی دینا صرف حکمران کے کام نہیں بلکہ اس میں پوری قوم کو شامل ہونا پڑتا ہے جبکہ ہمارے ہاں چند مافیا ایسے بھی ہیں جنہیں ملک و قوم کی ترقی سے کچھ لینا دینا نہیں وہ صرف اپنے چند سکوں کی خاطر ایسی خرابیاں پیدا کرتے رہتے ہیں جن سے ان کو چند سکے اورمل جاتے ہیں لیکن ملک و قوم کا مستقبل داﺅ پر لگ جاتاہے جیسے حال ہی میں ہوا کہ کبھی آٹے کا بحران شروع کردیا گیا اور کبھی چینی کا جبکہ یہ دونوں ملک میں وافر مقدار میں موجود ہیں اور وزیراعظم عمران خان کو ڈیووس سے اس حوالے سے تحقیقات کا حکم دینا پڑا یعنی جب وزیراعظم بیرون ملک کسی خاص مقصد کے لئے دورے کے دوران بھی ملکی مسائل میں الجھا رہے گا تو کیسے ممکن ہے کہ وہ اپنی پالیسیوں سے مطلوبہ نتائج سے قوم کو خوش حال کرسکے تو ضرورہمیں من حیث القوم حالات سے مایوس ہونے کے بجائے اللہ پر ایمان کامل رکھتے ہوئے حکومت کا بھرپور انداز میں ساتھ دینا چاہئے کیونکہ تنہا حکومت بھی کچھ نہیں کرسکے گی درحقیقت کام کا آغاز حکومت ہی کرتی ہے لیکن اس کو پایہ تکمیل تک عوام مل کر پہنچاتے ہیں تبھی مثبت نتائج حاصل ہوتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں