193

عمران خان بنام نریندر مودی

وزیراعظم عمران خان نے میر پور میں یک جہتی کشمیر ریلی سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو وارننگ دی اور کہا ہے کہ مودی کسی غلط فہمی میں نہ رہنا، پاکستان پرحملہ تمہاری آخری غلطی ہوگی‘ لگتاہے مودی نے دنیاکی تاریخ نہیں پڑھی یا ان کی ڈگری جعلی ہے ‘ہماری فوج منجھی ہوئی ہے، دنیا کی بڑی بڑی فوجیں وہ جنگ نہیں جیت سکیں جو ہماری فوج نے جیتی‘ نفرت کا پرچار کرنے والے سے امن کی امید نہیں کی جاسکتی‘پاکستان میں کوئی موت سے نہیں ڈرتا، ہم اللّٰہ پر ایمان رکھتے ہیں‘ہم تمہارامقابلہ کرکے دکھائیں گے ‘ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو زیادہ عرصہ نہیں رہ سکتا جس دن کرفیو اٹھا انسانوں کا سمندرباہرنکلے گااورایک ہی نعرہ گونجے گاجوآزادی کا نعرہ ہوگا‘ اس کے بعد مودی کے پاس کوئی اور پتہ کھیلنے کے لیے نہیں رہے گا۔
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی جن کا آبائی پیشہ چائے فروخت کرنا تھا اور ایک ڈھابے پر وہ چائے بنا کر فروخت کر کے روٹی کمایا کرتے تھے اپنے انتہا پسند خیالات کی وجہ سے آر ایس ایس کے رکن بن گئے پھر جیسے غالب نے کہا تھا کہ رنگ لائے گی اپنی فاقہ مستی ایک دن ویسے ہی ان کے دہشت گردی پر مبنی خیالات ایک دن رنگ لے آئے اور یہ آرایس ایس کی سیڑھی پر پاﺅں رکھ کر صوبہ گجرات کے وزیراعلیٰ بن گئے، اور اپنی وزارتِ اعلیٰ کے ایام میں انہوں نے دہشت گردی کی جو نئی نئی اقسام متعارف کرائیں ان سے انسانیت کی دنیا میں تو ان کا درجہ انتہائی پستی پر چلا گیا اور امریکہ سمیت دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک نے ان کو ویزا دینے پر پابندی عائد کردی کیونکہ انہوں نے آر ایس ایس کے غنڈوں کو کھلی چھوٹ دے دی اور جیسے نازی جرمنی میں ہٹلر نے گستاپو کو کھلی چھوٹ دے کر عوام کا قتل عام کرایا تھا ویسے ہی مودی نے گجرات میں دو ہزار مسلمان مرد، خواتین اور بچوں کو اتنے اذیت ناک طریقے سے قتل کرایا کہ اس پر انسانیت بھی کانپ اٹھی۔ بہرحال برائی برائی کو بڑھاوا دیتی ہے، مودی بھی اپنی دہشت گردی اور ہندوتوا کے حامی ہونے کی بنا پر بھارتی دہشت گردوں میں نمایاں مقام پاتے گئے اور اب بھارت میں دہشت گردی با این جا رسید کہ بھارت کی آزادی کے ہیرو اور ہندو قوم کے باپو موہن داس کرم چند المعروف مہاتما گاندھی کے قاتل نتھو رام گوڈسے کو ہیرو بنایا جارہا ہے، واضح رہے کہ مہاتما گاندھی کو 30 جنوری 1948ءکو برلا ہاوس (موجودہ گاندھی سمرتی) میں قتل کیا گیا جہاں گاندھی کسی مذہبی میل ملاپ میں اپنے خاندان کے ساتھ موجود تھے، اس جگہ ہندو مہاسبھا سے تعلق رکھنے والا ایک انتہا پسند و قوم پرست ہندو نتھو رام گوڈسے پہنچا اور اس نے موہن داس گاندھی پر گولی چلائی۔ حادثہ کے بعد گاندھی کو فوراً برلا ہاوس کے اندر لے جایا گیا مگر تب تک وہ دم توڑ چکے تھے۔ اس حملے سے پہلے ان پر پانچ مزید حملے بھی ہوئے تھے مگر ان سب میں قاتل ناکام رہے۔ ان میں سب سے پہلی ناکام کوشش 1934ءمیں کی گئی تھی۔ آج گوڈسے بھارت کا ہیرو بن رہا ہے اور نریندر مودی کو پاکستان سے کیا دشمنی ہے اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ گوڈسے نے گاندھی کو کیوں قتل کیا ، درحقیقت گوڈسے کا خیال تھا کہ گاندھی جی کےانے کابینہ کو اس بات پر مجبور کیا کہ وہ 550 ملین روپے نقد 13 جنوری 1948ءکو پاکستان کے حوالے کرے، (اور نو آزاد بھارت کی حکومت 200 ملین روپوں کی پہلی قسط پاکستان کے حوالے کربھی چکی تھی۔ تاہم آزادی کے فوراً بعد جب پاکستان کی سرحد سے قبائلی جوانوں نے کشمیر پر حملہ کیا، جس کے متعلق دعوٰی کیا گیا کہ ان لوگوں کو پاکستان کی پشت پناہی حاصل ہے، تب دوسری قسط کو روکنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ گوڈسے اور ان کے احباب یہ محسوس کرنے لگے کہ ان اقدامات کے ذریعہ بھارت کے ہندووں کی قیمت پر پاکستانی مسلمانوں کی خوشنودی حاصل کی جا رہی ہے۔ گاندھی اور جواہر لال نہرو کے اس فیصلے سے ولبھ بھائی پٹیل کو بھی استعفٰی دینا پڑا تھا۔ ایک دلچسپ بات یہ بھی تھی کہ گاندھی کا ہندو مسلم امن کے واسطے اپواس پاکستان کو پیسے دینے کے کابینی فیصلے کے بعد بھی تین دن تک جاری رہا۔ اب قابل غور امر یہ ہے کہ نریندر مودی سمیت اس گوڈسے کے پیرو کار آر ایس ایس کے یہ دہشت گرد پاکستان اور مسلمانوں کے کس قدر دشمن ہوں گے تبھی وہ مسلمانوں پر تشدد کرتے وقت بالکل وحشی ہوجاتے ہیں اور ان کے دل میں رحم کی ایک رمق بھی نظر نہیں آتی۔
یہی نریندر مودی جب بھارت کی وزارت عظمی کے منصب پر بیٹھے تو ان کے دل میں پوشیدہ پاکستان سے نفرت عود کرآئی اور اب انہوں نے پاکستان کو توڑنے کے خواب دیکھنا شروع کردئیے اور اس مقصد کے لئے ہماری اس وقت کی سیاسی قیادت سے پینگیں بڑھانا شروع کردیں، میاں نواز شریف کی حب الوطنی پر کوئی شک نہیں لیکن وہ تاجر اور صنعت کار ہونے کے ناطے اس میدان میں چکر میں آگئے لیکن پھر اس سے قبل کہ مودی اپنی سازش میں کامیاب ہوتے انتخابات میں عمران خان سامنے آگئے، اس پر نریندر مودی کو مایوسی ضرور ہوئی لیکن وہ اپنی چال بازیوں سے باز نہ آئے اور اپنے انتخابات میں پاکستان مخالف جذبات ابھار کر بڑی کامیابی حاصل کی اور پھر 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر پر ناجائز قبضہ کرنے کی سازش کردی ساتھ ہی بھارت میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو نکیل ڈالنے کے لئے شہریت کا قانون متعارف کرادیا، یاد رہے کہ مسلمانوں سے دشمنی ان کی نسلی ہے جو نتھو رام گوڈسے سے ان کو ملی اور یہ اتنی سنگین ہے کہ گوڈسے نے اپنے باپو کو بھی نہیں چھوڑا تھا۔
نریندر مودی اور ان کے آرمی چیف پاکستان کو دھمکیاں دیتے رہے، مودی نے کہا کہ وہ گیارہ روز میں پاکستان کو فتح کرلیں گے اور ان کے نئے آرمی چیف نے کہا کہ اگر بھارتی پارلیمنٹ اشارہ کرے تو وہ آزاد کشمیر کو فتح کرلیں، یہ دیوانوں کے خواب دیکھنا بہت آسان ہیں لیکن ان کی تعبیر قیامت تک نہیں ملے گی، وزیراعظم عمران خان نے سو فیصد درست کہا ہے کہ مودی! ایسی حماقت کی تویہ تمہاری آخری غلطی ہوگی کیونکہ حقیقت میں ہمارا بچہ بچہ وطن عزیز کی حفاظت میں اپنی جان نچھاور کرنے کو تیار ہے، ویسے عوام کی تو ضرورت ہی نہیں پڑے گی ہماری تو فوج ہی اللہ کے فضل و کرم سے اتنی دلیر ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جو جنگ عالمی قوتیں مل کر نہیں جیت سکیں اللہ کے فضل سے پاک فوج نے تنہا وہ معرکة الآرا مقابلہ سر کرلیا اور آج پاکستان میں ہر طرف امن کی فاختہ محو پرواز نظر آتی ہے۔ اب مسئلہ صرف سیاسی ہی نہیں رہا بلکہ وزیراعظم عمران خان کے بیان کے فوری بعد بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیرصدارت کور کمانڈرز کانفرنس کے شرکاءنے بھارتی قیادت کی طرف سے اشتعال انگیز اورغیرذمہ دارانہ بیانات کی مذمت کی اور بھارت کو چتاﺅنی دیتے ہوئے کہا کہ ایسے بیانات خطے کے امن کے لئے نقصان دہ ہیں‘افواج پاکستان کسی بھی مہم جوئی کا جواب دینے کے لیے ہمہ وقت تیارہیں جبکہ آرمی چیف نے کہا کہ قابض بھارتی افواج کشمیریوں کی حق خودارادیت کی تحریک کو دبا نہیں سکتیں‘ کشمیریوں کی جدوجہد کامیاب ہوگی۔
وزیراعظم عمران خان، آرمی چیف جنرل قمر جاویدباجوہ اور کور کمانڈرز کے یہ بیانات بھارت کے لئے انتباہ ہیں، کہ اب بھارت کی مزید دہشت گردیاں برداشت نہیں کی جائیں گی کیونکہ ان دہشت گردیوں سے صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ بھارت میں رہائشی دیگر اقلیتیں اور خود تعلیم یافتہ اور روشن فکر ہندو بھی نالاں ہیں اور اب ہندوتوا کے حامیوں کے شکنجے میں ظلم برداشت کرنے پر مجبور ہیں۔ نریندر مودی سوچ لیں کہ اگر پاک فوج نے قدم بڑھادیا تو بھارت کی نصف سے زائد آبادی ہمارے ساتھ ہوگی اس وقت مودی، آرایس ایس کے غنڈے اور بی جے پی کے دہشت گرد کہاں جائیں گے کیا کریں گے اور کہاں پناہ پائیں گے؟ بہتر ہے کہ ایسا کوئی وقت آنے سے قبل ہی انسانیت کی راہ پر آجائیں اور شرافت سے مقبوضہ کشمیر کے عوام کو حق خود ارادیت دیتے ہوئے وہاں رائے شماری کرائیں پھر کشمیری عوام جس رائے کا اظہار کریں اس کے مطابق ان کو جینے کا حق دیں، ایسا کرنے سے خطے میں دو ایٹمی قوتیں بھارت اور پاکستان شِیر و شکر بن کر رہیں گے اور ایک دوسرے کی ترقی کے لئے زینے کا کردار ادا کریں گے اس سے نہ صرف بھارت اور پاکستان بلکہ یہ پورا خطہ ترقی کی منازل تیزی سے طے کرتے ہوئے اس اوج پر پہنچ جائے گا جہاں کی تمنا ہر ملک کی قیادت کرتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں