185

وزارت عظمیٰ کے اعلیٰ منصب کے تقاضے

وزیر اعظم عمران خان نے جمعہ کے روز وزیراعظم ہاﺅس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوج سب جانتی ہے، پیسے بنا رہا ہوں نہ کرپٹ ہوں، دن رات محنت کر رہا ہوں اسی لئے فوج سے نہیں ڈرتا، وہ میرے ساتھ کھڑی ہے، میری تنخواہ دنیا کے کسی بھی دوسرے وزیراعظم سے کم ہے۔
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ وزیراعظم عمران خان وزارت عظمیٰ کے منصب پر کام کرتے ہوئے نہایت دیانت داری کا مظاہرہ کررہے ہیں اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ ان کا ماہانہ مشاہرہ دیگر وزرائے اعظم سے کہیں کم ہے جبکہ وہ اپنے اخراجات بھی قومی خزانے پر نہیں ڈال رہے بلکہ خود اپنی جیب سے ادا کررہے ہیں اور نہ ہی انہوں نے کیمپ آفسز کی بھرمار رکھی ہوئی ہے اس لحاظ سے یہ کہا سو فیصد بجا ہوگا کہ عمران خان نہایت کفایت شعاری کے ساتھ قومی دولت استعمال میں لارہے ہیں لیکن یہاں ایک مجبوری اور بھی ہے کہ وزیراعظم عمرا خان کی دیانت داری اپنی جگہ لیکن قومی قیادت کے لئے دیانت داری بنیادی اہمیت کی حامل ضرور ہے لیکن صر ف دیانت داری کے بل پر حکومت نہیں چلائی جاسکتی، حکومت چلانے کے لئے سب سے پہلے کانوں کا پکا ہونا، زیرک، معاملہ فہم، ہر بات کو اس کے وقت پر کرنا اور بر وقت درست فیصلے کرنا نہایت ضروری ہے جبکہ عمران خان کام کی باتیں بے وقت کر کے ان کی اہمیت کھو دیتے ہیں جیسے حال ہی میں انہوں نے مولانا فضل الرحمان کے خلاف آرٹیکل چھ حرکت میں لانے کی بات کی حالانکہ اسی روز ترک صدر طیب اردوان نے قومی اسمبلی سے خطاب کیا تھا اور پوری اپوزیشن نے حکومت کے ساتھ مل کر اس خطاب کو سنا تھا اس موقع پر عمران خان کو اپوزیشن کی تعریف کرنی چاہئے تھی نہ کہ آرٹیکل چھ لگانے کی باتیں کرنا چاہئیں تھیں، اسی طرح ماضی میں بھی عمران خان نے درست باتیں غلط وقت پر کیں اور پھر ان کے منفی نتائج کا سامنا کرنا پڑا۔
وزیراعظم چونکہ پہلی مرتبہ اقتدار میں آئے ہیں لہذا یہ حقیقت ہے کہ انہوں نے وزیراعظم کے آداب نشست و برخواست اور گفتگو کا انداز نہیں آتا تو اس کو سیکھ لینے میں کوئی حرج بھی نہیں ہے بلکہ یہ خود ان کے حق میں بہتر ہوگا، وہ بار بار اور ہر جگہ کرپشن کا راگ الاپتے ہیں یہ بھی وزیراعظم کے منصب کو زیب نہیں دیتا کیونکہ اب جب وہ کرپشن کارونا روتے ہیں تو درحقیقت اپنی ناکامی کی بات کرتے ہیں کہ وہ ڈیڑھ سال سے زائد عرصے سے اقتدار میں ہیں تو انہوں نے آج تک کرپشن ختم کیوں نہیں کی؟ اور ایسی ہی مزید ایسی بے شمار باتیں ہیں جن کے حوالے سے عمران خان کو تربیت لینے کی ضرورت ہے اور یہ تربیت حاصل کرنا خود ان کے اور قوم کے مفاد میں ہے۔جہاں تک دیگرسیاست دانوں کی کرپشن کا تعلق ہے توخفیہ اداروں کو نوازشریف اور زرداری کی کرپشن کا علم تھا، لیکن ان کے ہاتھ اس حلف کے تحت بندھے ہوئے تھے جو وہ فوج میں بھرتی ہوتے وقت لیتے ہیں کہ سیاسی حکومت کے وفاداررہیں گے، ورنہ اگر فوج کو یہ اختیار دے دیا جائے کہ وہ کسی بھی کرپٹ اور بدعنوان سیاست دان پر ہاتھ ڈال کر اس کو پس زنداں کرکے لوٹی ہوئی دولت واپس لے لے تو پھر وطن عزیز میں کبھی کوئی کرپشن یا بدعنوانی کر ہی نہ سکے وہ خواہ سیاست دان ہو یا بیوروکریٹ ویسے بھی سیاست دان یا وزیر اس وقت تک بدعنوانی کر ہی نہیں سکتے جب تک کہ بیوروکریٹ کو ساتھ نہ ملالیں اور ساتھ ہی اوپر سے نیچے تک پورے ادارے کو خراب نہ کردیں۔ یہی وجہ ہے کہ فوج اور خفیہ ادارے سیاست دانوں کی کرپشن کے حالات سے کماحقہ واقفیت رکھنے کے باوجود اپنے حلف کے ہاتھوں مجبور رہے اور صرف گھر لٹنے کا تماشا دیکھتے رہے لیکن جب سے عمران خان اقتدار میں آئے ہیں تو اس وقت سے فوج بھی بہت زیادہ فعال ہوگئی ہے اور عوام دیکھ رہے ہیں کہ بیرونی دنیا سے کوئی بھی قیادت آئے وہ سیاسی اکابرین کے علاوہ آرمی چیف سے ضرور ملاقاتیں کرتی ہے یہ اس امر کا بیّن ثبوت ہے کہ عسکری اور سیاسی قیادت کی ایک ہی زبان اور ایک ہی موقف ہے، جو بہرحال ملک و قوم کے مفاد میں ہے لیکن شرط یہ ہے کہ اب اپوزیشن ان کو سکون کے ساتھ حکومت کرنے دیں اور لوٹی گئی قومی دولت واپس وصول کرنے دیں اس دوران کسی قسم کا احتجاج نہ کریں جبکہ مولانا فضل الرحمان سے اب بھی صبر نہیں ہورہا اور وہ ہلکی پھلکی موسیقی کا پروگرام جاری رکھنا چاہتے ہیں جس سے ان کو تو کوئی فائدہ نہیں ہوگا البتہ قومی نقصان ضرورہوگا۔ وزیراعظم نے کہا کہ بجلی کی قیمت مزید نہیں بڑھائیںگے، مہنگائی کی تحقیقات کررہے ہیں، وجوہات سامنے لائیںگے،گندم اور چینی کے بحران میں جہانگیر ترین اور خسرو بختیار کا نام نہیں، بہت سی باتیں کہنا چاہتا ہوں، وزیراعظم ہوں اس لئے نہیں کہتا۔یہ بھی غنیمت ہے کہ اس مرتبہ حکومت نے آئی ایم ایف کے وفد سے ٹھوک بجاکر بات کی اور بجلی کے نرخ میں مزید اضافہ کرنے سے صاف انکار کردیا اور اس موقع پر عوام کی مجبوریوں کو سامنے رکھا اور یہ بھی اللہ کا شکر ہے کہ آئی ایم ایف کے ارکان بھی حکومتی مجبوریوں کو سمجھ گئے اور انہوں نے حکومت کے مطالبے کو تسلیم کرلیا۔ باقی رہا گندم اور چینی بحران کا سوال تو یہ بھی حقیقت ہے کہ اس میں جہانگیر ترین اور خسرو بختیار کا ہاتھ نہیں کیونکہ احمق سے احمق شخص بھی حکومت میں ہوتے ہوئے ایسی حماقت نہ کرتا جبکہ یہ دونوں ذہین افراد ہیں، البتہ اپوزیشن اپنے قائدین کو بچانے اور ان کو بدنام کرنے کے لئے بار بار ان کا نام لے رہی ہے جو ظاہر ہے کہ اپوزیشن کا پرانا وطیرہ ہے لیکن حکومت اس ضمن میں بھی جلد وائٹ پیپر شائع کرے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے اور اصل حقائق سامنے آجائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں