56

معاشی ترقی کی منزل حاصل ہونے تک

معاشی ٹیم کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ہماری اولین ترجیح معاشی نظام کو مستحکم بنیادوں پر چلانا ہے جس کے نتیجے میں روزگار کے مواقع پیدا ہو ںگے، سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا اور مقامی صنعتوں کو فروغ ملے گا۔
وزیراعظم کے خیالات نہایت امید افزا اور وقتی تقاضوں کے عین مطابق ہیں، اس وقت وطن عزیز میں معاشیات کی جو دگردوں حالت ہے اس کا تقاضہ یہی ہے کہ فوری طور پر ایسی اقتصادی پالیسی سامنے لائی جائے جس سے ہلکورے کھاتے کاروبار کوکچھ سہارا دیا جانا ممکن ہو، کیونکہ اس وقت وطن عزیز میں جاری تمام صنعتوں کی حالت بیمار صنعتوں کی سی ہوگئی ہے، کاروباری حضرات کاروبار کرنے پر آمادہ نہیں جو پہلے سے قائم صنعتوں کو چلانے میں شدید ترین مشکلات کا سامنا کررہے ہیں اور اب وزیراعظم کی معاشی ٹیم کی بعض سخت شرائط کے خلاف سراپا احتجاج ہیں اور یہ احتجاج اس شدت سے کیا جارہا ہے جیسے کسی بیمار صنعت کے مزدور کرتے ہوں یعنی تاجروں کے احتجاج میں آنسو گیس، ڈنڈا اور شائد پانی کی توپ بھی چلائی گئی ہو تاکہ احتجاجی تاجروں کو تتر بتر کیا جاسکے۔ اب جب وطن عزیز میں اقتصادی حالت اس حد تک دگرگوں ہوجائے کہ تاجر اور صنعت کار محض ٹیکس جمع کرنے کی بعض ہدیات پر عمل کو مشکل قرار دیں اور جب حکومت اپنے اس موقف پر ڈٹی رہے تو کاروباری حضرات احتجاج پر اتر آئیں تو پھر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حکومت کی بیمار صنعتوں کو چلانے کی خواہش دیوانے کاخواب ہی قرار دی جاسکتی ہے، بندہ خدا پہلے جاری صنعتوں اور کاروبار کو تو قائم رکھنے کی تدبیرکریں بند صنعتوں کو چلانے کی فکر تو بعد کی ہے۔
بیمار صنعتوں کی بحالی کے حوالے سے وزیر اعظم کوآگاہ کیا گیاکہ کل 687 ایسے یونٹس ہیں جن کو فوری طور پر بحال کرنے کے لئے اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت ان کی بحالی ممکن ہو سکے گی۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ 60 دن کے اندر ایک مفصل منصوبہ بندی کے تحت ان یونٹس کو بحال کرنے کے لیے جن قوانین اور انتظامی اصلاحات کی ضرورت ہے، ان کو مکمل کیا جائے۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ پرائیویٹ سیکٹر کو ایس ایم ایز کے فروغ کے لئے شامل کیا جائے۔ کاروبار میں آسانیاں پیدا کی جائیں تاکہ سرمایہ کار کسی دقت یا ہچکچاہٹ کے بغیر سرمایہ کاری کر سکیں۔ مقامی سطح پر چھوٹے صنعتی یونٹس کو ترجیح دی جائے تاکہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ ایک ہفتے میں ایس ایم ایز کے فروغ کے لئے مکمل ایکشن پلان پیش کیا جائے جس میں مختلف ٹارگٹ مکمل کرنے کے لیے مخصوص میعاد کا تعین شامل ہو۔
وزیراعظم عمران خان کے اس موقف سے کوئی اختلاف نہیں کرسکتا کہ اس وقت وطن عزیز میں ایسی چھوٹی اور گھریلو صنعتوں کے قیام کی ضرورت ہے جن سے روزگار کے مواقع پیدا کئے جاسکیں اور وطن عزیز میں شتر بے مہار کی مانند پھیلتی ہوئی بے روزگاری پر قابو پایا جاسکے لیکن مسئلہ پھر وہی مرغ کی ایک ٹانگ کا آجاتا ہے کہ جب ایف بی آر کے ارباب اختیار ٹیکس وصولی کے لئے عائد کردہ اپنی ان شرائط پر بضد ہوں جن کے بارے میں تاجراور صنعت کار حضرات کہہ چکے ہوں کہ ان پر عمل کرنا ممکن نہیں اور پھر حکومت کے اصرار پر تاجر حضرات اپنا اپنا کاروبار چھوڑ کر اسلام آباد میں احتجاج کرنے لگے ہوں تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ وزیراعظم اپنے ذہن میں پکنے والی کھچڑی کو حقیقت کا روپ دے سکیں، پہلے سے قائم صنعتوں کو تو بحال رکھنے کا انتظام کرلیں نئی صنعتوں کا قیام تو بعدکی بات ہے، حقیقت یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان سے عوام نے جو توقعات وابستہ تھیں وہ سراسر ان کے خلاف نکلے ہیں، انہوں نے دھرنے کے دوران کنٹینر پر کھڑے ہوکر عوام سے جو وعدے اور دعوے کئے تھے ان میں سے اب تک کسی ایک پر بھی پیش رفت نہیں ہوسکی، اور یہ حقیقت بھی خواہ کتنی ہی تلخ کیوں نہ ہو لیکن اس کا اقرار کئے بغیر نہیں رہا جاسکتا کہ عمران خان کی مقرر کردہ ٹیم میں منتخب افراد تو چیدہ چیدہ ہی نظر آتے ہیں باقی تمام افراد ایسے ہیں جو عوام میں اس حد تک اختلاف پیدا ہونے پر کہ وہ احتجاج پر اتر آئیں، خاموشی سے اپنا بریف کیس اٹھاکر پاکستان سے نکل جائیں گے اس صورت میں جواب دہی کے لئے یہاں صرف عمران خان ہی رہ ہی جائیں گے جو کسی بھی صورت جواب دہی نہیں کرپائیں گے کیونکہ جن کا کیا دھرا ہوگا وہ خود تو یہاں موجود نہیں ہوں گے۔ اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اب یہ شکایت عام ہے کہ عمران خان کے احکامات پر عمل درآمد نہیں ہوتا، یہ بدانتظامی کی بدترین مثال ہے، عمران خان کو کم از کم اپنے فیصلے پر عمل درآمد کو یقینی ضرور بنانا چاہئے اور جو عمل نہ کرے اسے فوری طور پر اپنی ٹیم سے نکال دینا چاہئے تاکہ دیگر کو کان ہوجائیں کہ اگر انہوں نے وزیراعظم کے حکم پر عمل نہ کیا تو ان کی بھی چھٹی ممکن ہے۔
تعمیرات سیکٹر کے لیے مراعات فراہم کرنے کے حوالے سے بتایا گیا کے اس شعبے سے متعلقہ صنعتوں کو جلد ٹیکس مراعات دے دی جائیں گی۔ اسٹیل اور سیمنٹ صنعتوں کے سیلز ٹیکس کے حوالے سے وزیر اعظم نے مشیر خزانہ کو ہدایت کی کہ وہ ایف بی آر، نیا پاکستان ہاﺅسنگ اتھارٹی اور صوبائی حکومتوں سے مل کر لائحہ عمل ترتیب دیں اور اگلے ہفتے تک رپورٹ پیش کریں۔ یہ بھی خوب رہی یہاں میر تقی میر کا ایک شعر منطبق آتا ہے کہ : میر کیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں۔ کیونکہ جہاں تک تاجر اور صنعت کار برادری کی مشکلات کا سوال ہے تو یہی لوگ تو ان کی راہ میں مشکلات پیدا کرنے کا سبب ہیں یعنی ایف بی آر اور اقتصادی ٹیم کے دیگر افراد اور اب عمران خان ہاﺅسنگ اتھارٹی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ انہی کو مل کر لائحہ عمل ترتیب دینے کا حکم دے رہے ہیں ظاہر ہے کہ ان کی جانب سے مشورے میں جو ترجیحات قائم کی جائیں گی وہ تاجر برادری کو قبول نہیں ہوں گی اور اگر ایف بی آر اور دیگر اقتصادی ادارے ایسی شرائط سامنے لائیں جن پر پیش رفت ممکن ہو تو پھر پرانی صنعتیں ہی اس انداز میں فعال ہوجائیں گی کہ نئی صنعتوں کی بحالی کے لئے اقدامات کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ وہ مثبت حالات ان کو از خود بحال کردیں گے۔ جیسا کہ وزیراعظم عمران خان نے فرمایا ہے کہ معاشی نظام کو مستحکم بنیادوں پر چلانا اولین ترجیح ہے جس کے نتیجے میں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔وزیراعظم کو بتایا گیا کہ ایس ایم ایز میں اس وقت سرمایہ کاری، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی کمی، ہنر مند افراد کی کمی ، قوانین میں تبدیلی ، سمیڈا میں اصلاحات، ریسرچ کا فقدان جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ اجلاس میں تعمیرات سیکٹر کے لیے مراعات فراہم کرنے کے حوالے سے بتایا گیا کہ اس شعبے سے متعلقہ صنعتوں کو جلد ٹیکس مراعات دے دی جائیں گی۔اس موقع پر وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھاکہ معاشی نظام کو مستحکم بنیادوں پر چلانا ہماری اولین ترجیح ہے جس کے نتیجے میں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، جب کہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا اور مقامی صنعتوں کو فروغ ملے گا، کاروبار میں آسانیاں پیدا کی جائیں تاکہ سرمایہ کار کسی دقت یا ہچکچاہٹ کے بغیر سرمایہ کاری کر سکیں۔ مقامی سطح پر چھوٹے صنعتی یونٹس کو ترجیح دی جائے تاکہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ جن یونٹس کو بحال کیا جاسکتا ہے 60 دن کے اندر ایک مفصل منصوبہ بندی کے تحت ان یونٹس کو بحال کرنے کے لیے جن قوانین اور انتظامی اصلاحات کی ضرورت ہے ان کو مکمل کیا جائے۔اس امر میں کوئی شک نہیں کہ وزیراعظم کی خواہشات انتہائی مثبت اور وطن عزیز کی ترقی کی خواہش کی عکاس ہیں، اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ عمران خان عوام کی اقتصادی حالت میں بھی پیش رفت کے خواہاں ہیں اورقومی اقتصادی ترقی کے لئے ٹیکس کے نظام میں اصلاحات لازمی ہیں کہ عوام میں ٹکیس دینے کا رجحان پیدا ہو، کیونکہ بائیس کروڑ کی آبادی میں ایک رپورٹ کے مطابق آٹھ لاکھ افراد ٹیکس ریٹرن جمع کراتے ہیں جبکہ ان میں سے ٹیکس ادا کرنے والے مزید کم ہوتے ہیں، ظاہر ہے کہ دنیا کا کوئی بھی ملک صرف ٹیکس اور مالیات پر ہی اپنی بقا کو یقینی اور مضبوط بناتا ہے، حالانکہ ہمارے ہاں عوام کنجوس نہیں ہیں کیونکہ یہی عوام کسی مشکل میں دل کھول کر امداد دیتے ہیں عام حالات میں بھی مخیر حضرات مستحق افراد کے لئے بہت کچھ کرتے رہتے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عوام کنجوس نہیں لیکن انہیں حکومت پر اعتماد نہیں کہ وہ لیا گیا ٹیکس صحیح معنی میں عوام کی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر ہی خرچ کرے گی، اب عمران خان کو عوام میں یہ اعتماد پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اور اعتماد پیدا کرنے کے بعد پھر ٹیکس کی شرائط میں سختی برتنی چاہئیے، ورنہ کچھ نیا نہیں ہوگا سارا نظام ماضی کی طرح ہی چلتا رہے گا، اور عوام کی اکثریت مجبور محض بن کر زندگی گزارتی رہے گی یا پھر لنگر خانوں پر انحصار رہے گا۔ یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان ڈاکٹر رضا باقر نے کہا ہے کہ مہنگائی کے مزید جھٹکے لگ سکتے ہیں اس لئے عوام صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں اور مثبت سوچ رکھیں، مہنگائی کم کرنا ہمارا مقصد ہے جو کچھ وقت میں کم ہوجائے گی تاہم مسائل کافی بڑے ہیں جنہیں حل کرنے میں وقت لگے گا ، ہماری صورت حال مشکل تھی اور ڈیفالٹ بھی ہوسکتا تھاجس پر ہم نے معیشت کے لئے مشکل فیصلے کیے اور اب صورت حال دن بدن بہتر ہو رہی ہے، ماہانہ کرنٹ اکاونٹ خسارہ نصف رہ گیا ، ایف بی آر سے تعاون کریں۔ جب صورت حال یہ ہو کہ اتنی گرانی کے بعد پھر مزید گرانی کی بدخبری دے دی جائے تو عوام کیسے ٹیکس دیں اور کہاں سے شکم سیر کریں ان مشکل حالات سے حکومت کو بھی نمٹنا چاہئے اور عوام کو کچھ سہولت تو ضرور دینی چاہئے تاکہ معاشی ترقی کی منزل حاصل ہونے تک عوام زندہ رہ سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں