irfan atahr qazi 132

کہانی ایک اخباری کارکن کی

یارب العالمین! آپ نے مجھے اس دنیا میں جو رتبہ، مقام، عزت ، شہرت عطا کی میں اس کا ہزار بار سجدہ ریز آپ کا شکر گزار ہوں کہ آپ نے مجھ جیسے بے بس، بے وسیلہ، ناتواں، کمزور انسان کو ہزاروں، لاکھوں لوگوں سے بہتر زندگی میں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کئے اورمجھے چند سو خاندانوں کی کفالت کا وسیلہ بنایا۔ یارب العالمین! میرے پاس شکر گزاری کے لئے الفاظ نہیں۔ میں گنہگار، خطا کار ، بے وسیلہ انسان اس قابل نہیں تھا جس طرح آپ نے اپنی نعمتوں سے مجھے نوازا۔ میرے آباﺅ اجداد دیانت دار، امانتوں کے امین، میں ان امانتوں کا وارث۔ یا رب العالمین! آج میرے کمزور کندھوں پر ان امانتوں کی حفاظت کی ذمہ داری آن پڑی ہے کہ میں اپنی ساکھ بچاﺅں یا اپنے سے جڑے غریب کارکنوں کا روزگار؟ بہت بڑا امتحان آج میرے کندھوں پر آن پڑا ہے۔ کئی دنوں سے ان سوچوں میں گم تھا کہ کن الفاظ میں آپ سے اپنے دل کی باتیں کروں؟ کیسے اپنی التجا آپ تک پہنچاﺅں؟ انہی خیالات میں گم اپنے دفتر میں بیٹھا تھا کہ ایک بار پھر ایک بے روزگار اخباری کارکن کی آنکھوں سے گرنے والے آنسوﺅں نے مجھے جھنجھوڑ کررکھ دیا اور مجبور کیا کہ آپ سے رو رو کر فریاد کروں کہ اے میرے پیارے رب! میری خطائیں معاف کر دے۔ میں نے توکبھی اپنے دروازے پر آنے والے کسی بے روزگار ، ضرورت مند کو مایوس نہیں لوٹایا تو پھر آج میں نے کیسے اس باریش نوجوان نما بوڑھے کارکن کو انکار کر دیا۔ میرے مولا مجھے معاف کردے۔ میری خطائیں بخش دے۔ اس بے روزگار کارکن کے حالات اچھے کردے۔ وہ میرے سامنے کرسی پر بیٹھا کہہ رہا تھا کہ سر! کوئی نوکری دے دیں، میری دو نوجوان بیٹیاں ہیں، کالج میں تعلیم حاصل کرتی ہیں، فیس ادا کرنے کو پیسے نہیں۔ بڑی مشکل صورت حال سے دوچار ہوں۔ مجھے تیس سال سے زائد اخبارات میں کام کرتے ہوگئے۔ بڑی دیانت داری سے بیٹیوں اور خاندان کی کفالت کی ، ہمیشہ حلال کا لقمہ کھلایا۔ ایک بڑے اشاعتی ادارے میں کام کرتا ہوں مگر تنخواہ میں گزارہ کرنا ناممکن ہوگیا ہے۔ اُردو کمپوزنگ آتی ہے۔ پارٹ ٹائم اردو بازار میں کمپوزنگ کا کام شروع کیا مگر لوگ کام کرا لیتے ہیں پیسے نہیں دیتے۔ کل کا کہہ کر ادھار کر جاتے ہیں۔ پھر واپس نہیں آتے۔ اس نے اپنے کندھے پر پڑے مدینے والے رومال سے آنسو پونچھے، ایک آہ بھری پھر حوصلہ کرکے بولا سر نوکری کی گنجائش پیدا کریں میرے حالات بہت برے ہیں زندہ رہنا مشکل ہوگیا ہے۔ وہ پندرہ دن میں دوسری بار میرے پاس آیا تھا۔ پہلی بار میں نے اسے حوصلہ دے کر واپس بھیج دیا کہ کچھ دن بعد رابطہ کرنا ہوسکتا ہے کوئی گنجائش پیدا ہو۔ اس بار وہ بڑ ی امیدسے میرے پاس آیا۔ اس کی زندگی کی تلخیاں سن کر میرا دل مزید بوجھل ہونے لگا۔ میری آنکھوں میں بھی نمی آگئی۔ دل کہتا اسے نوکری دے دو، دماغ ساتھ نہیں دے رہا تھا۔ ایک ایسی کشمکش سے دوچار ہوگیا کہ مجھے کہنا پڑا کہ قسم ہے مجھے اپنے رب کی کہ اگر میرے حالات اچھے ہوتے تو میں تمہیں کبھی انکار نہ کرتا۔ میں مجبور ہوں، بے بس ہوں، اخباری انڈسٹری کے حالات اچھے نہیں ہیں۔ میں کیا کرسکتا ہوں۔ بس میرے پاس تمہارے لئے ایک ہی دعا ہے کہ اللہ تمہاری مشکلیں آسان فرمائے۔ وہ تمہاری مدد کرے۔ وہ عرصہ پہلے ہمارے ادارے میں بطور کاتب بھرتی ہوا تھا۔ پھر کمپیوٹر پر مہارت حاصل کرلی۔ بڑے گرم سرد موسم طے کرکے ایک بڑے اشاعتی ادارے میں کام کررہا ہے۔ حالات کی ستم ظریفی سمجھئے کہ دن بدن بگڑتی معاشی صورت حال کا وہ بھی شکار ہوگیا ہے۔ ڈالر اس کی جیب میں پڑے برکتوں والے روپے کو نگل گیا۔ آج یہ اخباری کارکن اس کشمکش میں مبتلا ہے کہ وہ اپنی نوجوان بیٹیوں کو تعلیم دلائے یا تن ڈھانپنے کو کپڑا پہنائے۔ بیٹیوں کے ہاتھ پیلے کرکے ان کے خوابوں کو سچا کرے یا زندگی کی سانسیں جاری رکھنے کے اسباب تلاش کرے۔ وہ بظاہر تو مجھ سے پارٹ ٹائم ملازمت کا متمنی تھا مگر اس کے آنسو میرے دل پر انگارے بن کر لوٹ رہے تھے اور دل کی کہانی یہ تھی کہ وہ بے روزگار ہو چکا ہے اور اپنا دکھ مجھ سے چھپا رہا ہے۔ میں اسے تسلی دے رہا تھا اسے امید دلا رہا تھا کہ بس کچھ دن صبر کرلو تم سے وعدہ ہے کہ جیسے ہی حالات بہتر ہوں گے سب سے پہلے تمہیں ہی ملازمت دوں گا۔ اس نے ایک آہ بھری۔ یااللہ کہا اور اپنے گرتے آنسوﺅں کو بوسا دیا، سیاہ چشمہ پہن کر کڑی دھوپ میں روزگار کی نئی منزل کی تلاش میں اپنے دکھ میری جھولی میں ڈال کر چلا گیا۔ مجھے ایسے لگا کہ اس نسل کا آخری اخباری کارکن مجھ سے رخصت ہوگیا۔یہ کہانی کسی ایک اخباری کارکن کی نہیں ،گھر گھر کی کہانی ہے۔ ملک کے معاشی بحران کی جیتی جاگتی کہانی ہے۔ معمولی سے معمولی کاروبار کا بھٹہ بیٹھ چکا ہے۔ دن بدن معاشی بحران سنگین ہو رہا ہے اور آپ ہیں کہ چین کی بانسری بجائے جا رہے ہیں اور بار بار کہے جارہے ہیں کہ بس تھوڑا صبر کریں حالات بہتر ہو جائیں گے۔ یہ وہی قوم ہے جس کے بارے میں ہمارے خان اعظم فرماتے ہیں کہ یہ خیرات دینے والی دنیا کی سب سے عظیم قوم ہے۔ معاف کیجئے گاآپ اپنے الفاظ کو ایک بار پھر یوٹرن دیں اب یہی قوم دنیا میں سب سے زیادہ خیرات لینے والی قوم بنتی جارہی ہے۔ آپ کے خیالات کو اگر حقیقت کا روپ دیں تو یہ عظیم قوم نہیں دنیا کی غریب ترین قوم بن چکی ہے۔ اعلیٰ دماغوں کو یہ سمجھ کیوں نہیں آرہی کہ خوف کی فضاءمیں کوئی بھی کاروبار نہیں چل سکتا۔ سیاسی افراتفری کے ماحول میں معاشی استحکام نہیں آسکتا۔ عوام پر زبردستی ٹیکسوں کا بوجھ ڈال کر معیشت کوسہارا نہیں دیا جاسکتا۔ اداروں پر تیزی سے عدم اعتماد کرکے آپ کیسے نظام کو ٹھیک کرسکتے ہیں؟ کاروبار ہوگا تو لوگ ٹیکس دیں گے۔ اگر آپ کاروباری لوگوں اور ان سے منسلک اداروں کو دن رات دھمکیاں دیں گے تو جو تھوڑا بہت نظام چل رہا ہے وہ بھی ڈوب جائے گا۔ خان اعظم حالات کی سنگینی کو سمجھیں۔ لوگ روٹی روٹی کو محتاج ہوگئے۔ بازاروں میں سناٹا چھا چکا۔ نظام زندگی بڑی تیزی سے زوال پذیر ہے۔ آپ کو کون سمجھائے۔ اللہ آپ پر رحم فرمائے ۔ جس طرح دنیا میں ہمارے روپے کی تذلیل ہو رہی ہے اور جو حالات پیدا کئے جارہے ہیں آپ دیکھیں گے کہ عید قربان پر لوگ قربانی کے جانوروں کی بجائے اپنی کھالیں اتار کر شوکت خانم کو عطیہ کریں گے پھر شاید آپ کو اندازہ ہو کہ یہ قوم عظیم ہے یا غریب۔ آپ کی عقل کو داد دینی پڑتی ہے کہ جب پانی، بجلی، گیس،چینی، آٹا ، دال سب کچھ مہنگا ہوگیا، روپیہ ٹکے ٹوکری ہوگیا، حالات قابو سے باہر ہوگئے، عوام کی چیخیں نکل گئیں تو آپ کو یاد آگیا کہ ٹاسک فورس بنائیں اور غریب دکانداروں پر چھاپے مار کر بھاری جرمانے عائد کئے جائیں۔ یہ کیسی تدبیر ہے کہ جب عوام سے سب کچھ چھین لیا گیا اور چند اے ٹی ایم مشینیں بھر لی گئیں تو آپ کو اب تدبیریں سوجھ رہی ہیں۔ کچھ تو خدا کا خوف کریں۔ہر روز لازمی اشیاءکے نرخ بڑھا کر آپ خود مسائل پیدا کررہے ہیں اور خود ہی ان پر اظہار تشویش کررہے ہیں۔ ناطقہ سربگریباں ہے اسے کیا کہئے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں