30

دیارِ مجددؒسے داتاؒ نگرتک

زندگی صرف ایک بار ملتی ہے صرف ایک بار اسے ہر انسان نے گزارنا ہوتا ہے۔ زندگی نے بہرطور گزرنا ہوتا ہے۔ کوئی ساتھ دے یا نہ دے یہ کٹتی رہتی ہے۔ بقول ڈاکٹر خورشید رضوی:
غم حبیب! شکایت ہے زندگی سے مجھے
ترے بغیر بھی کٹتی رہی‘ ذرا نہ رکی
کون زندگی کو کیسے گزارتا ہے۔ یہ بات اہم ہے بعض لوگ نشان عبرت بن کر اس دنیا سے رخصت ہوتے ہیں اور بعض اپنے پیچھے ایسے نقوش پا چھوڑ جاتے ہیں جو ان کے بعدآنے والے افرادہی نہیں کئی نسلوں اور کئی قافلوں کے لئے مشعل راہ کا کام دیتے ہیں۔ مجھے خود نوشت داستانیں بہت اچھی لگتی ہیں۔ یہاں آپ کی ملاقات براہ راست زندگی سے ہوتی ہے۔ زندگی کے نشیب و فراز سے ہوتی ہے حافظے کی گیلری پر ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہی میرے سامنے کئی خودنوشت داستانیں آ جاتی ہیں ابراہام لنکن‘ ممتاز شاعر احسان دانش کی جہان دانش‘ نیلسن منڈیلا جٹسن ٹروڈو‘ سابق آئی جی سردار محمد چودھری کی خودنوشت جہان حیرت‘ بل کلنٹن اور ہیلری کلنٹن کی آٹو بائیو گرافیاں۔ جوش ملیح آبادی کی یادوں کی بارات‘ تزک جہانگیری‘ تزک بابری اس طرح کی درجنوں اور کتابیں۔ اس گیلری میں ایک نئی کتاب کا اضافہ ہو گیاہے۔ ”دیار مجدد سے داتا نگر تک“ خود نوشت داستانوں کے بارے میں میرا دل چسپ مشاہدہ یہ ہے کہ یہ خود نوشت داستانیں صوفیوں کی ہوں‘ سیاست دانوں کی ہوں کھلاڑیوں کی ہوں‘ بادشاہوں کی ہوں‘ ادیبوں‘ شاعروں‘ صحافیوں یا فنکاروں کی ہوں ہر کتاب میں آپ کو سیکھنے کو بہت کچھ ملتا ہے۔ جناب جمیل اطہر اخباری و صحافتی دنیا کے ایک گوہر تابدار ہیں۔ وہ ممتاز قومی اخبار روزنامہ جرات کے سینئر ایڈیٹر ہیں۔ ان کی خودنوشت دیار مجددؒ سے داتاؒ نگر“ ان کی زندگی کی کہانی ان کی اپنی زبانی ہے۔ خودنوشت میں حسن تب پیدا ہوتا ہے جب سچ بولا جائے اور سچ کے سوا کچھ نہ بولا جائے۔ خود نوشت میں جتنا سچ بولا جاتا ہے اتنا ہی اس کی کشش میں اضافہ ہوتا ہے۔ قاضی صاحب نے اپنی داستان حیات من و عن بیان کر دی ہے۔ بلا کم و کاست لکھ دی ہے۔اس میں کوئی بناوٹ نہیں کوئی سجاوٹ مگر حقیقت نگاری میں ایسی جاذبیت ہے کہ جو مقناطیس کی طرح قاری کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔ یہ ایک ایسے شخص کی داستان حیات ہے جس نے متحدہ ہندوستان کے ایک متمول گھرانے میں آنکھ کھولی۔ قیام پاکستان کے موقع پر ہجرت کی صعوبتیں اٹھائیں اور پھر اپنے خاندان کے افراد کو دوبارہ اپنے پاﺅں پر کھڑے ہوتے دیکھا۔ آج کے سہل پسند اور شارٹ کٹ کے متلاشی نوجوان کے لئے یہ بات ناقابل یقین ہو گی کہ 1950ء کی دہائی میں ایک ”لڑکے“ نے 14سے 19برس تک کی عمر کے پانچ سالوںمیں ہاکر‘ نامہ نگار ‘ سول اینڈملٹری گزٹ جیسے بڑے اخبار کی رپورٹری اس زمانے کے ممتاز اردو روزنامے ”غریب“ کی کالم نگاری کے تمام مراحل طے کرنے کے بعداپنا اخبار لانچ کرنے کا کوہ ہمالیہ سر کرنے کا پروگرام بنا لیا۔ انہوں نے 19برس کی ٹین ایج میں اس مہم جوئی کا فیصلہ کر لیا صحافت کی دنیا میں نصف صدی تک آبلہ پائی کرنے والے بھی جس سے کنی کتراتے رہتے ہیں یقینا اس راہ میں انہیں بے پناہ کٹھن مراحل کا سامنا کرنا پڑا۔ کبھی کبھی ان کی ہمت نے ساتھ چھوڑنے کی دہائی بھی دی مگر ان کے عزم صمیم نے ”ہمت“ کی بھی ہمت بندھائی اور منزل کی طرف گامزن رہے۔ میری جناب جمیل اطہر سے پہلی ملاقات غالباً 1962ءمیں ہوئی تھی۔کئی دہائیوں تک جناب مصطفی صادق اور جمیل اطہر لازم و ملزوم سمجھے جاتے تھے۔ دونوں صاحبان نے 1962ءمیں فیصل آباد سے سرگودھا ہجرت کرنے اور یہاں سے روزنامہ وفاق کے اجراءکا فیصلہ کیا۔یہ ہمارے لڑکپن کا زمانہ تھا اسی زمانے میں وہ ایک روز ہمارے گھر والد گرامی مولانا گلزار احمد مظاہریؒ سے ملاقات کے لئے آئے۔ ان سے پہلی ملاقات بڑی خوشگوار تھی مگر اس میں ایک ناخوشگوار واقعہ بھی رونما ہوا۔ والد گرامی کا طریقہ یہ تھا کہ جب گھر میں کوئی معزز شخصیت آتی تو وہ مجھے اور بھائی فرید کو کچھ دیر کے لئے ڈرائنگ روم میں بلا لیتے اور ہمارا تعارف ان شخصیات سے کراتے یوں وہ ہمیں مجلسی آداب اور بڑوں کے احترام کی تربیت دیا کرتے تھے۔ یہ سردیوں کا موسم اور شام کا وقت تھا والد صاحب نے ان باذوق مہمانوں کے لئے گھر سے کافی بنوائی اور ان کی تواضع کے لئے کیک منگوایا۔اس زمانے میں سیٹلائٹ ٹاﺅن سرگودھا بیٹھک کا کل اثاثہ اینٹوں کا فرش اور چند کرسیاں تھیں۔ چائے دانی میں کھولتا ہوا پانی تھا۔ میں نے برتنوں کی ٹرے سمیت میز کو مہمانوں کے سامنے رکھنے کے لئے اٹھایا تو میز اینٹوں سے الجھ کر لڑکھائی اور ٹرے پر رکھی چائے دانی میں سے کھولتا ہوا پانی والد صاحب کی ران پرالٹ گیا۔ والد صاحب نے اس موقع پر کمال ضبط سے کام لیا اور مجھے ایک لفظ تک نہیں کہا۔ وہ اندر گئے اور کپڑے بدل کر اور دوا لگا کر واپس تشریف لائے۔ دوبارہ پانی گرم کیا گیا اور مہمانوں کی تواضع کی گئی۔ سرگودھا میں اپنے قیام کے دوران چچا مصطفی صادق اور جمیل اطہر ہمارے غریب خانے پر گاہے بگاہے تشریف لاتے رہے آج بھی جب جمیل اطہر صاحب سے ملاقات ہوتی ہے تو وہ سرگودھا میں اس پہلی ملاقات اور والد گرامی کے صبر و حوصلے کو یاد کرتے ہیں۔ جناب جمیل اطہرکے آباﺅ اجداد کا تعلق سرھند شریف سے ہے جہاں جمیل صاحب 1941ءمیں پیدا ہوئے اور پھر قیام پاکستان کے بعد ان کا خانوادہ اپنی فیکٹریاں اور دکانیں چھوڑ کر ٹوبہ ٹیک سنگھ آ گیا۔ یہاں ان کے خانوادے نے ایک بار پھر زندگی کی تعمیر نو کا سفر شروع کیا۔ جمیل اطہر 1955ءمیں 14برس کی عمر میں اپنے والد گرامی کے ساتھ سرہند شریف ایک ہفتے کے لئے گئے وہاں سے واپس آ کر انہوں نے سرہند شریف‘ حضرت مجدد الف ثانیؒ وہاں کے لوگوں اور اپنے آبائی گھر کے حوالے سے دو زبردست کالم لکھے جنہیں پڑھ کر کوئی شخص یہ یقین کرنے پر آمادہ نہ تھا کہ یہ کالم ایک 14برس کے لڑکے نے لکھے ہوں گے۔ جناب جمیل اطہر اپنی خودنوشت میں سرہند شریف کے حوالے سے لکھتے ہیں”سر ہند شریف کے اس سفر نے میرے اندر امام ربانی حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد فاروقی سرہندی کے لئے محبت و الفت کے جذبات پیدا کر دیے۔ ڈاکٹر جاوید اقبال نے اپنے والد حکیم الامت علامہ محمد اقبال کی حضرت مجدد الف ثانی کی بارگاہ میں حاضری کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ وہ جب لحد والے حصے میں داخل ہوئے تو انہوں نے مجھے باہر ہی بٹھا دیا مگر کچھ ہی دیر بعد مجھے ان کی آہ و بکا اور بے اختیار آنسوﺅں کی آوازیں آنے لگیں جب وہ واپس آئے تو اس وقت بھی ان کی آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے۔جناب جمیل اطہرکے خاندان کا تعلق مجدد الف ثانی جیسی عظیم ہستی کے دیس سے تھا۔ اس حوالے سے انہوں نے اپنی خودنوشت میں بہت کچھ لکھا ہے۔ ذاتی زندگی کے حوالے سے جمیل اطہر نے راحتوں اور کلفتوں کا ذکر بھی کیا ہے۔ اپنی جواں سال شادی شدہ بیٹی کی رحلت کے بارے میں بڑا جذباتی باب ”غم و الم میری چوکھٹ پر“ لکھا ہے۔ ان کی صاحبزادی کینسر کی مریضہ تھی۔ قاضی صاحب کی کتاب محض ذاتی حوالے سے ایک شخص کی کامیاب زندگی کی سرگزشت نہیں بلکہ یہ پاکستان کی تقریباً65سالہ سیاسی‘ صحافتی اور تہذیبی زندگی کی چشم دید کہانی بھی ہے۔ کتاب میں اتنے طویل دور کی دینی‘ سیاسی‘ صحافتی و ادبی شخصیات سے ان کی ملاقاتوں کا تذکرہ اور تصاویر بھی موجود ہیں۔ ”دیار مجدد سے داتا نگر“ اپنی دنیا آپ پیدا کرنے کی ایک قابل تقلید کامیاب داستان ہے۔ کتاب نوجوانوں کو یہ پیغام دیتی ہے کہ پاکستان میں امکانات کی وسیع دنیا موجود ہے۔ ضرورت ان امکانات کو ڈھونڈ نکالنے اور عزم و ہمت کے ساتھ منزل کی طرف گامزن ہونے کی ہے ”بک ہوم“ بک سٹریٹ نے کتاب کو نہایت نفاست کے ساتھ شائع کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں