173

موٹاپا کیسے ہوتا ہےِِ؟

سڈنی (جرات نیوز)دور جدید میں بدلتے ہوئے طرز زندگی سے جہاں ہمارے رہن سہن میں تبدیلی آئی تو طرز طعام اور عادات بھی اثر انداز ہوئیں اور کچھ مسائل نے جنم لیا جس میں ‘موٹاپا‘ گزشتہ کئی سالوں سے قابل توجہ موضوع رہا ہے۔حالیہ تحقیقات کے مطابق وہ افرادتیزی سے موٹاپے کا شکار ہوتے ہیں جو اپنا زیادہ وقت ٹی وی کے سامنے گزارتے ہیں۔ ماہرین صحت کے مطابق ٹی وی کے سامنے جسم متحرک نہیں ہوتا اور بیٹھے بیٹھے کیلوریز میں اضافہ ہوتا ہے ۔
ماہرین صحت کے مطابق اسکرین کے سامنے انسانی دماغ کوپیٹ بھر جانے کے سگنل پندرہ سے بیس منٹ بعد موصول ہوتے ہیں۔ اس طرح اضافی پندرہ بیس منٹ کا کھانا انسان کو موٹا کرنے کا سبب بنتا ہے ۔وٹاپے کا سبب بننے والی عادتیںطبی محققین کے مطابق پیشہ ور افراد کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ وہ دن بھر آفس میں کام کرنے کے بعد رات میں ایک صحت افزاء کھانا تیار کرسکیں تو وہ فاسٹ فوڈ کا استعمال کرتے ہیں جس کا زیادہ استعمال مضرِ صحت ہے ۔طبی ماہرین موٹاپے کی وجوہات جاننے کے لیے مسلسل تحقیق جاری رکھے ہوئے ہیں اور ہر دور کے اعتبار سے تحقیق کے نتیجے میں حاصل ہونے والی ’مضر صحت علامات‘ کا بھی ذکر کرتے ہیں تاہم یہ واضح ہے کہ جسمانی وزن میں اضافہ صحت کے لیے مضر ہے، اس لیے موٹاپے کی وجہ بننے والے چند اسباب کو ضرور ذہن میں رکھیں۔ورزش نہ کرنا موٹاپے کی چند وجوہات میں سے سب سے بڑی وجہ ہے ۔ جو لوگ اپنا زیادہ وقت ٹی وی، کمپیوٹر اسکرین یا ویڈیو گیمز کھیلتے ہوئے گزارتے ہیں ان میں موٹاپے کاخطرہ بڑھ جاتا ہے۔ دن بھر کا زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنا موٹاپے کا شکار بنا دیتا ہے۔ماہرین صحت کے مطابق رات کو 6 سے 7 گھنٹے سونا ہر کسی کے لئے انتہائی اہم ہے۔ نیند کی کمی جسم میں موجود مختلف ہارمونز پر اثر انداز ہوتی ہے جو موٹاپے کا سبب بنتی ہے۔جنک فوڈ اور کوک جیسے مشروبات کا بکثرت استعمال بھی وزن میں اضافے اور موٹاپے کا باعث بن جاتا ہے۔ پھل اور سبزیوں کا کم استعمال خوراک کو غیر متوازن بنا دیتا ہے۔ لہٰذا موٹاپے سے بچنے اور اچھی صحت کے لیے غذا میں تمام ضروری اجزاء کا مناسب مقدار میں ہونا ضروری ہے۔ اپنے وزن کو چیک کرتے رہنا اور خوراک پر تھوڑی سی توجہ دینا، ہلکی پھلکی ورزش، چہل قدمی اور بھوک رکھ کر کھانا کھانے سے آپ موٹاپے جیسے مرض سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں