66

ایف بی آرکی 650 ارب کی ریکارڈ وصولی

اسلام آباد(جرات نیوز) ایف بی آر نے 73یوم میں 650 ارب روپے کا ریونیو جمع کر کے آل ٹائم ریکارڈ قائم کیا ہے۔
یکم جولائی 2019 سے 11 ستمبر 2019 تک کے 73 دنوں میں ایف بی آر نے اگرچہ 650 ارب روپے جمع کئے ہیں مگر مالی سال 2019-20کی پہلی سہ ماہی میں ایف بی آر کو 1072 ارب روپے کے محاصل جمع کرنے کا آئی ایم ایف کے ساتھ کیا گیا وعدہ پورا کرنا ہے۔اس طرح باقی 19 ایام میں ایف بی آر نے 422 ارب روپے کے محاصل جمع کرنا ہونگے جو ماضی کی ایف بی آر کی کارکردگی کے تناسب سے ناممکن نظر آرہے ہیں کیونکہ ایف بی آر کی تاریخ میں کبھی ستمبر کے آخری 19 دنوں میں 422 ارب روپے جمع نہیں کئےجا سکے۔ایف بی آر کاپہلی سہ ماہی کا ٹارگٹ 1072 ارب روپے رکھا گیا ہے جس میں سے ایف بی آر نے 580 ارب روپے پہلے دو ماہ (جولائی اگست2019) میں جمع کئے ہیں۔12 سے 30 ستمبر 2019 میں ایف بی آر کو 422 ارب روپے کا ہمالیہ پہاڑ سے بلند ٹارگٹ حاصل کرنا پڑے گا، اگر30 ستمبر 2019 تک ایف بی آر 422 ارب روپے جمع کرنے میں کامیاب ہو گیا تو یہ ایف بی آر کی تاریخ کا نیا ریکارڈ سمجھا جائے گا۔
ایف بی آر کے سابق ممبر پالیسی آڈٹ اور آئی آر آپریشنز رحمت اللہ خان وزیر سے جب اس صورتحال پر تبصرہ کرنے کو کہا گیا تو انہوں نے کہا کہ 422 ارب روپے ستمبر کے 19 دنوں میں کرلینا ناممکنات میں سے ہے اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ملک میں اکنامک سلو ڈاؤن (SLOW DOWN) ہے، ملکی معیشت کا پہیہ جام ہے پاکستان کی امپورٹس کم ہو گئی ہیں جہاں سے ایف بی آر کو کسٹم ڈیوٹی سیلز ٹیکس ریگولیٹری ڈیوٹی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور ود ہولڈنگ انکم ٹیکس آتا ہے، امپورٹ میں غیر معمولی کمی کی وجہ سے ایف بی آر کا ریونیو بے حد کم ہو جائے گا۔انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019 کو بھارت نے جو کشمیر کی خود مختاری ختم کرنے کے اقدامات کئے ہیں اس سے پاک بھارت میں جنگ کے خدشات پیدا ہوئے اس سے دونوں ملکوں میں کشیدگی کی وجہ پاکستان میں اقتصادی سست روی، ریونیو کی وصولی اور نئی سرمایہ کاری میںبے حد کمی ہوئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں