1,307

مسلم نوجوان نے جے شری رام کا نعرہ لگانے پر مجبور کرنے والے شدت پسند ہندو نوجوان کا سر قلم کردیا

عدالت کے باہر محمد کبیر نے اعتراف کیا کہ سورج بہادر نے اسے زبردستی جے شری رام کا نعرہ لگانے کیلئے کہاکہ اور نہ کہنے کی صورت میں اس نے زبردستی کی ۔میر ی جان کو خطرہ لاحق ہوگیاتھا اس لئے اپنے تحفظ کیلئے میں نے بھی حملہ کیا اور اس دوران سورج بہادر کی موت ہوگئی
آسنسول (جرات نیوز)
بنگال کے آسنسول میں ایک مسلم نوجوان جے شری رام کا نعرہ لگانے کیلئے مجبور کرنے والے شدت پسند ہندو نوجوان کا قتل کردیاہے ۔ انڈیا ٹی وی کے مطابق مغربی بنگال کے آسنسول سے تعلق رکھنے ولے 19سالہ مسلم نوجوان محمدکبیر کو 24سالہ شدت پسند ہندو نوجوان سورج بہادر نے جے شری رام کا نعرہ لگانے کیلئے مجبور کیا ۔ محمد کبیر نے انکار کردیا جس کے بعد سورج بہادر نے حملہ کرنے کی کوشش کی جس کا محمد کبیر نے مضبوطی سے دفاع کردیا اور اپنی جان بچانے کیلئے اسے سورج بہادر کو قتل کرناپڑا ۔ بنگال پولس نے محمد کبیر کو اقدام قتل کے الزام میں گرفتار کرلیاہے ۔
تفصیلات کے مطابق 23جولائی کو سورج بہادر کی بہن نے آسنسول نارتھ ایسٹ پولس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی تھی کہ اس کے بھائی کو محمد کبیر نے قتل کردیاہے ۔بی جے پی کارکنان نے تھانہ کا گھیراﺅ کرکے پولس پر محمد کبیر کی فوری گرفتاری کیلئے سخت دباﺅ بنایا اس کے بعد پولس نے محمد کبیر کو حراست میں لے لیا ۔عدالت کے باہر محمد کبیر نے اعتراف کیا کہ سورج بہادر نے اسے زبردستی جے شری رام کا نعرہ لگانے کیلئے کہاکہ اور نہ کہنے کی صورت میں اس نے زبردستی کی ۔میر ی جان کو خطرہ لاحق ہوگیاتھا اس لئے اپنے تحفظ کیلئے میں نے بھی حملہ کیا اور اس دوران سورج بہادر کی موت ہوگئی ۔ محمد کبیر نے کہاکہ سورج بہادر کو جان سے مارنے کا میرا کوئی ارادہ نہیں تھا اس کی موت غلطی سے ہوئی ہے ۔
پولس نے اس کیس کے حوالے سے مزید کہاکہ عینی شاہدین کے مطابق دونوں محمد کبیر اور سورج بہادر آپس میں دوست تھے ۔ دونوں 23جولائی کو ایک جگہ شراب پی رہے تھے اسی دوران دونوں کے درمیان لڑائی ہوگئی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں