Imran address in orakzai 124

پشتون تحفظ موومنٹ کا موقف درست مگر لہجہ ٹھیک نہیں، فوج کیخلاف نعروں سے ملک کا نقصان ہو گا، وزیراعظم

اورکزئی ایجنسی:وزیراعظم عمران خان کہا ہے کہ پی ٹی ایم والے ٹھیک بات کرتے ہیں اور وہی بات کرتے ہیں جو میں 15 سال سے کر رہا ہوں،لیکن ان کا لہجہ ٹھیک نہیں،اپنی فوج کے خلاف بات کرنے اور نعرے لگانے سے ملک کا نقصان ہو گا، کوئی فائدہ نہیں ہو گا، لوگوں کو بھڑکانا اورمسائل کا کوئی حل نہ پیش کرنا،اس سےنقصان ہو گا،پی ٹی ایم والے لوگوں کےزخم پرنمک نہ چھڑکیں۔ اورکزئی ایجنسی میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہےکہ پہلے ہی کہا تھا امریکا کےکہنے پرقبائلی علاقوں میں فوج کونہیں بھیجا جائے،میں نے یہ اس لیے کہا کہ قبائلی لوگ ہی یہاں کی فوج ہیں،قصور اس حکمران کا تھا جس نے امریکا کے کہنے پر یہاں فوج کو بھیجا۔عمران خان کہا کہ قبائلی علاقوں میں فوج بھیجنے سے جوان شہید ہوئے،لوگوں کوپریشانی کاسامنا کرناپڑا،جب دہشت گردی کیخلاف جنگ شروع ہوئی تو میں واحد سیاستدان تھا جو علاقے میں کھڑا تھا،کسی وزیر اعظم کو قبائلی علاقے کی اتنی سمجھ نہیں جتنی مجھے ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی ایم والے وہ بات کرتے ہیں جو میں 15 سال سے کہہ رہا تھا،وہ بات کرتے ہیں کہ لوگوں کو نقل مکانی کرنی پڑی ، مشکلات کا سامنا کرنا پڑا،پی ٹی ایم آج جو بات کررہی ہے وہ صحیح کہہ رہی ہے،پی ٹی ایم والے جس طرح کا لہجہ اختیار کر رہے ہیں وہ ہمارے لیے ٹھیک نہیں، پی ٹی ایم والے بتائیں اپنی فوج کیخلاف نعرے لگانے سے کیافائدہ ہوگا؟وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان قبائلیوں کی قربانیوں کو نہیں بھولے گا اور یہاں کے لوگوں کی پوری مدد کرے گا، ہم نے قبائلی علاقے کے لوگوں کو ترقی دینی ہے، جب جنگ ہوتی ہے تو بے قصورلوگ مارے جاتے ہیں، پختون تحفظ موومنٹ والے بات ٹھیک کرتے ہیں لیکن ان کا لہجہ ٹھیک نہیں، پی ٹی ایم پشتونوں کی تکلیف کی بات کرتی ہے، لوگوں کو واقعی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، یہی باتیں میں 15 سال سے کررہا ہوں۔عمران خان کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہوسکتا ہے کہ صرف لوگوں کو ظلم کے خلاف بھڑکانا اور پھرکوئی حل پیش نہ کیا جائے، لوگوں کو اپنی فوج کے خلاف کرنے سے ملک کو اور قبائلی علاقوں کو کیا فائدہ ہوگا، سوچنا چاہیے کہ آگے کیسے بڑھنا اور حالات بہتر کرنا ہے، حل یہ ہے کہ ظلم کا شکار لوگوں کے زخموں پرمرہم رکھنا ہے۔وزیراعظم نےکہا کہ اورکزئی میں بہت خوبصورت علاقہ ہے، ہم نے ملک میں سیاحوں کیلئے سہولتیں بڑھانی ہیں، ساراعلاقہ سرمایہ کاری کیلئے کھولیں گے، ہرخاندان کو ہیلتھ انشورنس کارڈ دے رہے ہیں، حکومت کے پاس پیسے ہوتے تو کمزور طبقوں کو اٹھاتے اور قبائلی علاقے کے نوجوان کیسے تعلیم اورنوکریاں حاصل کریں، نوجوانوں کو نوکریاں دینا میری حکومت کا سب سے بڑاچیلینج ہے جب کہ مدرسے کے بچوں کی تعلیم کے لیے ہم پورا زور لگانے لگے ہیں، مدرسے میں پڑھنے والے بچوں کو روزگاردیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں