indian vallige 58

بھارت کا ایسا گائوں جہاں25 سال کا ہر فرد بوڑھا ہوجاتا ہے

چھتیس گڑھ:ریاست چھتیس گڑھ کے بستر ڈویژن میں پیدا ہونے والے بچے مختلف بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں۔ بیجاپور ضلع ہیڈکوارٹر سے تقریباً 60 کلومیٹر دور بھوپال پٹنم میں واقع گیراگوڑا اوربسترکے باکیل اور ستوشاعلاقوں میں قبائلی 25 برس کی عمر میں لاٹھی کے سہارے چلنے پر مجبور ہوجاتے ہیں اور 40 سال میں وہ بڑھاپے کی دہلیز پر پہنچ جاتے ہیں۔ یہاں کی دَلدل زمین، ہینڈپائپ اور کنوئوںسے نکلنے والے پانی میں فلورائڈ کی مقدار زیادہ ہونے کی وجہ سے گائوں کے لوگ وقت سے پہلے ہی معذورہوجاتے ہیں۔انہیں پینے کا صاف پانی میسر نہیں۔ اس گائوں میں8 سے 40 سال تک کے ہر تیسرے شخص میں کبڑاپن، دانتوں میں سڑن، پیلا پن اور بڑھاپا نظر آتا ہے۔ ریٹائرڈ ٹیچر تامڑی ناگیااورنیلم گن پت کا کہنا ہے کہ گاؤں میں5 ہینڈپمپ اور 4 کنویں ہیں۔ ان میں سے فلورائڈ پانی نکلتا ہے۔محکمہ صحت نے ہینڈ پمپ کوبند کردیا تھا۔موسم گرما میں3 کلومیٹر دور اندراتی ندی کے پانی کو ابال کراستعمال کیا جاتا ہے۔ تامڑی ناگیا کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ گزشتہ 30 برسوں میں زیادہ بڑھ گیا۔ 60 فیصد لوگوں کے دانت پیلے ہوکر سڑنے لگتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک پی پی ایم تک فلورائڈ کی موجودگی قابل استعمال ہے۔ اس سے زیادہ مقدار خطرناک ہے جبکہ علاقہ گیراگوڑا میں ڈیڑھ سے2پی پی ایم فلورائڈپانی میں موجودہونے کا علم ہوا۔چیف میڈیکل آفیسر (سی ایم ایچ او) ڈاکٹر بی آر پجاری کا کہنا ہے کہ شکایت کے بعدگاؤں میں کیمپ لگاکر علاج کیا گیا ۔یہاں پیدا ہونیوالی بیماریوں کا واحد علاج صاف شفاف پینے کا پانی فراہم کرانا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں