Irfan-Athar-Qazi- 109

کرکٹ بائی چانس

پاکستان کی تحقیقاتی صحافت کے سرخیل، صحافت کا ایک روشن ستارہ غروب ہوگیا۔ میرے پیارے ”چیف صاحب“ رحمت علی رازی اچانک داغ مفارقت دے گئے۔ دل ابھی یکسو نہیں ۔ مرحوم کے ساتھ اپنے لڑکپن سے آخری دم تک تعلق پر آئندہ لکھنے کی ہمت کروں گا۔ عجب درویش منش، دبنگ انسان تھا۔ ہمیں روتا چھوڑ گیا۔ اللہ تعالیٰ ”چیف صاحب“ کی قبر کو روشن اور منور فرمائے اوردعا ہے کہ مرحوم حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محفل میں سرخرو ہوں۔ (آمین)
گزشتہ ہفتہ عشرہ سے مسلسل صدمات سے دوچار ہوں۔ دل پھٹا جارہا ہے کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ سوچیں بکھرتی ہیں تو انہیں نیا سہارا دینے کی کوشش کرتا ہوں۔ مہنگائی، غربت اور بے بسی کے نوحے لکھ لکھ کر اب تو قلم بھی ساتھ نہیں دیتا۔ بکھری سوچوں کو کسی راہ لگانے کی جستجو کرتا ہوں تو ایک نیا صدمہ سامنے کھڑا ہوتا ہے۔ اخبارات کے صفحات کھنگالوں تو ہر طرف زبان درازی، گالم گلوچ بریگیڈ اخلاقیات کی حدود پھلانگتی نئی نئی جگتوں کے ساتھ منہ پھاڑے کھڑا ہوتا ہے۔ نیوز چینلزپر نظر ڈالیں، کان لگائیں تو افراتفری ہی افراتفری نظر آتی ہے۔ سیاست دانوں کی چال بازیوں کی ایک لمبی داستان کا تجزیہ کریں تو تاریکی کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔ کھیل کے میدان ویران پڑے ہیں، ورلڈ کپ میں قومی ٹیم کی اڑتی وکٹیں سنبھالوں تو پھر کپتان یاد آنے لگتا ہے۔ کپتان کی یاد ستائے تو پھر خان کی بدحواسیاں تڑپانے لگتی ہیں۔ بے چینیوں کی ایک نہ ختم ہونے والی فہرست ہے۔ اس فہرست کو دیکھتا ہوں تو سوچ آنے لگتی ہے کہ دنیا میں آگے بڑھنے کے لئے ہمیں ہر روز ہزاروں مواقع میسر آتے ہیں مگر ہمیں احساس تک نہیں ہوتا کہ قدرت ہمیں آگے بڑھنے کا موقع فراہم کررہی ہے اور ہم اس موقع سے فائدہ نہیں اٹھا رہے ہوتے، اسے بدقسمتی کے سوا اور کچھ نہیں کہا جاسکتا اور آپ ایک سنہرا موقع ضائع کر بیٹھتے ہیں۔ زندگی کا تجربہ یہی بتاتا ہے کہ جب کبھی بھی جذباتیت کا ضرورت سے زیادہ اظہار کیا نقصان ہی اٹھانا پڑا۔ اللہ تعالیٰ دنیا میں ہر ذی روح کے نصیب اچھے ہی لکھتا ہے اور یہ ہم ہی ہیں جو اپنے نصیبوں کو اچھا یا بُرا بناتے ہیں۔ اللہ کے لکھے نصیب کو خوش بختی میں ڈھالنے کے لئے محنت، لگن، دیانت، مستقل مزاجی، خوش اخلاقی، کفایت شعاری، بروقت فیصلہ سازی بنیادی تقاضے ہیں۔ ہمارے سامنے سینکڑوں ایسی مثالیں موجود ہوں گی مثلاً آپ ایک ٹھیلے والے پھل فروش کو ہی دیکھ لیجئے یا کسی مزدور کی کہانی سن لیں یا پھر چھوٹے پیمانے پر کم سرمائے سے کاروبار شروع کرکے ترقی کے زینے طے کرنے والے شخص سے پوچھ لیں کہ اس نے کس طرح ترقی کی یا وہ ناکام کیوں ہوا؟ آپ کو ناکامی اور کامیابی کے درمیان کے مراحل میں یہی فرق محسو س ہوگا۔ مجھے ایسا کوئی شخص کامیاب ہوتا نظر نہیں آیا جس نے تھوڑے تھوڑے وقفے سے اپنی ملازمت تبدیل کی یا کاروبار کے نئے نئے تجربات کئے۔ ہمیشہ وہی شخص کامیاب ہوا جس نے معمولی کام کو بھی آخری سمجھ کر محنت کی اور قدم بہ قدم آگے بڑھا۔ دیرپا کامیابی کسی شارٹ کٹ کا نام نہیں۔ راتوں رات امیر ہونے والے دن کی روشنی میں کنگال ہوتے بھی دیکھے ہیں۔ پاکستانی معاشرے کی بنیادی ناکامی کی وجہ بھی شائد یہی ہے۔ ایک کمانے والا باقی سب کھانے والے۔ یہی خاندانی اثرات نسل در نسل ہمارے حکمرانوں میں منتقل ہوئے۔ ان حکمرانوں نے بڑی دیانت داری سے درج بالا اصولوں پر عمل کرتے ہوئے سیاست کا چھوٹے پیمانے پر کم سرمائے سے کاروبار شروع کیا اور راتوں رات ہمارے سروں پر مسلط ہوگئے اور ہمارے ہی ووٹ بیچ کر اپنی جاگیریں ، سلطنتیں قائم کرلیں۔ یہ سچ ہے کہ خربوزے کودیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے جیسے عوام ویسے حکمران کے بجائے جیسے حکمران ویسے عوام کے بداثرات ہمارے پورے معاشرے کو دیمک زدہ کر گئے۔ اندھیر نگری چوپٹ راج۔ آج حالات جس نہج پر پہنچ چکے ہیں انہیں قابو کرتے کرتے صدیاں بیت جائیں گی۔ کرپٹ زدہ نظام کے بدبو دار بدن سے جنم لینے والے کرپٹ معاشرے سے کرپشن کے خاتمے کی جو فوری تدبیریں کی جارہی ہیں معاف کیجئے گا! یہ کام آپ سے ہوتا نظر نہیں آتا۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ کرپٹ لوگ ہی کرپٹ لوگوں کا احتساب کریں۔ پھر یہ بے پیندے کے لوٹے جن کے آقا اور پارٹی سربراہ آئے دن بدلتے رہتے ہیں وہ کیسے ایک دوسرے کا حساب کتاب کرسکیں گے۔ فواد چودھری اگرچہ بونگیاں ہی مارتے ہیں مگر کہتے درست ہیں کہ پانچ ہزار افراد کی گردنیں اڑا دیں تو سب ٹھیک ہو جائے گا مگر ان گردنوں کو ماپنے کے لئے بھی تو کم از کم پانچ ہزار دیانت دار، مخلص لوگ درکار ہیں۔ ہم سب چاہتے ہیں کرپشن کا خاتمہ ہو، ملک خوش حال ہو، غریب روٹی کی خاطر بھیک نہ مانگے، جوان بیٹیاں باپ کی دہلیز پر بن بیاہی نہ بیٹھی رہیں، ہر شخص ایک دوسرے کا ہمدرد بنے، آئے دن معمولی باتوں پر ایک دوسرے کا گلا نہ کاٹیں مگر کیا اس کرپٹ نظام سے امید لگائیں جس کی منزل ہی اقتدار اور انتقام ہو۔ ہم میں سے کوئی بھی دودھ کا دھلا نہیں۔ زبانی کلامی تو سب چاہتے ہیں کرپٹ لوگوں کے پیٹ پھاڑ کر کرپشن کا پیسہ نکلوایا جائے مگر عملی طور پر سب این آر او زدہ ہی تو ہیں۔ بہتر یہی ہے کہ سارے کرپٹ ایک بار پھراکٹھے ہو کر دیانت داری سے کرپشن کی دلدل میں پھنسے اس معاشرے کو میثاق مدینہ کی روشنی میں ٹھیک کرنے کی کوشش کریں۔ میثاق جمہوریت سے میثاق معیشت تک سب ڈرامہ ہے۔ اسد عمر اب بہت پیارے لگنے لگے ہیں، قومی اسمبلی کے ایوان میں کھڑے ہو کر اپنی ہی جماعت کا کچا چٹھا کھولنا دل گردے کا کام ہے۔ اشارے کنایوں میں مستقبل کا پیغام دے گئے ہیں۔ راولپنڈی ایکسپریس بار بار پٹڑی سے اتر رہی ہے اور وزارت نوک جھونک ،چھوک چھوک چلتی ٹرین سے پریشان ہے کہ یہ ہوکیا رہا ہے؟ کہ سرخ سگنل سے پہلے بار بار ہارن بجانے کے باوجود آئے دن سرکار کی ٹرینیں الٹ رہی ہیں۔ وجوہات نامعلوم مگر اہل نظر کہتے ہیں کہ کپتان سمیت ہر کھلاڑی وکٹ سے باہر انفرادی کھیل کھیلنے کی کوشش میں آﺅٹ ہورہا ہے اور ایک ایک کرکے پوری ٹیم ہی پویلین واپس لوٹ رہی ہے۔ اوپننگ بیٹسمین کے طور پر آنے والے کپتان آخری کھلاڑی کے ساتھ انہونی کو ہونی کرنے کی کوشش کررہے ہیں کیونکہ کرکٹ بائی چانس ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں