38

پوپ فرانس کا پیغام ہمارے لئے نہیں

آج ایک ایسے کرب سے گزر رہا ہوں کہ میرے اردگرد کے ماحول میں جھوٹ سچائی، پیار نفرت، دلیل طنز،اخلاق گالی، ناکامی کو کامیابی، کھوکھلے پن کو کھلے پن، ہر چمکتی چیز کو سوناسمجھ کر اس کی اہمیت بڑھائی جارہی ہے۔ معاشرتی روایات اور اقدار کو دقیانوسی یا تنگ نظری کا لبادہ پہنایا جارہا ہے جو بے حیثیت تھے انہیں صاحب حیثیت بنانے کی مصنوعی کوشش کی جارہی ہے۔ بے گناہ قصور وار ٹھہرے، قصور وار بے گناہ قرار پائے، تنزلی کو ترقی سمجھ لیا گیا ہے، ایک عجیب سا کرب ہے جو چھپائے نہیں چھپتا، ایک زمانہ تھا جب نائی (آج کے ہیئر ڈریسر، بیوٹیشن) لوگوں کے بال کاٹتے، روپ سنگھار کے ساتھ ساتھ جراحت کا کام بھی سر انجام دیتے تھے۔ نائی کی دکان پورے علاقے کی راز داں بھی ہوتی اور سیاست کا گڑھ بھی۔ یہی وہ مقام تصور کیا جاتا تھا جہاں بڑے سے بڑا سیاسی لیڈر، علاقے کا چودھری، پھنے خاں اور عام آدمی کے درمیان سیاست سے لے کر گھریلو مسائل تک کھلے دل سے مکالمہ ہوتا تھا۔ حتیٰ کہ بچوں کی حرکات و سکنات پر نظر رکھی جاتی تھی اور غیر محسوس انداز، اصلاحی پہلو سے ایک دوسرے سے مشاورت کی جاتی تھی اور مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل نکل آتا۔ گویا نائی کی دکان نہ ہوئی مجلس مشاورت ہوگئی اور کوئی بھی گاہک نائی کے استرے کے سامنے چوں چراں نہیں کرتا تھا اور دکان کے پھٹے پر بیٹھا صبر و تحمل سے مشاورتی گفتگو سنتا اور اپنی باری کا انتظار کرتا اوراگر زیادہ رش ہوتا تووقت طے کرکے دوبارہ آجاتا۔ اب زمانہ بدل گیا ہے نائی کی دکان نے ہیئر ڈریسر ، بیوٹی سیلون، مساج سنٹر، سپاءکا روپ دھار لیا ہے اور نائی بیچارہ بیوٹیشن ٹھہرا۔ ایئر کنڈیشنر لگے ماحول میںآپ بیوٹی سیلون جائیے اور چم چماتی روشنیوں میں مستقبل کے ایسے خواب سجائیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ یہ ہیئر ڈریسرز، بیوٹیشنز آپ کو بننے سنورنے کے مصنوعی طور طریقے سمجھائیں اور سکھائیں گے اور ایسے کپڑے پہننے کا مشورہ دیں گے کہ جو شہنشاہوں، بادشاہوں، امراءکی دسترس میں بھی شائد نہ ہوںیعنی ہم گندے بدبودار، پسینے سے شرابور کپڑے پہن کر بھی شیو بنوانے یا بال کٹوانے نائی کی دکان پر بھی نہیں جاسکتے۔ اس بناﺅ سنگھار سے پہلے بھی کچھ لوازمات پورے کرنا ضروری ہیں ورنہ آپ کاہیئر ڈریسر، بیوٹیشن بُرا بھی مان سکتا ہے اورآپ کی خدمت سے انکار بھی کرسکتا ہے۔ یہ ہے ہمارا حقیقی معاشرہ اور اس معاشرے کی کھوکھلی بنیادیں، اس معاشرے میں غریب کے لئے کوئی جگہ نہیں کیونکہ وہ جراثیم زدہ ہے اور اب یہاں کوئی نائی کی دکان بھی نہیں جو براہ راست آپ سے مکالمہ کرسکے۔ زندگی کا حقیقی صفحہ پلٹئے اور پڑھیئے، کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس فرماتے ہیں کہ ”ہیئر ڈریسرز بال کاٹتے وقت خواہ مخواہ باتیں کرنے سے اجتناب برتیں اور سولہویں صدی کو مثال بنائیں کہ جب نائی بال کاٹنے کے علاوہ ”بیماریوں“ کا علاج بھی کرتے تھے۔“ پوپ فرانسس کہتے ہیں کہ ”ہیئر ڈریسرز ،بیوٹیشنز اِدھر اُدھر کی باتوں سے اجتناب کریں یعنی صارفین سے محبت و خلوص سے پیش آئیں ان سے بہتر انداز سے بات کریں اور اپنے پیشہ وارانہ کام میں سیدھے راستے کا انتخاب کریں اورمعاشرے کی بہتری میں مثبت حصہ ڈالیں۔“ پوپ فرانسس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے 2015 ءویٹی گن سٹی میں ایک ہیئر ڈریسنگ سیلون کھولا تھا جہاں روم سے تعلق رکھنے والے بے گھر افراد کے بال کاٹے جاتے ہیں یہ سیلون پیر کو کھولا جاتا ہے جب دوسرے تمام سیلون بند ہوتے ہیں۔ یہاں کام کرنے والے رضا کارانہ طور پر خدمات انجام دیتے ہیں۔ سوال پھر وہی پیدا ہوتا ہے کہ ہم حقیقت کے قریب تر زندگی گزاررہے ہیں یا ایسے خواب دیکھ رہے ہیں جن کا حقیقت سے دور پرے کا بھی کوئی تعلق نہیں۔ آج نائی کی دکان تو بند ہوچکی مگر ہمارے سیاست دانوں اور رہنماﺅں نے اپنے” سیلون“ اور” بیوٹی پارلرز“ چلانے کی خاطر جو دکانیں سجائیں اور جو زبانیں چلائی ہیں یہ ہمارے برباد ہوتے معاشرے کی اخلاقیات کا جنازہ نکالنے کو کافی ہیں اور اس پر کسی کو شرمندگی کا احساس بھی نہیں ہوتا۔ ہمارے خان صاحب بھی کچھ ایسی ہی کیفیت کا شکار ہوگئے ہیں کہ جنہیں یوٹرن لیتے کوئی احساس ہوا نہ (سلپ آف ٹنگ) زبان پھسلنے کا۔ سقراط کے سامنے ایک آدمی نہایت خوبرو، اعلیٰ پوشاک، کمال حلیہ، اٹھلاتا ہوا آیا تو سقراط بولا، کچھ بولئے!” تاکہ آپ کی قابلیت معلوم ہو“۔
کہتے ہیں کہ جب خالی پانڈا (برتن) کھڑکنے لگے تو سمجھئے کہانی ختم ہوگئی اورآپ کے پاس دلیل سے کہنے کو کچھ باقی نہیں رہا اور آخری حد کسی مخالف یا مخاطب کی تذلیل ہی ٹھہری۔ بلاول بھٹو زرداری جو کل کا سیاسی بچہ تھا آج کی سیاست کا نوجوان اور مستقبل کی پہچان ہے اس کی اٹھان سے حکمرانوں میں اتنا خوف طاری ہے کہ قومی اسمبلی میں اس کے پہلے اردو خطاب نے ہی بڑے بڑے سیاست دانوں اور حکمرانوں کے کان کھڑے کردیئے اور اس حد تک خوف زدہ ہوگئے کہ گھٹیا طنز کی انتہا کو چھونے لگے۔ رہی سہی کسر خان صاحب نے بلاول صاحب کہ ”صاحبہ“ قرار دے کر پوری کر دی پھر تحریک انصاف کے یوم تاسیس کی تقریب میں دوبارہ یوٹرن لیا اور بلاول کوپھر ”صاحبہ “ سے ”صاحب“ بنا دیا لیکن اس معذرت کا انداز بھی ذرا ملاحظہ فرمائیے اور اس کے پیچھے چھپی مسکراہٹ کا بھی۔ ذرا وہ فقرہ غور سے سنیئے جب خان صاحب نے کہا ”بلاول صاحب“ اور ایک لمبی طنزیہ مسکراہٹ اورہال میں بیٹھے سامعین کی تالیاں اور قہقہے۔ آخر ہم چاہتے کیا ہیں؟ کیا ہم بچہ سقّہ کے دور میں رہ رہے ہیں کہ جہاں درباروں میں بادشاہ سلامت کے موڈ مزاج اور خوشنودی کی خاطر خصوصی طور پر بھانڈ رکھے جاتے تھے اور وہ گاہے بگاہے ہاتھ کی تالی اور ڈھولکی بجا کر پہلے سلام بجا لاتے پھر صدا لگاتے ”پاگ لگے رہن، وڈی سرکار نوں کسے دی نظر نہ لگے“ اور پھر کوئی نہ کوئی فی البدیہہ طنزیہ مزاحیہ فقرہ چُست کرتے کہ سرکار خوش ہو جائیں۔ زبان و کردار نسلوں کا پتہ دیتا ہے۔ حکمران کا کردار قوموں کے مستقبل کا۔ آپ بادشاہت ، شہنشاہیت کے صفحات اُلٹ پلٹ کر دیکھ لیں بڑی بڑی سلطنتوں کا زوال اسی طرح ہوا کہ شہنشاہ، بادشاہ سلامت بڑے بڑے معرکوں پر توجہ مرکوز کرنے کی بجائے بھانڈ مراثیوں سے قصیدے سنتے رہے، دشمن پر پھبتیاں کستے رہے، ذو معنی طنزیہ باتوں کے سحر میں آخری لمحے تک یہی سمجھتے رہے کہ ہم نے دشمن کو زیر کرلیا مگر تاریخ گواہ ہے کہ دشمن نے انہیںدو زانو چت کردیا۔ آج جس دوراہے پر ہم کھڑے ہیں اور جو جنگیں سر پر منڈلا رہی ہیں اور ہمارے حکمران جن بھانڈ مراثیوں میں گھرے بیٹھے ہیں مستقبل کا پیغام ہے کہ نائی کی دکان بند ہوچکی اب فیصلے ہیئر ڈریسنگ سیلون میں ہوں گے ۔ پوپ فرانسس کا پیغام زندہ قوموں اور انسانوں کے لئے ہے ہمارے لئے نہیں۔ ہوشیار رہیئے! مئی کے بعدکھلاڑی کو اکیلے کُھل کھیلنے کے لئے کھلا میدان ملے گا۔ بلاول کے ساتھ چودھری برادران اہم ہوتے جائیں گے۔ شریف خاندان کا سیاسی دور ختم ہو چکا۔ نئے کھلاڑی نئی ٹیموں کے ساتھ میدان میں اتریں گے۔ اب تو کوئی شکوہ نہیں خان جی….

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں