37

کپتان جی! کچھ تو خیال کیا ہوتا

کپتان جی! آپ بڑے معصوم ہیں، سیاست کو بھی کرکٹ سمجھ بیٹھے مگر ہماری سیاست کے بڑے پھیکے رنگ ہیں۔ یہاں خال خال ہی معجزے رونما ہوتے ہیں۔ یہ کرکٹ کا کھیل نہیں کہ ہارے میچ کی آخری بال پر کوئی ”ٹل“ لگ جائے اور گیند ہوا میں لہراتی باﺅنڈری کے پار ہو جائے۔ آپ تو بڑے سخت گیر کپتان تھے لیکن سیاست کے اس میدان میں آپ کمزور ثابت ہوئے۔ آپ نے نو ماہ تک ایک ایسی ٹیم پر تکیہ کیا جس کے تلوں میں تیل نہیں تھا اور آج سب پتے ہوا دینے لگے۔ آپ یقینا بہادر ہوں گے مگر ہارے ہوئے لشکر میں۔ آپ کی ہمت کو داد دینی پڑتی ہے کہ ڈی چوک دھرنے کے آخری ایام میں تن تنہا کنٹینر پر کھڑے رہے اور آپ کو ڈی چوک کی خالی سڑکیں بھی عوام سے بھری نظر آتی رہیں جبکہ عوام تھک ہار کر گھروں کو جا چکے تھے۔ آپ کپتان سے وزیراعظم بن گئے مگر آپ کے اصول اور ہمت وہی رہی۔ آپ کو اسد عمر میں میانداد نظر آیا، عثمان بزدار کی شکل میں وسیم اکرم مگر کپتان جی! سیاست میں ایسا نہیں ہوتا۔ اس کے رنگ نرالے ہیں۔ یہ کبھی آسمانوں کو چھوتی ہے تو کبھی گہری زمینوں میں دفن ہو جاتی ہے اور پھر کبھی اٹھنے کا نام تک نہیں لیتی۔ یہاں بڑے بڑے سیاسی پہلوان لمحوں میں چت ہوگئے، کپتان جی! آپ سے بہت شکوہ ہے، اب آپ ہمارے وزیراعظم ہیں، آپ نے گلی محلے میں ٹیپ بال کھلاڑیوں کو ٹیسٹ میچ کھیلنے پر لگا دیا۔ یہ کوئی عقل مندی تو نہیں تھی۔ آپ میں ہزار خوبیاں، نیت پر کوئی شک نہیں، آپ کی دیانت کو بھی مان لیتے ہیں مگر آپ کی آستین میں سانپ، جیب میں کھوٹے سکے ڈال کر دنیا کو فتح کرنے کی سستی تدبیر کوئی دانش مندی تو نہیں تھی۔ یہ تو آپ بھی اچھی طرح جانتے ہیں آٹھ نو ماہ کسی بھی تخلیق کو حقیقت کا روپ دینے کے خدائی فیصلے ہیں۔ ان ایام میں احتیاط بھی تو لازم ہے۔ کسی ناگہانی ٹھوکر سے بچنے کی کوشش تو انسانی دسترس میں تھی۔ کپتان جی! آپ نے بڑی لاپرواہی کی،بڑی بے احتیاطی کی۔ اپنا بلڈ پریشر ہائی کرکے سیاسی مخالفین کی ایسی تیسی پھیر دی۔ اپنی بھی حالت غیر کرلی۔ رہی سہی کسر آپ کی سابقہ ٹیم نے نکال دی۔ انہوں نے آپ کے کہنے پر حریفوں کا ایسا باجا بجایا کہ سب کی ”پیں“ بول گئی لیکن آپ کا بھی ستیا ناس کر دیا کہ ہماری قومی کرکٹ ٹیم کے روایتی انداز کی طرح مرکزی بلے باز کالی آندھی کے سامنے کیا ڈھیر ہوا کہ نو رنز پرچھ آﺅٹ ہوگئے اور کمزور بلے بازوں کی ایک لمبی ٹیل کسی بھی وقت ڈھیر ہو جائے گی۔ اوپر سے مشکل یہ پڑی ہے کہ دوسری اننگز میں بھی اسی ٹیم سے کھیلنا ہے اور مخالفین کے رنزوں کا پہاڑ سر پر کھڑا ہے۔ آپ معجزے کے انتظار میں ہیں یا اچانک چار دن بارش کے کہ یہ پانچ روزہ ٹیسٹ میچ ڈرا ہی ہو جائے۔ ادھر پاکستانی عوام ہیں کہ اب بھی کچھ لوگ دعائیں مانگ رہے ہیں کہ کسی طرح آپ کی ٹیم پاﺅں پر کھڑی ہو جائے اور کوئی لمبی پارٹنر شپ لگے، چانسز بہت کم ہیں۔ اب آپ ون ڈاﺅن آئیں یا مڈل آرڈر پر کھیلیں یا آخری بلے باز کے ساتھ میچ کو گھسیٹیں مگر صورت حال یہ بنتی جارہی ہے کہ کسی ایک ”یارکر“ پر پوری ٹیم ڈھیر ہو جائے گی۔ بڑی بدقسمتی ہے جس سیاسی ورلڈ کپ کی تیاری کو تقریباً دو دہائیاں لگا دیں اس کے نتائج مایوس کن نکلے۔ کپتان جی! آپ سے زیادہ کون جان سکتا ہے کہ کبھی کبھی بہت زیادہ پُر اعتماد ہونا بھی بے بی ٹیموں کے ہاتھوں شکست کا باعث بن جاتاہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ آپ اپنی کپتانی کے جوہر دکھاتے ، منیجر اپنا کام اور کوچ اپنی صلاحیتوں کو منواتا اور ٹیم میں کوئی ایک آدھ بھی قابل بھروسہ ، باصلاحیت کھلاڑی ہوتا جو ہارے میچ کو جتوا سکتا مگر آپ کو سمجھانا بھی تو بڑا مشکل کام ہے۔ آپ اپنی فطرت سے ہٹ کر بھی تو کچھ ماننے کو تیار نہیں ہوتے ورنہ اتنے یو ٹرن نہ لینے پڑتے کہ گھر کا راستہ ہی بھول گئے۔ اب تو آپ کے چاہنے والے بھی کہنے لگے ہیں کہ یہ کپتان نے کیا کردیا، ہمیں کہیں منہ دکھانے کے لائق نہیں چھوڑا۔ ہم مخالفین کو گالیاں دیتے رہے۔ میڈیا کا گلا گھونٹتے رہے اور آپ یوٹرن پر یوٹرن لیتے رہے۔ اب تو وہ بھی ناراض ہیں جو آپ پر مکمل بھروسہ کرتے تھے۔ انہیں آپ کے اچانک بڑے یوٹرن پر اعتراض تو ہے ہی کچھ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ پتہ نہیں یہ سب کچھ کیسے ہوگیا؟ اور کچھ شاہ محمود صاحب جیسے بھی ہیں جو اپنی کم علمی پر پردہ پوشی کی خاطر کہتے ہیں کچھ فیصلوں کا پتہ ہوتا ہے مگر ہر بات کہنے کی نہیں۔ وہ بھی بڑے کمال کے کھلاڑی ہیں۔ بظاہر تو نائب کپتان لگتے ہیں مگر ان کی اصل نظر مستقبل کی کپتانی پر ہی رہتی ہے۔ کپتان جی! اب تو صورت حال یہ نظر آرہی ہے کہ کھلاڑی میچ ہارنے کے بعد الگ الگ پروازوں سے گھروں کو لوٹیں گے اور یہ تتر بتر ٹیم نئی نئی سازشیں کرے گی۔ کبھی آپ کے خلاف تو کبھی اپنے خلاف۔ اس ٹیم کے کچھ کھلاڑی خود کو مستقبل کا کپتان سمجھنے لگیں گے ۔ اب تو سوال یہ اٹھنے لگے ہیں کہ آپ نہیں تو پھر کون؟ ڈر یہ بھی ہے کہ کھلے میدان کے میچ میں کوئی ڈرامائی تبدیلی رونما نہ ہو جائے یا کوئی کھلاڑی دانستہ وکٹ کو ٹھڈا مار کر کوئی ہنگامہ ہی برپا نہ کردے۔ خدا کرے ایسا نہ ہو، اس طرح تو پوری دنیا میں ہماری ساکھ خراب ہو جائے گی۔ پہلے ہی بین الاقوامی کرکٹ ٹیمیں ہمارے میدانوں پر کھیلنے کوتیار نہیں، کچھ بیچ بچاﺅ کا معاملہ کرلیں، بڑا دکھ ہوتا ہے آپ کو ناکام ہوتے دیکھتے۔ ایسے لگتا ہے آپ نہیں ہم ناکام ہوگئے۔ آپ نے بار بار ہمارا دل توڑا، ہم نے تو آپ کو گلے سے لگانے کی کوشش کی۔ آپ کو گلی محلوں میں بسنے والوں کی حقیقی داستانیں سنائیں۔ہم تو ان کے دکھوں کا کچھ تو مداوا چاہتے تھے۔ ہم تو چاہتے تھے کہ آپ مدینے کی گلیوں کی طرح پاکستان کی ٹوٹی پھوٹی گلیوں میں ننگے پاﺅں پھرتے، پسینے میں شرابور غریبوں کو گلے لگاتے مگر آپ نے تو غریبوں کے پسینے کو بُو سمجھا اور اپنا دامن بچا لیا۔ اب آپ کو کیا سمجھائیں پتہ نہیں عقل کس چیز کو کہتے ہیں؟ آپ سے تو یہ بھی نہ ہوسکا کہ کوئٹہ میں ہزارہ برادری کے شہیدوں کے یتیم بچوں، بیواﺅں کو بروقت دلاسہ دینے چلے جاتے۔ آپ نے تو یو ٹرن لیتے یہ بھی نہ سوچا کہ مکران میں دشمن نے جو ہمارے دلوں پر چوٹ لگائی اس غم کو کچھ تو کم ہونے دیتے اور تبدیلی کا اعلان دو چار دن ٹھہر کر کرلیتے۔ اُلٹا آپ تو چلے گئے وزیرستان جلسہ کرنے۔ کپتان جی! آپ نے ہمارا دل توڑ دیا، ہمارے خواب چکنا چور کردیئے ، آپ نے تو ہماری سچائی کو بھی ٹھوکر مار دی اور ہمیں بھی اپنا دشمن سمجھ لیا۔ کیا کیا ظلم، ستم نہیں سہا اس قوم نے۔ ہمیں تو اب کسی پر اعتبار نہیں رہا، ایک دن قبل تو آپ کہتے ہیں کہ میں بالکل کنفیوژ نہیں۔ اگلے دن آپ عوام کو اتنا کنفیوژ کرجاتے ہیں کہ سر گھوم جائے۔کپتان جی! کچھ تو خیال کیا ہوتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں