irfan atahr qazi 64

خان صاحب ضد چھوڑ دیں

تبدیلی سرکار کے متبادل کھلاڑی مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے وکٹ پر کریز سنبھالتے ہی چوکے چھکے لگانا شروع کردیئے ہیں اور ان کے فیصلوں کی خیرو برکت سے غریب عوام کے بھی چھکے چھوٹنے لگے ہیں۔ اب تو شائد وزیراعظم صاحب کی کرشمہ ساز معاشی ٹیم کھل کھلا فرنٹ فٹ پرکریز سے باہر نکل نکل کر ”شارٹس“ لگا رہی ہے۔ میچ جو ں جوں ہاتھ سے نکلا جارہا ہے توں توں کھلاڑی بوکھلاہٹ میں گیم پلان کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ”شاہد آفریدی“بننے کی کوشش کررہے ہیں کہ لگ گیا تو چھکا نہ لگا تو بھی ”چھکا“۔ مگر یہ ”چھکا“ شرمندگی والا ہے۔ عوام بھی حیرت زدہ ہیں اور ہم بھی۔ تبدیلی سرکار کا کچھ پتہ نہیں چلتا کہ وہ عوام کے ساتھ مذاق کررہی ہے یا فراڈ۔ پہلے کہتے تھے صرف سو دن، جی ہاں صرف سو دن۔ پھر کہنے لگے تین ماہ، پھر چھ ماہ، ایک دن سرکار فرمانے لگے تین ہفتے میں ایسی خوش خبری کہ اگلے پچھلے تمام گلے شکوے ختم۔ ملک و قوم کی تقدیر بدل جائے گی۔ نہ خوشخبری سنائی نہ تبدیلی آئی، عوام کو صرف لال جھنڈی دکھائی، عجیب تماشا ہے، عجیب مذاق ہے، ایسے لگتا ہے کہ ہمارے خان صاحب اپنی ہاری ٹیم کو اجلاسوںمیں سبز باغ دکھانے کی صورت صرف دلاسے دے رہے ہیں۔ چند دن قبل فرما رہے تھے کہ ” تھوڑا صبر کریں، پیسہ آرہا ہے تبدیلی نظر آئے گی قوم کی تقدیر بدل جائے گی“ اب جو تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں یاروں نے انہیں گھیرا اور گلے شکوے کئے کہ انہیں حکومتی پالیسیوں بارے اعتماد میں نہیں لیا جاتا غیر منتخب لوگوں کی بجائے عوامی نمائندوں کو موقع دیا جائے تو اچھے نتائج برآمد ہوں گے تو خان صاحب کا جواب سنیئے، کچھ سخت فیصلے کرنے پڑتے ہیں اورفرمانے لگے کہ ”نیا بلدیاتی نظام انقلابی ہے، اس نظام سے ملک کی تقدیر بدل جائے گی۔ اختیارات نچلی سطح تک منتقل ہوں گے، نئی معاشی ٹیم آگئی ہے، بہت جلد بہتری آئے گی“ اور ساتھیوں سے کہنے لگے کہ اس نئے نظام کی بھرپور حمایت کریں، گویا کہ دال میں کچھ کالا ہے ، وزیراعظم کو اس نظام پر بھی ساتھیوں کی حمایت حاصل نہیں۔ اس موقع پر وزیردفاع پرویز خٹک نے لقمہ دیا کہ پنجاب کا موجودہ بلدیاتی نظام اچھا ہے تاہم خیبرپختونخوا کے بلدیاتی نظام میں تبدیلی کی ضرورت ہے اور جب ہم خان صاحب سے پوچھیں کہ حکومت کرنا مشکل ہے یا اپوزیشن؟تو جواب سن کر آپ کو بھی حیرت ہی ہوئی ہوگی ۔ بس ایسے محسوس ہونے لگا ہے کہ سب سٹھیا گئے ہیں۔ہم نے اپنی شناخت تو کھو ہی دی تھی اب معاشی خود مختاری بھی گروی رکھ دی ہے۔ترقیاتی ایجنڈا تو پہلے ہی روند ڈالا تھا، کبھی آپ نے سوچا ہے کہ ہمارے ساتھ دشمن نے کیا کیا ہے؟ کون سی ایسی سازش ہے کہ جس نے آج ہمیں اس دوراہے پر لاکھڑا کیا ہے؟ کبھی آپ نے سوچا ہے کہ پانامہ سکینڈل نے کس ملک کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے اور کس ملک کی تمام معاشی بنیادیں ہلا کررکھ دی ہیں؟ کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ یہ پانامہ کا پنڈورہ بکس کس نے، کس وقت اور کیوں کھولا؟ کیا کبھی ہم نے غور کیا ہے کہ پانامہ سکینڈل منظر عام پر آنے کے بعددنیا کا کوئی دوسرا ملک اتنے بڑے سیاسی و معاشی بحران کا شکار نہیں ہوا جتنا آج پاکستان ہے، یہ کس کا ایجنڈا تھا؟ کس نے یہ پنڈورہ بکس کھولا؟ اور اس پنڈورہ بکس کے کھلتے ہی پاکستان کی ترقی کا سفر اچانک کیوں رک گیا؟ سی پیک کو کیوں متنازعہ بنایا گیا؟ اور نئے نئے ایشوز کو بنیاد بنا کر قوم کو پٹڑی سے کیسے اُتارا گیا۔ اس پنڈورہ بکس سے ہم نے دنیا میںبدنامی کے سوا کمایا کیا ہے؟آج ہماری مسلح افواج دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مسلسل جانیں قربان کررہی ہیں اور بے گناہ شہری شہید ہو رہے ہیں، دہشت گردی کا تھما سلسلہ پھر شروع ہوچکا ہے۔ ہر طرف سیاسی انتشار ہی انتشار ہے، سیاست دانوں کی نالائقیاں کہیں یا ان کی مجبوری، ماضی پر نظر دوڑائیں تو آمریت کے دور میں دہشت گردی عروج پر تھی اور جمہوری دور میں سیاسی قیادتوں نے عسکری قیادت کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر ملک کو دہشت گردی سے پاک کرنے اور اقتصادی طور پر مستحکم کرنے کی کامیاب کوشش کی۔ سانحہ اے پی ایس کے بعد پوری قوم میں دہشت گردی کے خلاف لڑنے کا حوصلہ اور عزم نظر آیا اور یہی وہ جذبہ تھا جہاں سے تبدیلی کا ایک نیا سفر شروع ہوا مگر ہمارے دشمنوں نے ہمیں اقتصادی و دفاعی طور پر مفلوج کرنے کے لئے نئی نئی چالیں چلیں اور انہی چالوں میں ایک چال پانامہ لیکس بھی کہی جاسکتی ہے۔ ہمیں یقین کر لینا چاہئے کہ مستحکم معیشت کے بغیر ہم کوئی جنگ نہیں جیت سکتے۔ آج ہمارے پاس کھانے کو پیسہ نہیں ، دفاعی ضروریات پوری کرنے کی خاطر کوئی رقم نہیں۔ غربت کے خاتمے کے لئے حکومت کی جیبیں خالی ہیںتو ایسے میں آپ زیادہ دور نہ جائیے ماضی قریب کی ہی تاریخ پر نظر دوڑائیے تو آپ کے سامنے سوویت یونین ایک زندہ مثال ہے جس کے پاس ٹینک تھے،جنگی جہاز تھے، ایٹمی آبدوزیں تھیں حتّٰی کہ خلائی اسٹیشن تک تھے مگر معیشت کھوکھلی تھی اور ان ہتھیاروں کو استعمال کرنے کے لئے اس کے پاس پیسے نہیں تھے تو وہ جنگ ہار گیا اوراس کا وجود مٹ گیا۔ ہمیں اس حقیقت کو مان لینا چاہئے کہ ہم اقتصادی طور پر بین الاقوامی سازشوںکا شکار ہو چکے ہیں ہمارے گرد پانامہ کو بنیاد بنا کر ایسا جال بچھایا گیا ہے جو نہ صرف ہمار ی سیاسی قیادتوں کو بدنام کررہا ہے بلکہ سیاسی و معاشی طور پر بھی ہمیں کنگال کر چکا ہے۔ خدا نخواستہ آج ہم نے بروقت اورٹھیک فیصلے نہ کئے تو آنے والا وقت اس سے زیادہ خوفناک ہوگا۔ خدارا حالات کی نزاکت کو سمجھئے، لڑائی جھگڑے کی بجائے اس ملک کو سیاسی و معاشی بحران سے نکالنے کی کوئی تدبیر کیجئے۔ بار بار اقتصادی ٹیموں کی تبدیلیاں ہمارے حالات نہیں بدلیں گی۔ ہمیں ماضی کی غلطیوں کا ازالہ کرنا ہوگا، ہمیں سیاسی دشمن داریاں ختم کرنا ہوں گی۔ ملک و قوم کا سوچنا ہوگا، کسی نواز شریف، کسی زرداری، کسی عمران خان کے سیاسی مفادات کی بجائے بس اپنے پاکستان کا سوچنا ہوگا۔ اس کی ترقی کے خواب کو حقیقت کا روپ دینا ہوگا۔ وقت بڑی تیزی سے ہاتھ سے نکلا جارہا ہے۔ خان صاحب تدبر و صبرو تحمل سے کام لینا ہوگا، بلاتفریق سب کو کاروبار کی آزادی دینا ہوگی۔ اس ملک کو اقتصادی طور پر سنبھالنا کسی ایک کے بس کی بات نہیں، اعتماد سازی پہلی شرط ہے۔ آج اگر عمران خان بڑے دل گردے کا مظاہرہ کریں تو نہ صرف پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جاسکتا ہے بلکہ سیاسی طور پر بھی جمہوریت کو مضبوط و مستحکم کیا جاسکتا ہے۔ اس ملک کو چلانا ہے تو سب سے پہلے عوام کے لئے آسانیاں پیدا کریں،سہولتیں دیں، ٹیکس وصول کرنا ہے تو پہلی شرط یہ ہے کہ کاروبار چلنے دیں اور ٹیکس گزاروں کو آڈٹ جیسی آزمائش میں ڈالنے سے گریز کریں۔ خان صاحب! ضد چھوڑ دیں، نظام چلنے دیں، آپ این آر او نہ دیں، قوم کی خاطر مقتدر قوتوں کی موجودگی میں اقتصادی گول میز کانفرنس بلائیں اور اس کانفرنس میں بلا تفریق تمام اہم سیاسی و معاشی سٹیک ہولڈرز کو مدعو کریں، ایک نکاتی ایجنڈا رکھیں ”NO TO IMF “غیروں کی محتاجی سے بہتر اپنوں پر بھروسہ کریں اور اپیل کریں کہ تمام سرمایہ بلاخوف و خطر ملک میں واپس لائیں اور جو سرمایہ ملک میں موجود ہے اسے آزادانہ استعمال کریں اور کرپشن فری، ٹیکس فرینڈلی پاکستان کی بنیاد رکھیں پھر دیکھیں روزگار کیسے نہیں ملتا؟ معیشت کیسے نہیں چلتی؟ امن و استحکام کی فضا کیسے پیدا نہیں ہوتی؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں