jameel athar qazi 74

پروڈکشن آرڈر:قانون میں ترمیم کی ضرورت

اپوزیشن نے الزام عائد کیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سابق صدر آصف زرداری سمیت کسی کے پروڈکشن آرڈر جاری نہیں کیے جائیںگے، قوم کو قرضوں میں جکڑ کر ذاتی تجوریاں بھرنے والے قومی مجرم ہیں ان کے ساتھ مجرموں والا سلوک کیا جائے اور شہباز شریف کو خطاب نہ کرنے دیا جائے۔ انہوں نے اپنے پارلیمانی رہنمائوں کو ہدایت دی ہے کہ اپوزیشن والوں کو بھرپور جواب دیں وہ ڈاکو ہیں، جبکہ مقتدر جماعت کے اراکین نے اس الزام کو سرے سے رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے ایسا کوئی حکم نہیں دیا کہ صدر آصف زرداری سمیت کسی کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ کئے جائیں۔
بہرحال وزیراعظم نے ایسا کوئی حکم دیا ہے کہ نہیں اس سے قطع نظر اگر انصاف کی نظر سے دیکھا جائے تو ریمانڈ کے دوران پروڈکشن آرڈر انصاف اور تحقیق کی راہ میں روڑے اٹکانا ہے کیونکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے جب کسی سیاسی رہنما یا کسی سیاسی جماعت کے کارکن کو حراست میں لے کر اس کے خلاف تحقیقات کا آغاز کرتے ہیں اور اس کام کے لئے عدالت سے ملزم کو ریمانڈ میں لیتے ہیں تو عدالت یہ ریمانڈ مخصوص ایام کے لئے دیتی ہے جن کے بعد تحقیق کرنے والے ادارے پر لازم ہوتا ہے کہ ملزم کو عدالت میں پیش کرے، اس مرحلے پر بھی بعض اوقات تحقیقی ادارہ ریمانڈ میں مزید توسیع کی درخواست دیتا ہے لیکن ریمانڈ میں توسیع دینا یا نہ دینا عدالت کا کام ہے اور اکثر مقدمات میں عدالت مزید ریمانڈ نہیں دیتی جبکہ پروڈکشن آرڈر جاری کردینے سے سیاسی ملزم اس سے ناجائز فائدہ اٹھاتے اور خود کو قانون سے بالاتر رکھنے کے جتن کرتے ہیں جس بنا پر قانون نافذ کرنے والے ادارے لاچار ہوجاتے ہیں کہ پروڈکشن آرڈر کی بنا پر ملزم کسی نہ کسی بہانے سارا دن اسمبلی میں گزارتا ہے اور شام کو رہائش گاہ پر جاکر بھی تحقیقی ادارے کے کسی سوال کا جواب دینے کے بجائے تھکاوٹ کا بہانہ بنا کر لیٹ جاتا ہے اس ضمن میں میاں شہباز شریف اور ان کے جماعت کے دیگر کئی ارکان کی مثال ہمارے سامنے ہے، اس ضمن میں نیب نے کئی بار شکایت بھی کی ہے کہ پروڈکشن آرڈر ان کی تحقیق کی راہ میں رکاوٹ بن جاتے ہیں اور یہ حقیقت بھی ہے کراچی میں سپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کا کیس بھی ہمارے سامنے ہے جہاں حکومت نے ان کے پروڈکشن آرڈر جاری کرکے انہیں اسمبلی میں شرکت کے لئے بلایا اور انہیں باہر رکھنے کے لئے پہلے اسمبلی کا طویل ترین اجلاس تقریباً دو ماہ تک تسلسل کے ساتھ جاری رکھا اور اب اسمبلی میں سپیکر چیمبرز کو سب جیل قرار دے کر آغا سراج درانی کے لئے مستقل طور پر اسمبلی میں ہی رہنے کا بندو بست کردیا۔ ایسے اقدامات قانون کی راہ میں روڑے اٹکانے کا سبب ہیں، ہمارے ہاں ابھی سیاسی بلوغت نہیں آئی کہ کسی سیاسی جماعت کے ارکان اپنی قیادت کے خلاف کسی قسم کا الزام عائد ہونے کی صورت میں اس سے سوال کرنے کی جسارت کرسکیں وہ ہر حال میں اپنے قائد کی حمایت ہی واجب سمجھتے ہیں جس سے ملک و قوم کا نقصان ہوتا ہے۔
اس اعتبار سے وزیراعظم عمران خان کی یہ بات درست ہے کہ کوئی سیاسی رہنما یا حکومت کا وزیر بد عنوانی کا مرتکب ہو تو اس کو جمہوری سہولتیں نہیں ملنی چاہئیں۔ یہ جو پروڈکشن آرڈر کا جمہوری حق ہے پاکستان میں خال خال ہی سیاسی قیدیوں کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔ اس کھیل کے مطابق ایک حکومت اپوزیشن پر بدعنوانی کے مقدمات قائم کرتی ہے، تفتیش ہوتی ہے پھر گرفتاریاں ہوتی ہیں پھر جیل سے ہسپتال منتقلی ہوتی ہے اور پھر پروڈکشن آرڈر ہوتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ قومی ہیرو کسی جان لیوا مہم میں کامیابی حاصل کرکے آرہے ہیں، فتح کے نشان بناتے ہوئے تصاویر کھنچواتے ہوئے، اگر وہ حقیقت میں کسی سنگین جرم میں ملوث ہوں تو اس سے نئی نسل پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں کہ وہ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ سیاست میں جاکر انسان اپنے جرائم پر پردہ ڈالتے ہوئے سزا سے محفوظ رہتا ہے اور اگر بچوں کے ذہنوں میں ابتدا ہی سے یہ تصور پیدا ہوجائے تو وہ بڑے ہوکر سیاست میں اسی مقصد کو بنیاد بنا کر آتے ہیں کہ جرائم کریں گے اور قانون کی گرفت سے محفوظ رہیں گے اور ہمیں بارہا اپنی جمہوریت میں اس کا تجربہ ہوچکا ہے کہ سیاسی افراد نے مختلف جرائم کئے اور تحقیق کے لئے آنے والے پولیس اہل کاروں کو بھی مار بھگایا، اس کی ایک مثال سندھ میں اس وقت دیکھنے میں آئی جب رینجرز کے جوان ایک تحقیق کے سلسلے اندرون سندھ گئے اور وہاں پیپلز پارٹی کے جیالوں نے انہیں کام نہ کرنے دیا اور زبردستی واپس لوٹا دیا، جب یہ حقیقت ہم پر واضح ہے کہ سیاسی جماعتوں کے مختلف جرائم میں شامل افراد پروڈکشن کی سہولت سے ناجائز فائدہ حاصل کرتے ہیں تو اس قانون میں یہ وضاحت کردینی چاہئے کہ عدالت سے سزا ملنے کے بعد جیل میں قید سیاسی کارکن کو تو پروڈکشن آرڈر کے ذریعے بلایا جاسکتا ہے لیکن زیر تفتیش یا ریمانڈ پر کسی سیاسی قیدی کے لئے پروڈکشن آرڈر جاری نہ کئے جائیں، تاکہ تحقیقات میں کسی قسم کی رکاوٹ کا سامنا نہ ہو اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کسی بھی مقدمے کی تفتیش میں لاچار نہ ہوجائیں۔

جہاں تک پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کاسوال ہے تو یہ اختیار سپیکر کو ہوتا ہے لیکن ہمارے ہاں ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ اگر سپیکر پروڈکشن آرڈر جاری کرنے میں تاخیر کرے تو اپوزیشن اس پر حکومتی حمایت کا الزام عائد کردیتی ہے جبکہ سپیکر اسمبلی کسی جماعت کا نہیں بلکہ آزاد ہوتا ہے، لہذا ایسی صورت میں اگر سپیکر پروڈکشن آرڈر جاری نہیں کرتا تو اس پر جانب داری کا الزام عائد ہوتا ہے اور اگر جاری کرتا ہے تو تحقیقات کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کا موجب بنتا ہے، ان حقائق کی روشنی میں فی الحال یہ بھی ممکن نہیں کہ حکمران جماعت پروڈکشن آرڈر کے حکم کے قانون میں کسی قسم کی ترمیم کرے کیونکہ اپوزیشن ایسی کسی بھی قانون سازی میں حصہ بننے کے بجائے اس کی مخالفت کرے گی اس لئے اب ذمہ داری سپریم کورٹ کے کاندھوں پر عائد ہوتی ہے کہ وہ وطن عزیز میں جاری سیاست دانوں کے جرائم اور ان کے خلاف جاری مقدمات کودیکھتے ہوئے پروڈکشن آرڈر کے حوالے سے تشریح کردے جس میں کسی بھی ملزم کو عدالت سے سزا ہونے کے بعد تو پروڈکشن آرڈر کے ذریعے جیل سے اسمبلی کے اجلاس میں بلایا جاسکتا ہو اور زیر تفتیش یا جن ملزموں کا ریمانڈ عدالت سے جاری ہوچکا ہو ان کے لئے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کی ممانعت کردی جائے، کیونکہ اس وقت بھی پنجاب اسمبلی کے اسپیکر چوہدری پرویز الٰہی نے قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز کے پروڈکشن آرڈر جاری کردیے، آصف علی زرداری اور فریال تالپور کو بھی یہ حق مل گیا۔ ہمارے ان ہی رویوں سے جمہوریت کو بھی نقصان پہنچتا ہے اور ملک کو بھی۔ لہٰذا اگر وزیراعظم عمران خان پروڈکشن آرڈر کے حوالے سے کوئی تبدیلی چاہتے ہیں تو اسمبلی سے قانون منظور کرائیں لیکن چونکہ ایسا ہونا ممکن نہیں کیونکہ اپوزیشن ایسے کسی قانون کی سخت مخالفت کرے گی لہذا مقتدر جماعت کو سپریم کورٹ سے رجوع کرکے عدالت عظمیٰ سے پروڈکشن آرڈر کی وضاحت کرانی چاہئے تاکہ قانون نافذ کرنے والوں کو ملزموں کے خلاف تحقیقات میں کسی قسم کی رکاوٹ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
شیئر کریں:

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں