152

بات تو ہے رسوائی کی

ڈیڑھ ماہ قبل سابق وزیراعظم میاں نواز شریف جو پانامہ لیکس مقدمہ میں بدعنوانی کے الزام میں سزائے قید بھگت رہے ہیں، کے وکلاء نے عدالت عظمیٰ میں درخواست دی تھی کہ میاں نواز شریف ذہنی دبائو کا شکار ہونے کی بنا پر جیل میں امراض قلب کا علاج نہیں کراسکتے لہذا ان کو آٹھ ہفتے کیلئے ضمانت پر رہا کردیا جائے تاکہ ذہنی دبائو سے نجات دلانے کے بعد ان کے معالجین انکے امراض قلب کا علاج کرسکیں، اس پر فاضل عدالت نے چھ ہفتے کی ضمانت قبول کرتے ہوئے انہیں علاج کیلئے جیل سے باہر نکالنے کا حکم جاری کردیا، واضح رہے کہ اس سے قبل وزیراعظم عمران خان، وزیراعلیٰ پنجاب اور دیگر اہم اور ذمہ دار شخصیات کی جانب سے سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کو یہ پیشکش کی جاتی رہی کہ وہ پاکستان میں جس شہرمیں اور جس ڈاکٹر سے چاہیں علاج کراسکتے ہیں اور اگر لندن میں انکا سابقہ ادوار میں معالج سے ہی علاج کرانا مقصود ہے تو وہ ان کو بھی پاکستان بلا سکتے ہیں اس ضمن میں بھی حکومت انکی مدد کریگی لیکن میاں نواز شریف نے اس کو قابل اعتناء نہ گردانا اور چھ ہفتے کی ضمانت پر رہائی حاصل کرلی۔ رہائی کے بعد میاں نواز شریف نے جس انداز میں وقت گزارا اس کو دیکھ کرایسا محسوس ہوتا ہے کہ انکے جیل سے باہر آنے کا مقصد علاج نہیں بلکہ کچھ اور تھا کیونکہ رہائی کے بعد وہ ایک دن بھی کسی ہسپتال میں داخل نہیں ہوئے بلکہ شریف میڈیکل سٹی ہسپتال میں صرف ٹیسٹ کراتے رہے۔ جب وہ جیل میں تھے تو وہ خود، ان کی بیٹی مریم صفدر، حمزہ شہباز اور دیگر مسلم لیگی اکابرین یہ دہائی دیتے رہے کہ میاں نواز شریف بہت بیمار ہیں، انکو انجائناکی تکلیف ہورہی ہے اورجیل انتظامیہ ان کو علاج کی سہولت فراہم نہیں کررہی، انہوں نے اور پیپلزپارٹی کے خورشید شاہ نے دھمکی دی کہ اگر میاں نواز شریف کو خدانخواستہ کچھ ہو گیا تو اسکی ذمہ داری وزیراعظم عمران خان اور پنجاب حکومت کے اہم عہدیداروں پر ہوگی۔
سوال یہ ہے کہ میاں نواز شریف کو وزیراعظم عمران خان نے انتقامی کارروائی کے تحت جیل میں نہیں ڈالا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ انکے خلاف بدعنوانی کا مقدمہ چلا جو و زیراعظم عمران خان نے نہیں بلکہ انکی بدقسمتی کہ بین الاقوامی سطح پر پانامہ لیکس منظر عام پر آگئیں جس میں بڑے بڑے پردہ نشینوں کے نام دنیا کے سامنے آگئے اور دنیا بھر میں بچہ بچہ جان گیا کہ کن کن مشہور شخصیات نے کتنے بھیانک انداز میں قومی دولت کی لوٹ مار کی ہے۔میاںنوازشریف اپنی جائیدادوں کی منی ٹریل دینے سے قاصر رہے۔اس جرم کی پاداش میں ان کو قید کی سزا ہوئی جس میں نہ تو وزیراعظم عمران خان کا ہاتھ تھا اور نہ ہی یہ کوئی سیاسی مقدمہ تھا بلکہ بین الاقوامی سطح پر چند بین الاقوامی رپورٹروں کی جانب سے تحقیق کے نتیجے میں ظاہر ہونے والی غیر قانونی سرمایہ کاری پر مقدمہ چلایا گیا تھا۔ اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ میاں نواز شریف عارضۂ قلب کا شکار ہیں لیکن اس ضمن میں انہیں منی لانڈرنگ جیسے جرم کے ارتکاب سے پہلے سوچنا چاہئے تھا جب عدالت نے سزا دے دی تو پھر سزا بھگتنا ان پر واجب تھا، جہاں تک بیماری کاتعلق ہے تو قیدی بیمار بھی ہوتے ہیں اور جیل میں ہی ان کا علاج بھی ہوتا ہے، اور قیدیوں میں اسلامی اصولوں اور قوانین کیمطابق کسی قسم کی کوئی درجہ بندی ہے نہ ہی کوئی کلاس، یہ تمام مغربی کلچر کا حصہ ہے جو ہم نے اپنا لیا، اور میاں نواز شریف کو جو اضافی سہولت دی گئی اب کوئی اور قیدی بھی اس کا مطالبہ کرسکتا ہے کیونکہ قیدی کوئی بھی ہو وہ ذہنی دبائو کا شکار تو ہوتا ہی ہے۔
سپریم کورٹ کی جانب سے میاں نوازشریف کو چھ ہفتے کی رہائی کے حکم کے ساتھ ہی یہ بھی جتلادیا گیا تھا کہ ضمانت کی مدت کے خاتمے پر میاں نواز شریف کی قید پھر سے شروع ہوجائیگی اور وہ ضمانت کی مدت ختم ہونے پر جیل لوٹ جائینگے اور اگر وہ خود نہ لوٹے تو انہیں گرفتار کرکے جیل میں ڈالا جائیگا اس حکم کی روشنی میں ضمانت کے چھ ہفتے کے خاتمے پر میاں نواز شریف کو شرافت کے ساتھ جیل میں جانا چاہئے تھا لیکن اسکے برعکس ایک تو انہوں نے چھ ہفتے علاج کیلئے حاصل کردہ ضمانت سے استفادہ کرتے ہوئے علاج نہ کرایا بلکہ صرف ٹیسٹ ہی کراتے رہے یہ بھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عدالت کو مطمئن کرنے کیلئے ہی کرائے گئے، جبکہ میاں نواز شریف نے باقاعدہ ایک جلوس کے ساتھ جانے کا اعلان کیا اور ساتھ ہی یہ بھی بتادیا کہ کہ افطاری کے بعد گھر سے نکلیں گے اور رات بارہ بجے تک جیل پہنچ جائیں گے جبکہ جیل کا دن غروب آفتاب کے ساتھ ہی ختم ہوجاتا ہے۔ اسکے باوجود نہ صرف میاں نواز شریف اپنے مؤقف پر ڈٹے رہے بلکہ جیل سے جو ٹیم انکے گھر انہیں حراست میں لینے پہنچی انہوں نے اسکے سامنے سرنڈر بھی نہیں کیا ، سوال یہ ہے کہ میاں نوازشریف کو معاشی جرائم کی بنا پر سزائے قید ہوئی تھی یہ کوئی سیاسی قید نہیں تھی اور انہوں نے سپریم کورٹ سے بیماری کے علاج کے بہانے چھ ہفتے کی ضمانت پر رہائی حاصل کی تھی، اپنے وقت پر جیل جانا ان کی اخلاقی اور قانونی ذمہ داری تھی لیکن اپنے کارکنوں کو بلا کر جس انداز میں وہ جیل کی جانب گئے یہ اس پیغام کے مترادف ہے کہ قومی دولت لوٹو اور پھر ہیرو بن کر جیل جائو، بیماری کی صورت میں سزائے قید ختم کرائو ضمانت پر رہائی حاصل کرو اور پھر کارکنوں کے ہجوم میں دھوم دھڑکے کے ساتھ جیل جائو، اس پر بھی دھمکی دو کہ اگر جیل میں ان کو کچھ ہوگیا تو اس کی ذمہ داری وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب پر عائدہوگی، اب سوال یہ ہے کہ ان پر ذمہ داری کیوں؟ کیا سیاست دان کو قومی دولت لوٹنے کا پورا حق ہوتا ہے؟ کیا میاں نوازشریف اپنی دولت کا حساب دے سکتے ہیں کہ کہاں سے کتنی دولت کمائی؟ اس کا بھی انکے پاس کوئی جواب نہیں، اقامہ رکھنے کا مقصد اپنی چوری کی جانے والی دولت کو دوسرے ملک سے مغربی ملکوں میں تبدیل کرنا ہوتا ہے کیونکہ پھر قانونی کارروائی کی صورت میں مغربی بینک اقامہ والے ملک کا شہری قراردیتے ہوئے کارروائی کرتے ہیں لہذا پاکستانی کے اکائونٹ بھی پاکستانی کے بجائے اقامہ والے ملک کا شہری ہونا سمجھا جاتا ہے جس سے وطن عزیز کے قانون نافذ کرنے والے ادارے اقامہ کے حامل چوروں پر ہاتھ نہیں ڈال سکتے، اس لئے یہ کہنا کہ اقامہ ہونے پر یا بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر سزا دی گئی درست نہیں۔ بہرحال میاں نوازشریف نے ضمانت کی مدت ختم ہونے پرخود کو گرفتاری کیلئے جیل حکام کے حوالے نہیں کیا جو انکی رہائش گاہ پر پہنچ گئے تھے۔ اب مزید مقدمات کے اندراج کے امکان کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا اب ن لیگی عہدیدار کی ذمہ داری عمران خان یا کسی دوسرے پر ڈالنے کے بجائے حقائق کا سامنا کریں اور سچ بولنے کا حوصلہ بھی پیداکریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں