102

دہشت گردی کی نئی لہر

شمالی وزیرستان میں پاک افغان سرحد پر باڑ لگاتے ہوئے فوجی جوانوں پر افغانستان سے دہشت گردوں نے حملہ کردیا جس کے نتیجے میں پاک فوج کے تین جوان شہید اور سات زخمی ہوگئے ، فوجی جوان شمالی وزیرستان کے سرحدی علاقے الواڑہ میں باڑ لگانے میں مصروف تھے کہ 60 سے 70 دہشتگردوں نے بھاری ہتھیاروں سے دھاوا بول دیا تاہم پاک فوج کے جوانوں نے حملہ پسپا کردیا اور جوابی کارروائی میں کئی دہشتگرد مارے گئے۔ پاک فوج کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان تمام رکاوٹوں کے باوجود باڑ لگانے کا عمل جاری رکھے گا، افغانستان کی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال نہیں ہونی چاہئے، افغان سیکیورٹی فورسز اور حکام کو سرحد پر کنٹرول موثر بنانے کی ضرورت ہے۔ ادھر پاکستان نے افغان ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کرکے حملے پر احتجاج کیا۔ علاوہ ازیں بلوچستان کے ضلع ژوب میں بھی افغانستان سے 5 راکٹ فائر کئے گئے جس سے 2 افراد زخمی ہوگئے۔ پاکستانی سیکیورٹی اہل کاروں نے فوری جوابی کارروائی کی جس سے حملہ آور فرار ہوگئے۔
واضح رہے کہ سرحد پر باڑ لگاتے ہوئے ہمارے فوجی جوانوں پر افغانستان سے دہشتگردوں کا حملہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے حالانکہ پاکستان نے متعدد بار افغانستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھی اپنی سرحد کو محفوظ بنائے اور افغان سرزمین کو پاکستان کیخلاف استعمال نہ ہونے دے، لیکن اسکے باوجود افغان قیادت کے کان پر جُوں نہیں رینگی، حیرت کی بات یہ ہے کہ افغانستان میں امریکی فوجیں بھی موجود ہیں‘ انکی جانب سے کسی حملے کی مذمت بھی نہیں کی جاتی بلکہ الٹا وہ پاکستان کی حدود سے افغانستان میں دہشتگردی کی شکایت کرتے رہے ہیں، اور یہ صرف امریکی فورسز یا افغان حکومت کا رویہ ہی نہیں بلکہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں پشتونوں کے مفادات کی خود ساختہ نگران پی ٹی ایم کا بھی یہی رویہ ہے کہ وہ بھی افغانستان کی جانب سے ہونیوالے حملوں کی مذمت نہیں کرتی، اس روئیے سے احساس ہوتا ہے کہ پاک فوج کی جانب سے جس طرح پی ٹی ایم کو دہشت گرد قرار دیا گیا ہے وہ سو فیصد حقائق پر مبنی ہے۔ اس ضمن میں دکھ کی بات یہ ہے پاکستان کی سیاسی جماعتیں تمام تر احتیاط کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پی ٹی ایم کے وطن دشمن عناصر سے سرعام ملاقاتیں کررہی ہیںجبکہ یہ افسوس ناک صورت حال بھی دیکھنے میں آئی کہ پی ٹی ایم کے اہم رکن پریس کانفرنس کیلئے آئے تو پیپلزپارٹی کے فرحت اللہ بابر ان کے ہمراہ بیٹھے نظر آئے، جبکہ بلاول زرداری بھی پی ٹی ایم کے حق میں بیانات دیتے رہتے ہیں، موجودہ حالات نے ماضی کے وہ تلخ لمحات کو ذہن میں تازہ کردیا جب پاک فورسز نے شیخ مجیب الرحمن کو حراست میں لیکر قید میں ڈال دیا تھا۔ آج ایک بار پھر تاریخ خود کو دُہرا رہی ہے کہ فوج کے ترجمان ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے تین روز قبل اس ضمن میں میڈیا کو بریفنگ دی اور پی ٹی ایم کے حوالے سے اسکی وطن دشمنی پوری قوم پر عیاں کردی، لیکن ابھی اس کیخلاف کوئی قدم اٹھایا بھی نہیں گیا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اسکی ہمدرد بن کر سامنے آگئی۔ ویسے اگر پیپلز پارٹی کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو ذوالفقار علی بھٹو شہید کی محب وطن پیپلز پارٹی محترمہ بے نظیر بھٹو کی زندگی تک قائم رہی اور انکی شہادت کے ساتھ ہی وہ محب وطن اور غریبوں کی دوست پیپلزپارٹی بھی شہید ہوگئی تھی۔ اب جو آصف علی زرداری کی پیپلز پارٹی ہے اسکے جذبۂ حب الوطنی کو دیکھنا ہو تو اسکے امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کے کردار پر نظر ڈالیں جنہوں نے وطن دشمنی کی تمام سرحدیں عبور کرلی ہیں، جبکہ پی ٹی ایم کے ارباب اختیار بیرون وطن جاکر وطن دشمن عناصر سے کھل کر ملاقاتیں کرتے ہیں اور صرف یہی نہیں بلکہ بلوچستان میں نام نہاد آزادی پسند لیڈروں سے بھی ملاقاتیں کرتے ہیں، بھارتی خفیہ ایجنسی را اور افغان خفیہ ایجنسی این ڈی ایس سے وطن عزیز میں بدامنی پھیلانے کیلئے بھاری رقوم وصول کرتے ہیں، اب اگر اس پیمانے پر دیکھا جائے کہ وطن دشمن عناصر کے ہمدردوں کے جذبۂ حب الوطنی پر سوالیہ نشان تو لگتے ہیں۔ بلاول زرداری کی طرف سے پی ٹی ایم کی حمایت میں بولنا اور پی ٹی ایم کے قائد کے ساتھ فرحت اللہ بابر کا بیٹھنا ذہنوں میں نہ صرف بہت سے سوالات کو جنم دیتا ہے بلکہ بہت سے خدشات پیدا کرنے کا باعث بھی بن رہاہے، جہاں تک بلاول بھٹو زرداری کا تعلق ہے تو وہ نوجوان خون ہے اور ان کے جذبہ حب الوطنی پر کوئی حرف نہیں لیکن اس امکان کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ آصف علی زرداری اپنے معاشی جرائم پر پردہ ڈالنے اور قید وبند کی صعوبتوںسے بچنے کیلئے بیٹے کو استعمال کررہے ہوں، کیا تاریخ ایک بار پھر خود کو دہرا رہی ہے؟ اگر ایسا ہے تو فوج کو اس ضمن میں کسی رُو رعایت سے کام نہیںلینا چاہئے اور خواہ کچھ بھی کیوں نہ ہو وطن دشمن عناصر پر وطن دشمنی کے الزام میں مقدمہ چلاکر انہیں قرار واقعی سزا دینی چاہئے۔ اس میں خواہ کتنی ہی مقبول سیاسی جماعت کے کتنے ہی مقبول لیڈر کیوں نہ شامل ہوں کیونکہ 1971ء کی خونیں تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ سیاستدانوں کے غلط فیصلوں کے نتائج پوری قوم کو بھگتنا پڑتے ہیں جن سے فوج بھی متاثر ہوتی ہے، لہذا ایسا تساہل ہی کیوں برتا جائے جو پوری قوم کیلئے قیامت خیز ثابت ہو۔ واضح رہے کہ ہم نہ تو کسی سیاسی جماعت کی حمایت میں ہیں اور نہ ہی کسی کیخلاف بلکہ 1971ء کی تاریخ ہمیں یہی درس دیتی ہے کہ سیاستدانوں کے غلط فیصلوں کا خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا پڑتا ہے اگر اُس وقت جنرل یحییٰ خان کے فیصلے سے اختلاف نہ کرتے تو ہنگامے ضرور ہوتے، احتجاج ضرور ہوتا لیکن مشرقی پاکستان پاکستان کا ہی حصہ ہوتا۔ اسی بنیاد پر آج ہمیں یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ وطن کی سلامتی پر کسی سیاسی جماعت سے کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے اور بر وقت اقدام لازماً عمل میں لائے جائیں۔
لیویز حکام کے مطابق تقریباً ایک ماہ قبل ضلع ژوب کی حدود میں پاک افغان بارڈر پر فینسنگ کے سلسلے میں خاردار تار کی تنصیب کا عمل شروع کیا گیا تھا ژوب کے قریب بلوچستان کی حدود میں پاک افغان بارڈر پر پہلی بار فینسنگ شروع کی گئی ہے، یہ بھی ذہن میں رہے کہ پاکستان کی جانب سے افغان صدر کو متعدد مرتبہ پاک افغان سرحد کو محفوظ بنانے کی دعوت دی گئی ہے، یاد رہے کہ ماضی میں افغان حکومت کو شکایت تھی کہ پاکستان کی جانب سے دہشتگرد افغانستان میں جاکر دہشتگردی پرمبنی کارروائیاں کرتے ہیں جبکہ حقائق یہ ہیں جب سے پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کا عمل شروع ہے اسی وقت سے دہشتگردوں نے افغانستان کی جانب سے پاک فوج پر حملوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ افغان صدر اشرف غنی، جو پاکستان سے دہشتگردوں کی دراندازی کی شکایات کرتے تھے اب انہیں افغانستان کی جانب سے دہشت گردوں کی یہ دراندازی کیوں نظر نہیں آرہی، یہاں ایک اور سوال بھی ذہن میں ابھرتا ہے کہ افغانستان کی آبادی میں طالبان ہیں اور شمالی اتحاد کے افراد ہیں یا پھر ہزارہ قبائل ہیں، جہاں تک انکی پاکستان دشمنی کا تعلق ہے تو طالبان بھی پاکستان کے دوست ہیں اور اگر دوست نہیں تو دشمن بھی نہیں ہیں، اسی طرح شمالی اتحاد کو پاکستان سے شکایات تو بہت سی ہیں لیکن یہ شکایات اس نہج پر نہیں پہنچیں کہ وہ پاکستان کیخلاف حملے شروع کردیں، ہزارہ قبائل تو خود پاکستانی بلوچستان میں بھی آباد ہیں لہذا وہ بھی پاکستان کے دشمن نہیں ہوسکتے بلکہ دوست ہی ہیں پھر یہ کون لوگ ہیں، کیا یہ وہ بھارتی ہیں جو بھارت نے داعش میں شمولیت کیلئے بھارت سے بھیجے ہیں؟ یا افغانستان میں کہیں اور سے بھی کچھ لوگ آکر آباد ہوگئے ہیں جو پاکستان دشمنی میں اس حد تک چلے گئے ہوئے ہیں فوجی جوانوں کو ہدف بناتے ہیں۔ اس کا جواب افغان حکومت دے سکتی ہے یا پھر این ڈی ایس لیکن این ڈی ایس اس لئے مجبور ہے کہ افغانستان میں بھارتی دخل اندازی انتہا کو پہنچی ہوئی ہے، بھارت نے نہ صرف افغان فورسز میں نقب لگائی ہوئی ہے بلکہ این ڈی ایس بھی بھارت کے ہاتھوں میں ہی کھیل رہی ہے۔ ان حالات میں این ڈی ایس کی جانب سے پاکستان مخالف سرگرمیاں کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ جہاں تک اندرونی علاقوں کا تعلق ہے، ویسے تو قبائلی علاقے نہ صرف محب وطن پاکستانی ہیں بلکہ ہماری پہلی دفاعی فورس بھی ہیں البتہ بھارت، اسرائیل یا امریکہ نے پی ٹی ایم کے نام سے جو جماعت قائم کی ہے وہ بظاہر تو خود کو پختون مطالبات کی ترجمان ظاہر کرتی ہے اور یہی دھوکہ دے کر قبائلی نوجوانوں کے دلوں میں اپنے لئے جگہ بناتی ہے اور یہی چیز خطرناک ہے کہ ہمارے قانون نافذ کرنیوالے ادارے کھل کر ملک دشمن عناصر کیخلاف کارروائی کرنے سے قاصر ہیں کہ پی ٹی ایم کی پوری جماعت وطن دشمن نہیں ہے بلکہ وطن دشمن چند ہیں جو دھوکہ دے کرپختون نوجوانوں کو اپنے ساتھ ملارہے ہیں اور ہمارے قانون نافذ کرنے والے ادارے یا فوج ان سادہ لوح محب وطن نوجوانوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرنا چاہتے اور ملک دشمن عناصر ہماری اسی احتیاط سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے پائوں پھیلانے میں مصروف ہیں لیکن اب ہمیں ملک دشمن عناصر کی سرکوبی کرنی چاہئے اور کم از کم پاک فوج کو ان وطن دشمنوں کیخلاف حرکت میں آجانا چاہئے تاکہ ہمیں مزید کسی المئے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں