Jamil Athar Qazi 301

عاشق رسول کے ساتھ ایمان افروز ساعتیں

مجھ گنہگار کو 20 مئی سے 4 جون تک کا عرصہ عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کے لئے سر زمین حجاز میں گزارنا نصیب ہوا۔ ابتدائی پانچ روز مکہ مکرمہ میں گزرے اور آخری دس دن مدینہ منورہ میں قیام کی خوش قسمتی حصے میں آئی۔
مدینہ منورہ میں قیام کے دوران ایک روز نماز ظہر ادا کرنے مسجد نبوی میں پہنچا۔ کمر کی تکلیف کے باعث نماز پڑھنے کے لئے وہیل چیئر ساتھ رکھتا ہوں۔ معمول کے جس دائرے میں مسجد نبوی کے صحن میں نماز ادا کرتا ہوں وہاں اس وقت تک میرے سوا کوئی موجود نہیں تھا۔ کچھ فاصلے پر ایک اور دائرے میں ایک بزرگ کرسی پر تشریف فرما دکھائی دیئے تو بے اختیار اپنی کرسی کھینچ کر ان کے پہلو میں جا بیٹھا اور سلام عقیدت نذر کیا اور انہیں بتایا کہ میںپاکستان سے آیا ہوں۔ انہوں نے نہایت محبت سے اپنا تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ وہ قاہرہ یونیورسٹی میں ایک شعبے کے سربراہ ہیں اور سال میں تین ماہ ایام حج ، کوئی وسطی مہینہ اور پورا رمضان حرمین شریفین میں گزارتے ہیں اور تین ماہ اپنے آپ کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک سچے عاشق ان کے اسوہ حسنہ کی پیروی کرنے والے اپنی اور ان کی سنت جمیلہ کے حقیقی پیروکار کی حیثیت سے اپنی تربیت کرتے ہیں اور سال کے باقی نو مہینے اپنے منصب کی ذمہ داریوں سے انصاف کرتے ہیں اور اپنے ملک کی PRODUCTIVITY بڑھانے میں شب و روز ایک کر دیتے ہیں کیونکہ ملک کی ترقی کی منزل طے کرنے کے لئے یہی کامیابی کا زینہ ہےکہ اپنی اپنی تخلیقی اور پیداواری صلاحیتوں کو بروئے کار لایا جائے۔
انہوں نے یہ گفتگو روکتے ہوئے اچانک مجھ سے سوال کیا کہ کیا مجھے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (ہمارے ماں باپ ان پر قربان ہوں) کی زیارت کا موقع ملا ہے۔ میں نے یہ سوال سن کر نہایت ادب سے جواب دیا۔ ”میں اس قدر خوش نصیب کہاں؟“ چند ساعتوں کے لئے خاموشی چھا گئی۔ پھر میں نے دریافت کیا کہ کیا یہ میں پوچھنے کی جسارت کرسکتا ہوں کہ آپ اس قدر خوش بخت ہیں کہ آپ کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کا موقع ملا؟ انہوں نے بڑے ادب کے لہجے میں کہا۔ ”جی ہاں“۔ پھر آپ نے فرمایا کہ آپ کو معلوم ہے کہ پیغمبر اسلام زندہ ہیں ان کے روضہ اطہر پر جو امتی انہیں سلام پیش کرتا ہے وہ انہیں نہ صرف وعلیکم السلام کہتے ہیں بلکہ ان میں سے ہر شخص کے احوال واقعی کا بھی پورا علم رکھتے ہیں اور اس کی اچھائیوں اور برائیوں کی بھی انہیں پوری آگہی ہوتی ہے۔ پھر انہوں نے ارشاد فرمایا ۔ ”ہم جہاں مسجد نبوی کے صحن میں موجود ہیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم سے کچھ فاصلے پر ہیں مگر وہ ہمارے دلوں کی کیفیات جانتے ہیں۔“ پروفیسر صاحب اپنی دھن میں مگن تھے مگر میں ایک صحافی کی حیثیت سے یہ سوال کر بیٹھا کہ اخوان کے متعلق آپ کیا کہتے ہیں۔ انہوں نے الٹا مجھ سے سوال کر دیا کہ اس سے میری مراد عرب بھائی ہیں یا کوئی خاص گروہ یا جماعت۔ میں نے کہا میری مراد اخوان المسلمون سے ہے۔ انہوںنے پھر ایک اور سوال داغ دیا کہ کیا میرے نزدیک تمام عرب بے وقوف اور احمق ہیں میں نے نہایت ادب سے گزارش کی کہ اس میں عرب و عجم کی کوئی تمیز نہیں ہم سب ایک جیسے ہیں ۔ پھر انہوں نے میرے سوال کا سیدھا جواب دینے کی بجائے یہ فرمایا ہم مسلمانوں میں اقتدار کے حصول کے لئے ہر جائز و ناجائز ذریعہ اختیار کرلیا جاتا ہے اوراقتدار برقرار رکھنے کے لئے بھی جائز و ناجائز کی کوئی تمیز روا نہیں رکھی جاتی۔ پروفیسر عبدالقادر سے اب میں نے ان کا اسم گرامی دریافت کرنے کی جسارت کرلی اور اپنا تعارف بھی کرا دیا۔ انہوں نے مجھ سے پوچھا میری عمر اس وقت کیا ہے میں
نے انہیں بتایا کہ میں عمر عزیز کے 78 برس بسر کر چکا ہوں اور 79 ویں سال میں داخل ہوچکا ہوں یہ سن کر انہوں نے کہا اب مجھے اخوان کے متعلق آپ کا سوال سمجھنے میں آسانی ہوئی ہے۔ میںنے انہیں بتایا کہ میں نے امام حسن البناء شہید اور سید قطب شہید کا مطالعہ کیا ہوا ہے اور میری ہمدردیاں اخوان المسلمون کے ساتھ ہیں۔ میں نے موقع سے فائدہ اٹھا کر دریافت کیا کہ کیا جنرل سیسی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد عام آدمی کی حالت میں کچھ بہتری آئی ہے کیونکہ آئی ایم ایف نے مصر میں مسیحا کا کردار ادا کرنے والے اپنے ایک دانش ور کو اب پاکستان بھیج دیا ہے۔ انہوں نے اس سوال کے جواب میں کہا صدر سیسی مصر کے لئے کچھ کرنا چاہتے ہیں اور آگے بڑھنے کے راستے پر گامزن ہیں اب پروفیسر صاحب پھر اپنے اصل موضوع کی طرف آگئے اور فرمانے لگے۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عشق اختیار کریں ۔ ان کے اسوہ حسنہ کی پیروی کریں اور ان کی سنتوں پر عمل پیرا ہوں۔ امت مسلمہ کے لئے نجات و فلاح کایہی ایک راستہ ہے ہماری گفتگو شائد کچھ وقت اور لے لیتی کہ نماز ظہر کے لئے اذان کی آواز بلند ہوئی میں رخصت چاہنے کے لئے کھڑا ہوا تو پروفیسر صاحب بھی بمشکل اپنی کرسی سے اٹھے، بے اختیار مجھ سے مصافحہ کیا میری پیشانی پر بوسہ دیا، میں نے عرض کیا کہ میں آپ سے ملاقات کے بعد ایک تبدیل شدہ شخص کی حیثیت سے مسجد نبوی سے رخصت ہو رہا ہوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں