بجلی صارفین بِل میں گردشی قرضے بھی ادا کرنے پر مجبور

اسلام آباد(جرات نیوز): بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں اور پاور ڈویژن کی نااہلی کا خمیازہ ملک بھر کی عوام بھگتنے پر مجبور ہیں۔ بروقت بجلی کے بل ادا کرنے والے صارفین سے ماضی کے گردشی قرضے کی ادائیگی اور مارک اپ سود کی مد میں 43 پیسے فی یونٹ وصول کیے جا رہے ہیں، بجلی صارفین اصل قیمت کی بجائے ماہانہ اربوں روپے ادا کرنے پر مجبور ہیں۔ وفاقی حکومت پی ٹی وی فیس،ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ سمیت لاگت پر 17.5 فیصد جی ایس ٹی بھی وصول کر رہی ہے،سلیب سسٹم کی وجہ سے ٹائم آف یوز کے صارفین کو 23 روپے سے زائد فی یونٹ چارج کیا جا رہا ہے۔ آئی ایم ایف کے دباؤ کی وجہ سے تین سو یونٹ کے صارفین کے لیے ٹیرف میں مرحلہ وار اضافہ کیا جائے گا،ذرائع نے بتایا کہ بجلی کی قیمت میں اضافے پر ایف بی آر کو اضافی ریونیو مل رہا ہے۔ وفاقی حکومت نے آئی ایم ایف کی شرط اور نیپرا کے طے کردہ ٹیرف میں آنے والے مہینوں میں 4.5 روپے فی یونٹ بجلی مہنگی کرنے کی تیاری کی ہوئی ہے ،آئندہ مہینوں میں حکومت جب بجلی مہنگی کرنے گی جی ایس ٹی کی مد میں اضافی ریونیو حاصل ہو گا

اپنا تبصرہ بھیجیں