20

مہوش حیات نے لڑکیوں کے رقص پرتنقید کرنے والوں کی زبان بند کروادی

صدارتی ایوارڈ یافتہ اداکارہ مہوش حیات سوشل میڈیا پر حقوق نسواں، ناانصافی اور معاشرتی ناہمواریوں پر کھل کر آواز اُٹھاتی رہی ہیں، یہی وجہ ہے کہ جہاں فن اداکاری میں ان کی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے تمغہ امتیاز سے نوازا گیا وہیں صنفی امتیاز پر آواز اُٹھانے اور سماجی کاموں میں متحرک ہونے پر انہیں وزارت انسانی حقوق نے خیر سگالی کی سفیر برائے کم لڑکیوں پر تشدد مقرر کیا ہے۔مہوش حیات خواتین کے حقوق کے لیے پہلے ہی سوشل میڈیا کافی متحرک تھیں لیکن وزارت قانون کی جانب سے انہیں کم عمر لڑکیوں پر تشدد سے متعلق خیرسگالی کی سفیر مقرر کرنے کے بعد سے ایک چھوٹے سے چھوٹا واقعہ بھی ان کی نظر سے اوجھل نہیں رہتا۔سوشل میڈیا پر موبائل سے بنائی ویڈیو شیئر کی گئی ہے جس میں کالج کی لڑکیاں نغموں پر محو رقص ہیں اور گروپ کی شکل میں ڈانس کر رہی ہیں۔ یہ ایک ایسے پنڈال کا منظر ہے جس میں تمام شرکاء لڑکیاں ہی ہیں لیکن اس کے باوجود ویڈیو شیئر کرنے والے نے کیپشن دیا کہ ’کیا یہ عمل درست ہے یا غلط‘ ؟
لڑکیوں کے حقوق کی خیر سگالی سفیر کی مہوش حیات اس پر کہاں چپ رہ سکتی تھیں، انہوں نے فوری جواباً لکھا کہ اس رقص کا درست یا غلط ہونا معنی نہیں رکھتا لیکن شرم کی بات یہ ہے کہ آج کے دور میں کہیں بھی کچھ بھی پرائیوٹ نہیں رہ سکتا۔ ان لڑکیوں کو نجی محفل میں تو اس اعتماد کیساتھ تفریح کرنے دیں کہ کوئی انہیں غلط نہیں سمجھے گا اور طعنے نہیں دے گا۔
کالج کی لڑکیوں کی حمایت کرنے پر سوشل میڈیا صارفین نے مہوش حیات کے جذبات کی تعریف کی اور ناقدین کی حوصلہ شکنی کرنے کو سراہا۔ مہوش حیات اس وقت اپنے اہل خانہ کے ہمراہ عمرے کے لیے سرزمین حجاز مقدس پر موجود ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں