11 34

ایئر پورٹس پر سمگل شدہ موبائل کی غیر قانونی رجسٹریشن نے وزارت داخلہ،ایف آئی اے اور پی ٹی اے کو چکرا دیا

اسلام آباد:بیرون ممالک سے آنے اور جانے والے ہوشیار ہوجائیں ، جعلی ساز مافیاسے پاکستان کے ہوائی اڈے بھی محفوظ نہیں رہے ،پی ٹی آئی کی طرف سے بیرون ممالک سے سال میں ایک بارفری موبائل لانے کی چھوٹ کا ناجائز استعمال ہونا شروع ہوگیا ۔سکینڈل سامنے آنے پر وزرات داخلہ ، ایف آئی اے اور پی ٹی اے میں کھلبلی مچ گئی ۔ایف آئی اے اہلکار، منی ایکس چینجراور ٹریول ایجنٹ کو گرفتار کرکے تفتیش شروع کردی ۔ بتایا جاتا ہے کہ پی ٹی اے کی جانب سے موبائل رجسٹریشن کی وراننگ کے بعد موبائل فون فروخت کرنے والے ڈیلرز حضرات نے ٹیکس سے بچنے کا نیا طریقہ ڈونڈھ لیا۔موبائل ڈیلرز مافیا نے سمگل شدہ موبائل کی رجسٹریشن ایئر پورٹ پر کام کرنے والے اداروں کے اہلکاروں سے رابطہ کرکے اندرون اور بیرون ممالک سفر کرنے والے پاکستانیوں کے پاسپورٹ نمبر سے لے کر تمام تر تفصیلات حاصل کرکے انہی اہلکاروں کی مدد سے سمگل شدہ موبائل کی رجسٹریشن کا دھندہ کافی عرصہ سے شروع کررکھا تھا ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حقیقت اس وقت سامنے آئی جب پی ٹی اے کی جانب سے اوورسیز پاکستانیوں نے پی ٹی اے کی جانب سے دی گئی فر ی موبائل لانے اور رجسٹریشن کی چھوٹ کو استعمال کرنا چاہتا تو انکشاف ہوا کہ ان کے نام پر پہلے ہی موبائل کی رجسٹریشن ہو چکی ہے۔ جس پر بہت سے لوگوں نے ایف آئی اے شکایات کی درخواستیں دیں ۔جس پر انکوائری شرو ع ہوئی تو یہ میگا سیکنڈل کے طور پر سامنے آیا ۔واضح رہے کہ پاکستان کے مختلف ہوائی اڈوں پر ایف آئی اے کہ 242کاﺅنٹر قائم اور اس میں ساڑھے 7سواہلکار کام کرتے ہیں ۔میگا سکینڈل سامنے آنے کے بعد وزیر داخلہ ، ایف آئی اے اور پی ٹی اے میں ٹکراﺅ کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے ۔ ایف آئی اے کا کہنا ہے ہمارے سمیت12اور محکموں کے پاس ہوائی سفر کرنے والے مسافرو ں کی تفصیلات ہوتی ہیں۔ان بھی شامل تفتیش کرنا چاہئے صرف ایف آئی اے کے اہلکاروں پر الزام لگانا درست نہیں ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ غیر قانونی رجسٹرڈ موبائل کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاﺅن کرنا ہوگا ۔ حکومت نے تینوں اداروں سے رپورٹس طلب کر لی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں