mony laundring 70

حکومت نے منی لانڈرنگ کیخلاف اہم قدم اٹھا لیا

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے فیٹف ایکشن پلان پر عملدرآمد کرتے ہوئے منی لانڈرنگ اور ٹیررازم فنانسنگ کی روک تھام کیلیے وکلا، چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس، ریئل اسٹیٹ ڈیلرز اور قیمتی دھاتوں، پتھروں کے ڈیلرز سمیت دیگر تمام مجاز نان فنانشل بزنس اینڈ پروفیشنز (ڈی این ایف بی پی ایس) کی مانیٹرنگ و نگرانی کا نظام متعارف کروانے کا فیصلہ کیا ہے جس کیلئے وزارت داخلہ،وزارت قانون و انصاف، ایس ای سی پی،ایف بی آر ،ایف آئی اے سمیت چاروں صوبوں کے نمائندوں پر مشتمل خصوصی ورکنگ گروپ قائم کیا جائیگا۔ذرائع کے مطابق مذکورہ ورکنگ گروپ فیٹف کی سفارشات نمبر 22،23 اور28 کے تحت وکلا،چارٹرڈ اکاونٹنٹس،ریئل اسٹیٹ ڈیلرز اور قیمتی دھاتوں ،پتھروں کے ڈیلرز سمیت دیگر تمام رسک بیسڈ مجاز نان فنانشل بزنس اینڈ پروفیشنز(ڈی این ایف بی پی ایس)کی آمدنی و ان کی سرگرمیوں کی مانیٹرنگ و نگرانی سے متعلق دیگرسفارشات پر عملدرآمد کیلئے پالیسی تیار کرے گا۔اس حوالے سے میڈیا کو دستیاب دستاویز کے مطابق وزارت خزانہ کے انٹرنل فنانس ونگ کے انسداد منی لانڈرنگ سیکشن کی جانب سے ورکنگ گروپ کی تشکیل کیلئے چاروں صوبائی چیف سیکریٹریز اور وفاقی وزارت قانون و انصاف،وزارت داخلہ،وزارت تجارت،گورنر سٹیٹ بینک آف پاکستان،فیڈرل بورڈ آف ریونیو،ڈائریکٹر جنرل فنانشل مانیٹرنگ یونٹ،ڈائریٹر جنرل فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی(ایف آئی اے) سمیت دیگر متعلقہ اداروں کو مراسلہ بھجوایا ہے۔مراسلے میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ مجاز نان فنانشل بزنس اینڈ پروفیشنز(ڈی این ایف بی پی ایس)کی مانیٹرنگ و نگرانی کا میکنزم اور پالیسی کی تیاری کیلیے ورکنگ گروپ میں اپنے اپنے ادارے کی جانب سے نمائندہ نامزد کیا جائے لیٹر میں مزید کہا گیا ہے کہ اس ورکنگ گروپ میں نمائندگی کیلئے تمام صوبے اور وفاقی متعلقہ اداروں کی جانب سے کم از کم گریڈ بیس کے افسر کو اس ورکنگ گروپ کیلیے نامزد کیا جائے اور ایسے آفیسر نامزد کیے جائیں جو اچھی گفتگو کرنے والے ہوں اور متعلقہ شعبوں کے حوالے سے معلومات رکھتے ہوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں