tax- 20

وفاقی حکومت کا متعدد مصنوعات پر نئے سیلز ٹیکس عائد اور ٹیکس استثنیٰ واپس لینے کا فیصلہ

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ریونیو اکٹھا کرنے کے لیے متعدد مصنوعات پر نئے سیلز ٹیکس عائد کرنے اور کئی شعبہ جات سے ٹیکس استثنیٰ واپس لینے کی تجاویز کو حتمی شکل دیدی ہے ۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ منصوبہ ٹیکس کی شرح آسان بنا کر جنرل سیلز ٹیکس کی آمدنی میں کافی حد تک اضافے کے لیے ہے، اس وقت موجودہ قوانین کے مطابق ٹیکس کے 272 ریٹس موجود ہیں۔ٹیکس کے یہ ریت بالائی سطح پر عدم مساوات کا باعث ہے کیوں کہ کچھ ٹیکس پیئرز اپنی خریداری پر معمول کی شرح کے مطابق 17 فیصد جبکہ دیگر افراد کم شرح کی ادائیگی کرتے ہیں چنانچہ اس نمبر کو 2 تک کم کرنے کا منصوبہ ہے۔ لہٰذا صرف سیلز ٹیکس میں ایڈجسٹمنٹ کے باعث ریونیو کی پیداوار 509 ارب روپے تک پہنچانے کا عزم کیا ہے جبکہ بقیہ رقم ٹیکس کی شرح میں ایڈجسٹمنٹ سے حاصل ہوگی۔میڈیا رپورٹ میں موصول دستاویزات کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ جی ایس ٹی میں کمی بین الاقوامی سطح پر جی ایس ٹی کے ذریعے ریونیو کی پیداوار کے رائج طریقہ کار سے مطابقت رکھتی ہے اور ان مجوزہ اقدامات کو حتمی شکل دے دی گئی۔منصوبے کے مطابق مالی سال 20-2019 کے بجٹ میں ان متعدد مصنوعات پر 7 فیصد ٹیکس لگانے کا ارادہ ہے جنہیں اس وقت ایس آر او 11025 کے تحت سیلز ٹیکس استثنیٰ حاصل ہے۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو ان اقدامات کے ذریعے آئندہ مالی سال کے دوران 88 ارب روپے حاصل ہونے کی توقع ہے۔ایس آر او 1125 کے تحت دیے گئے ٹیکس استثنیٰ سے قومی خزانے کو تقریباً 150 ارب روپے کا نقصان ہورہا ہے ایف بی آر حکام کا ماننا ہے کہ صرف مینوفیکچررز کو دی گئی اس سہولت کا کمرشل درآمد کنندگان غلط استعمال کررہے ہیں۔اس کے علاوہ دودھ، کریم، مکھن، خوردنی تیل، کافی، چائے، برقی توانائی، بجلی سے چلنے والی مختلف مشینوں، گوشت اور مختلف کیمیکلز پر بھی آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 7 فیصد ٹیکس عائد کیا جا رہا ہے جس سے حکومت کو 211 ارب روپے کی آمدنی ہونے کا امکان ہے۔اسی طرح پولٹری، خوردنی تیل، کپاس اور کپاس کے کچرے پر بھی آئندہ بجٹ میں 7 فیصد ٹیکس لگنے کا امکان ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں