opposition reject budget 81

قومی اسمبلی اجلاس، اپوزیشن نے بجٹ مسترد کردیا

لاہور: قومی اسمبلی میں اسپیکر اسد قیصر کی صدارت میں اجلاس جاری ہے جس میں اپوزیشن نے حکومتی بجٹ کو مسترد کردیا ہے۔سپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس کا آغاز ہوا تو چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے آصف زرداری، سعد رفیق، علی وزیر اور محسن داوڑ کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم روز پروڈکشن آرڈرز کا مطالبہ کرتے ہیں، اسپیکر کی کرسی سے ہماری توقعات پوری نہیں ہورہی ہیں، آپ اسیر ارکان کے پروڈکشن آرڈرز جاری کریں۔پارلیمنٹ میں سابق مصری صدر محمد مرسی کیلئے دعا اور فاتحہ خوانی بھی کرائی گئی۔قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے بجٹ تقریر کرتے ہوئے کہا کہ عوام دشمن بجٹ کو فی الفور رد کرتے ہیں، بجٹ ظلم کی تلوار ہے جو عام آدمی کی گردن کاٹنے کے لیے آیا ہے اور عوام کے لیے صرف مایوسی کا پیغام لے کر آیا ہے، حکومت تو چار ہزار ارب اکٹھے نہیں کرسکی، بتائیں ٹیکس کی مد میں 5555 ارب روپے کیسے اکٹھے کریں گے، آئی ایم ایف کے پاس جا کر عمران خان قوم کو خودکشی کے قریب لے گئے ہیں، آئی ایم ایف بجٹ سے غربت اس حد تک بڑھتی نظر آرہی ہے کہ کہیں خونی انقلاب ہی نہ آجائے۔شہباز شریف نے بجٹ ترامیم پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بجٹ واپس لے کر عوامی خواہشات کی عکاسی کرنے والا بجٹ دوبارہ پیش کرے، مزدور کی کم از کم تنخواہ 20 ہزار روپے کی جائے، 16 گریڈ کے ملازمین کی تنخواہوں میں 50 فیصد اضافہ کیا جائے، ایک لاکھ ماہانہ تنخواہ والے صارفین کو ٹیکس استثنا دیا جائے، بجلی و گیس کی قیمتوں کو دوبارہ مئی 2018 کی سطح پر واپس لایا جائے، گھی اور تیل پر عائد ٹیکس کو واپس لیا جائے۔ شہباز شریف نے کہا کہ ادویات کی مفت فراہمی یقینی بنایا جائے، پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن (پیف) کو پورے پاکستان میں پھیلایا جائے، برآمدات کو زیرو ریٹ کیاجائے، ٹیکس ریفنڈ کا سہل نظام بنایا جائے۔ اس موقع پر شہباز شریف نے چیئرمین نیب کے ویڈیو اسکینڈل معاملے پر کمیشن بنانے کا مطالبہ بھی دہرایا۔اپوزیشن لیڈر شہبازشریف نے حکومت کو میثاق معیشت کی پیش کش کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی سے چارٹر آف اکانومی کیلئے تیار ہیں، عمران خان الزام تراشی چھوڑ کر ملکی ترقی کی بات کریں، وزیراعظم ملکی ترقی کے لیے ایک قدم بڑھائیں گے تو اپوزیشن دو قدم آگے بڑھائے گی۔شہباز شریف نے کہا کہ 4 دن ہاؤس کا وقت ضائع کیا گیا، بجٹ سیشن اہم ترین موقع ہے، ایوان میں موجود لوگ عوام سے ووٹ لے کر آئے ہیں لہذا سپیکر قومی اسمبلی کےکندھوں پر بھاری ذمہ داری ہے، کل بھی آپ سے پروڈکشن آرڈرز جاری کرنے کی درخواست کی تھی، آصف زرداری، سعد رفیق اور محسن داوڑ ایوان کے ممبر ہیں، ان کے پروڈکشن آرڈرز جاری کیے جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں