Abd ul Rashee quraishi 96

خواتین پرتشدد:قانون کہاں ہے

ہماراگز شتہ کالم پسند کی شادی کرنے والی لڑکی اسماءکے بارے میں تھا ابھی ہم اس واقعہ کے ڈانڈے ملانے کی کوشش کررہے تھے کہ کیا یہ سب کچھ خواتین کے حقوق کو تحفظ دینے والے قانون کے نفاذ کے باوجود ہورہا ہے کہ کوئی بھی شوہر جب چاہے اپنی بیوی کے سرکے بال اس لئے کاٹ دے کہ اس نے اس کے دوستوں کے سامنے ڈانس کرنے سے انکار کیوں کیا ؟اس لئے ہم نے اسماءسے ہمدردی کے اظہار میںکالم لکھا۔چونکہ اسماءپر تشدد کا معاملہ پولیس تک جاپہنچا ہے اس سلسلے میں جو انکشافات سامنے آئے ہیں اس پر جی چاہتا ہے کہ ہم دیواروں سے سر ٹکراتے ہوئے اپنا ماتھا پھوڑ لیں کہ آخر ملک میں ہوکیا رہا ہے ؟پولیس نے جو انکشاف کیا ہے، نہیں معلوم درست ہے یا نہیں لیکن انکشاف یہ ہوا ہے کہ دونوں میاں بیوی یعنی اسماءاور اس کا خاوند میاں فیصل آئس ہیروئن کے نشے کے عادی ہیں اگر پولیس کا یہ انکشاف سچ پر مبنی ہے تے فیر دونوں میاں بیوی کھسماںنوں کھان ہم خواہ مخواہ اس پر سرپیٹ رہے ہیں ؟لیکن یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ اسماءنے میاں فیصل کے ساتھ پسند کی شادی کیوں کی اور اسماءکے والدین نے اپنی بیٹی کی پسندپر ناپسندیدگی کا اظہار کیوں نہ کیا ۔اگر دونوں میاں بیوی نشے میں ٹن رہنے کے عادی ہیں تو اس میں اسماءکے بال کاٹنے سے بات آگے بھی جاسکتی تھی اسماءکے کیس بارے تفتیش شروع ہوچکی ہے یقینا مزید انکشافات سامنے آسکتے ہیں۔
یہ باتیں توان میاں بیوی کے بارے میں تھیں جو بقول پولیس آئس ہیروئن کے عادی ہیں کہ ان
میاں بیوی نے ایک دوسرے کے خلاف جو قدم اٹھایا وہ نشے کی حالت میں ہی اٹھایا ہو چونکہ ان دونوں میاں بیوی کا معاملہ معزز عدالت تک جاپہنچاہے لہٰذا ہمیںعدالت کے فیصلے کا انتظار کرنا ہوگا اب ہم جن میاں بیوی پر لکھنے جارہے ہیں ان کا تعلق بھی لاہور سے ہی ہے۔ بات ”نشے “ کی ہو رہی ہے تو ان میں ایک نشہ لالچ کا بھی ہے یہ نشہ بھی انتہائی خطرناک ہوتا ہے جو ہنستے بستے گھروں کو اجاڑ دیتا ہے۔ یہ بات تو طے ہے کہ جس نے اپنی بیٹی کو پال پوس کر اور پڑھا لکھا کر شرعی طور پر کسی کے حوالے کردیا اس نے اپنا سب کچھ اس کے حوالے کردیا ۔چند ماہ قبل ہم بھی اس سلسلے میں انتہائی کرب ناک لمحات سے گزرے ہیں ،ہم ہمیشہ سچ لکھتے ہیں اور سچ یہ ہے کہ ہماری نواسی جو یتیم ہے وہ زندہ تو ہے لیکن ہمیں داغ جدائی دے گئی ہے ایسا کیوں ہوا ؟یہ ایک لمبی داستان ہے جسے ہم پھر کبھی کالم کا موضوع بنائیں گے۔ لندن کی ایک فیملی کے چنگل میں پھنس کر ہماری بیوہ بیٹی نے ہماری نواسی کی شادی اس فیملی کے ایک لڑکے کے ساتھ کردی مختصریہ کہ لندن کی اس فیملی نے شادی کے صرف تین ماہ میں ہماری نواسی کا ایسا ”برین واش “ کیا کہ ہمیں یہ کہنے پر مجبور ہونا پڑا کہ ہماری نواسی ہمارے لئے مرچکی ہے ،ہماری اس نواسی نے اپنی ماں اور اپنے نانا کے بارے میں اپنے کن جذبات کا اظہار کیا ہوگا یا اس سے کرایا گیا ہوگا جس پر ہمیںاسے اپنے لئے مرا ہوا تصور کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔
بہرحال!اب ہم وطن عزیز کی جس بہوبیٹی کا ذکر کرنے جارہے ہیں اس کا نام حاجرہ بی بی ہے۔ دس سال قبل اس کی شادی ایک شخص عمیر کے ساتھ ہوئی ۔حاجرہ کے والدین نے دھوم دھام سے بیٹی کی شادی کی۔ بقول حاجرہ بی بی کے اس کے والدین نے اسے پندرہ تولے زیورات کے ساتھ تیس لاکھ روپے کا جہیز بھی دیا والدین نے اپنی بیٹی کواتنا جہیز اس لئے دیا کہ اس کے سسرال والے اسے خوش رکھیں گے مگرحاجرہ کے سسرالیوں نے جب یہ دیکھا کہ ہماری بہو کے گھر والے تو کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں تو ان کی رال مزید ٹپکنے لگی اور حاجرہ کے شوہر عمیر نے مزید لاکھوں روپے کے جہیز کا مطالبہ شروع کردیا جب حاجرہ بی بی نے اپنے سسرالیوں کا مطالبہ مسترد کردیا تو دو روز قبل حاجرہ بی بی کے جیٹھ حارث نے چمڑے کی بیلٹوں اور پائپوں سے بدترین تشدد کرتے ہوئے حاجرہ بی بی کو لہولہان کردیا ۔قارئین !ہمارا یہ سب کچھ لکھنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ گھر کی ایک دلہن اپنے ساتھ پندرہ تولے زیورات کے ساتھ تیس لاکھ روپے کا جہیز بھی لائی مگرمزید جہیزلانے سے انکارپر سسرالیوں کااسے لہولہان کرنے پر چلّو بھر پانی میں ڈوب مرنا چاہیے اس لئے کہ جب غیرت اور شرم نہ رہے تو انسان کو زندہ رہنے کا حق نہیں ہمیںاخبار میں حاجرہ بی بی کی خون میں لت پت تصویر دیکھ کر انتہائی دکھ ہوا کہ ہم بھی بیٹیوں والے ہیں ۔
حاجرہ بی بی پرتشدد کے سلسلے میں کچھ سسرالیوں کی گرفتاریاں بھی ہوئی ہیں حاجرہ بی بی کے مقدمہ کے اندراج میں اس نے سسرالیوں کے بارے میں کہا ہے کہ یہ لوگ پندرہ تولے زیور ات کے علاوہ میرا تیس لاکھ روپے کاجہیز ہڑپ کرنے کے بعد بھی میرے والدین سے مزید لاکھوں روپے کا مطالبہ کیا کرتے تھے ۔حیرت اس بات پر ہے کہ تبدیلی والوں کا سارا زور کرپشن والوں کو پکڑنے پر ہے ،ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں کہ تبدیلی سرکار کس کو پکڑتی ہے اور کس کو چھوڑتی ہے ؟لیکن ”مرغیوں کے انڈوں اور بکریوں “ سے آگے بھی ملک میں اور بھی بہت سے سیڑھی سیاپے ہیں ؟کہاں ہے وہ قانون جو خواتین کے حقوق کو تحفظ فراہم کرتا ہے ؟جہیز مانگناتو ایک لعنت قرار دیا جاچکا ہے اور مزید لاکھوں روپے کا مطالبہ اور وہ بھی گھر کی بہو کے والدین سے، کیا چلّو بھر پانی میں ڈوب مرنے کا مقام نہیں ؟سب سے بڑھ کر یہ تبدیلی سرکار کے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ شوہر بھیک مانگنے کے لئے اپنی بیویوں کے سامنے جھولی پھیلا دیتے ہیں جب کہ بیویوں کے تمام تر نان و نفقہ کی ذمہ داری اللہ نے شوہروں کو سونپی ہے بعض شوہروں کے اس منفی کردار پر ہم یہ نہ لکھیں تو اور کیا لکھیں کہ ”شرم تم کو مگر نہیں آتی “ پھر سوچتے ہیں کہ ”جنے لائی لوئی اوداکی کرے گا کوئی “

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں