sarwar jalandari 27

ڈینگی وائرس اور پاکستانی سیاست

سردی کی شدت میں کمی آتے ہی موسم میں خوش گوار تبدیلی آنا شروع ہوگئی ہے ہمیشہ کی طرح اس بار بھی سردی کے جاتے جاتے اور گرمی آنے سے پہلے مچھر کی افزائش میں اضافے نے عوام کے دلوں میں ڈینگی وائرس کا خوف پیدا کردیا ہے اب پنجاب میاں شہباز شریف وزیراعلیٰ نہیں وہ تو صوبے میں موسم کی تبدیلی سے قبل محکمہ صحت کو ڈینگی وائرس پر قابو پانے کے لئے تیار کرلیتے اور انسداد ڈینگی وائرس مہم ان دنوں زوروں پر ہوتی مگر وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے صوبے میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اور سردارعثمان بزداروزیراعلیٰ پنجاب ہیں ۔
حکومت پنجاب کی توجہ سیاسی موسم پر ہونے کی وجہ سے سردی میں کمی آتے ہی ڈینگی وائرس نے چپکے سے اس مرتبہ جنوبی پنجاب کا رخ کرلیا ہے اور ایک خبر کے مطابق پنجاب میں ڈینگی کے 3113 مریض سامنے آگئے ہیں جن میں سے زیادہ تعداد کا تعلق جنوبی پنجاب سے ہے خوش قسمتی کی بات یہ ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کاتعلق بھی جنوبی پنجاب سے ہے اور انہوں نے جنوبی پنجاب کی محرومیاں دور کرنے کا عزم کررکھا ہے لیکن ڈینگی وائرس کے خاتمے کے بروقت انتظامات نہ کرسکے جس کے باعث ڈینگی کے کاٹنے سے مریض سامنے آگئے ہیں ایک رپورٹ کے مطابق یکم جنوری 2019ءسے لے کر 23مارچ 2019ءتک 3ہزار 113ڈینگی کے مریض پنجاب بھر سے رپورٹ ہوئے ہیں ملتان اور جنوبی پنجاب سے زیادہ اور وسطی پنجاب سے ڈینگی وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد کم رپورٹ ہورہی ہے ۔
ایک رپورٹ کے مطابق صرف دو دن میں جنوبی پنجاب میں 10مریض رپورٹ ہوچکے ہیں جو حکومت پنجاب کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے صورت حال یہ ہے کہ حکومت کو عوام کے مسائل اور تکالیف کا احساس ہی نہیں ہے حکومت بنے سات ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے زبانی جمع خرچ کے سوا حکومت عوام کو کچھ ڈلیور نہیں کرسکی اور اپوزیشن جماعتوں کو دیوار سے لگانے میں زیادہ وقت ضائع کررہی ہے ایسا محسوس ہوتا ہے حکومت اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنے کو تیار نہیں ہے حالانکہ جن ملکوں میں پارلیمانی نظام ہوتا ہے حکومت کو اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنا ہوتا ہے اپوزیشن کے تعاون ‘مشورے اور تجاویز کے بغیر حکومت ترقی نہیںکر سکتی پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے قرضے لے کر ملک کی عزت داﺅ پر لگادی ‘ہم نے انہیں وقت دیا لیکن انہوں نے بہتری کی جانب قدم نہیں بڑھایا ۔
ملک کے معاشی حالات خراب ہیں حکمرانوں کے پاس پالیسی نام کی کوئی شے نہیں ‘صرف اِدھراُدھر سے ادھار کے لئے بھاگ دوڑ کررہے اب چین سے ادھار مانگے ہوئے 2ارب 20کروڑ ڈالر موصول گئے ہیں زرمبادلہ کم کرنے کے لئے تیل ادھار لے کر کام چلایا جارہا ہے اس کے باوجود مالیاتی خسارہ قابو سے باہر ہے اپوزیشن بات کرتی ہے تو ان کے نام ای سی ایل میں ڈال دیئے جاتے ہیں پیپلز پارٹی تو عوامی مسائل پر مسلم لیگ (ن) سمیت تمام جماعتوں کے ساتھ اتحاد اور تعاون کے لئے تیار ہے ہم پارلیمنٹ کو خود مختار دیکھنا چاہتے ہیں اور ہم نے ہمیشہ پارلیمنٹ کی خود مختاری کی بات کی ہے جس ملک میں پارلیمنٹ سپریم نہیں ہوتی وہ گمھجیرمسائل میں گھر جاتا ہے اس کا عملی ثبوت قوم کے سامنے ہے حکومت کی رہنمائی کرتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ خورشید شاہ اور مولانا فضل الرحمن کی جیل جانے کی باری آنے والی ہے حالانکہ پیپلز پارٹی جیلوںمیں جانے سے نہیں گھبراتی پیپلز پارٹی ہر دور میں سیاسی انتقام کا نشانہ بنی ہے۔
عدالتیں دہرا معیار اختیار کرتی آئی ہیں ان عدالتوں نے ذوالفقار علی بھٹو کو سولی پر چڑھا دیا اور بے نظیر بھٹو کے قاتلوں کو رہا کردیا پیپلز پارٹی کے رہنماﺅں کا موقف یہ ہے کہ نیب اور عمران خان کا رویہ ایک ہی ہے حکومت سسٹم کو ڈی ریل کرنا چاہ رہی ہے نیئر بخاری اور قمر زمان کائرہ کا کہنا ہے نیب
سیکرٹری کے ذریعے ریکارڈ طلب کرسکتی ہے سندھ کے وزیراعلیٰ سے سندھ میں ہی سوال پوچھنا چاہیے راولپنڈی میں مقدمے کی سماعت پر پیپلز پارٹی کو تحفظات ہیں جب کہ ملک کے بہت سے سینئر تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا ٹرین مارچ بری طرح ناکام ہوگا کیونکہ پیپلز پارٹی تباہ ہوچکی ہے۔
ورکر تحریک انصاف میںجاچکے ہیں جو باقی رہ گئے ہیں وہ گھروں بیٹھ گئے ہیں یہ وقت کسی احتجاج اورتحریک چلانے کا نہیں تحریکیں لوگوں کے مسائل اجاگر کرنے کے لئے چلتی ہیں لیکن اس بات کا احساس نہ حکومت کو ہے اور نہ اپوزیشن کو ہے اس وقت ملک میں مایوسی کی کیفیت ہے اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے دس ڈبوں کی خصوصی ٹرین بک کرا کر کراچی کینٹ سے لاڑکانہ تک حکومت کے خلاف ٹرین مارچ شروع کردیا ہے اور کراچی کینٹ سے ہزاروں پارٹی کارکنوں نے پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو ٹرین مارچ کے لئے روانہ کیا راستے میں مختلف ریلوے اسٹیشنوں پر سینکڑوں پارٹی کارکنوں نے پارٹی کے چیئرمین کا پارٹی پرچموں ‘پھولوں کی پتیوں اور پارٹی نعرروں سے استقبال کیا اور بلاول بھٹو زرداری نے پارٹی کارکنوں سے خطاب کیا انہوں نے مختلف اسٹیشنوں پر تقریروں میں کہا کہ حکومت ٹرین مارچ سے گھبرا گئی ہے ۔
جب لانگ مارچ ہوگا تو حکومت کے ہوش ٹھکانے آجائیں گے دراصل چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا یہ ٹرین مارچ حکومت مخالف ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنوں اور جیالوں کو بیدار کرنے کی ایک کوشش بھی ہے جس میں وہ کامیاب دکھائی دے رہے ہیں۔ ٹرین مارچ کی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر کوریج سے ملک کے دوسرے صوبوں ‘خصوصاً پنجاب میں ان کا پیغام موثر انداز میں پہنچ گیا ہے تجزیہ نگاروں کے اندازے کے برعکس پیپلز پارٹی کے جیالوں نے سیاسی جوش وجذبے کے ساتھ پارٹی قائد کا استقبال کیا ہے جو اس بات کا اشارہ ہے کہ جب پارٹی قیادت کال دے گی تو کارکن سڑکوں پر آجائیں گے حکومت کو چاہیے کہ وہ اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلے اسی طریقے سے کاروبار حکومت چلے گا ورنہ جو گاڑی پہلے ہی چل نہیں رہی‘ رک جائے گی اور حکومت کو کارکردگی دکھانے کا موقع نہیں ملے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں