sharif family deal with Govt 578

شریف خاندان کی حکومت سے ڈیل فائنل، دوست ملک میدان میں آگیا

اسلام آباد:شریف خاندان کو محفوظ راستہ دینے کے لیے دوست ملک میدان میں آگیا، 5ارب ڈالرز قومی خزانے میں جمع کروانے کی آفر کر دی جبکہ عمران خان 10ارب میں ڈیل پرراضی ہوگئے،طبی بنیادوں پر پورا شریف خاندان بیرون ملک جاسکتا ہے،جبکہ گفت وشنید اہم مرحلےمیں داخل ہوگئی ہے،آویئر انٹرنیشنل ذرائع کےمطابق میاں نوازشریف کی جیل سےسرکاری ہسپتال منتقلی کے دوران پاکستان کے ایک اہم دوست ملک اوروزیراعظم عمران خان کے درمیان این آر او کی شکل کا ایک محفوظ راستہ دینے کی ڈیل جاری ہے، اس ڈیل کے تحت مسلم لیگ ن اگلے چار برسوں میں بطور پارٹی اپنی سیاسی سرگرمیوں کو ایک خاص حد تک محدود رکھے گی،مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف کے ذاتی معالج اور پنجاب حکومت کے قائم کردہ میڈیکل بورڈ کی سفارشات پر انہیں جلد علاج کی غرض سےلندن جانےکی اجازت دیدی جائے گی۔آویئر انٹرنیشنل کے انتہائی معتبرذرائع نے دعویٰ کیا ہےکہ ایک دوست ملک نوازشریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دینے پروزیراعظم عمران خان سےبات چیت جاری رکھے ہوئے ہے اور اسی بات چیت کی بنیاد پر ہی حکومت نے دوست ملک کی درخواست پر ہی نوازشریف کو جیل سے ہسپتال منتقل کیا ہے،حالانکہ سروسز ہسپتال میں دل کے امراض کا کوئی بندوست ہی نہیں ہے۔گزشتہ ہفتے میں اہم مرحلے میں داخل ہونےوالی اس اہم ڈیل سےتحریک انصاف اوروزیراعظم کے قریبی رفقاء لاعلمی یا انکاری جیسے الفاظ استعمال کر رہے ہیں،اس سلسلہ میں بتایا جا رہا ہے کہ حکومت اورنون لیگ کےدرمیان 5ارب ڈالرکی ادائیگی پرڈیل کنفرم ہونے کا امکان ہے جس کی پیشکش نوازشریف کی طرف سے کر دی گئی ہے۔تاہم وزیراعظم عمران خان نے مطالبہ کیا ہے کہ نوازشریف 10ارب ڈالر قومی خزانے میں جمع کروائیں اوریہ ڈیل صرف نوازشریف،مریم نوازاوران کے داماد کیپٹن (ر) صفدر کیلئے ہوگی اور اس ڈیل میں یہ بات بھی شامل کی جائے گی کہ تحریک انصاف کی حکومت کو پانچ سالہ مدت کے دوران ن لیگ کی طرف سے کسی بھی ایسی سنجیدہ مخالفت کا سامنا نہیں ہوگا جس سے حکومت کو مدت پوری کرنے میں مشکلات درپیش آئیں۔ذرائع کے مطابق اس ڈیل میں تحریک انصاف کے ذمہ داران اور خصوصاً عمران خان چاہتے ہیں کہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہبازشریف الگ سے 10ارب ڈالر جمع کروائیں گے۔حکومت کے ساتھ خفیہ مذاکرات کرنے والی شریف خاندان کی شخصیات کا کہنا ہے شریف خاندان کو این آراو دینے کی صورت میں وہ پورے خاندان کی جانب سے5ارب ڈالر دینے کو تیار ہیں۔ یہ بھی بتایا جارہاہے کہ ڈیل پکی ہونے کی صورت میں یہ رقم اس دوست ملک کی جانب سے پاکستان کے اکاﺅنٹ میں جمع کروائی جائے گی جس سے حکومت گفت و شنید کررہی ہے، جس کے بعد نوازشریف اور شہباز شریف طبی بنیادوں پر علاج معالجہ کرانے کی غرض سےبیرون ملک چلے جائیں گے،اور براہ راست پاکستان میں سیاسی سرگرمیوں میں حصہ بھی نہیں لینگے، جبکہ ڈیل کی رقم بظاہر شریف خاندان کی بجائے دوست ملک اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں جمع کروائے گا۔یعنی اس رقم کو ،In good faith کا نام دیا جاسکتا ہے جس سے نواز شریف کی جانب سے ظاہر کیا جائے گا کہ انہوں نے بطور مجرم کوئی رقم حکومت پاکستان کو واپس نہیں کی اور اسے فارمولا سعودی کی ایک شکل بتایا جا رہا ہے جس کا اطلاق سعودی عرب میں کرپشن میں ملوث سعودی شہزادوں پرکیا گیا تھا۔واضح رہے کہ مسلم لیگ ن کی جانب سےخواجہ سعدرفیق کوقومی اسمبلی کی پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کو رکن بنانے کا فیصلہ بھی اسی سلسلہ کی کڑی بتائی جا رہی ہے کہ وہ شہبازشریف کی پاکستان میں غیرموجودگی کی صورت میں پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی میں بیٹھ میں پارٹی کی نمائندگی کریں گے، مگر یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس ڈیل کو خفیہ رکھنے کے لئے شہباز شریف سے پبلک اکائونٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ واپس نہیں لی جائے گی،بلکہ انکی عدم موجودگی میں ممبران طے شدہ فارمولے کے تحت پبلک اکائونٹس کمیٹی کے معاملات چلائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں