talor hunting in pakistan 10

تلور کا شکار، پاکستان کا جی ایس پی پلس سٹیٹس خطرے میں پڑ گیا

اسلام آباد:وفاقی حکومت نے نایاب پرندے تلور کے شکار کے لیے اجازت نامے دینے کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے خلیجی ممالک کے شاہی خاندانوں کے افراد کو مزید 12 خصوصی اجازت نامے جاری کردیے۔ذرائع کے مطابق ان اجازت ناموں کےاجرا سےپاکستان کو یورپی یونین کی جانب سے دیا گیا جنرلائزڈ سکیم آٓف پریفرینس (جی ایس پی –پلس) کا اسٹیٹس چھن جانے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزارت خارجہ کی جانب سے جن افراد کو اجازت نامے دیے گئےان میں سعودی عرب،متحدہ عرب امارات ، قطر اور بحرین کے شاہی خاندان کے متعدد افراد کو بین الاقوامی سطح پر نایاب تصور کیے جانے والےپرندے تلورکا شکارکرنےکی اجازت دی گئی۔اس سے قبل گزشتہ 10 دنوں میں خلیجی ممالک کے 13 شاہی افراد کو سندھ کے علاقوں میں تلور کے شکار کےاجازت نامے دیے گئےتھے جبکہ دسمبر سے پاکستان میں عرب شاہی افراد کے تلور کے شکار کاسلسلہ جاری ہے۔واضح رہے کہ جی ایس پی پلس سٹیٹس سےفائدہ اٹھانے والے ملک کی حیثیت سےپاکستان پرمتعدد بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے،خاص کرماحولیاتی تحفظ کے معاہدوں کی بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری کررہے ہیں یا نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں