48

صدر عارف علوی کے ارشادات

جمیل اطہر قاضی
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے عالمی برادری کو خبردار کیا ہے کہ بھارت کی انتہا پسند قیادت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں ممکنہ نسل کشی سے چشم پوشی عالمی امن و استحکام کیلئے شدید خطرے کا باعث ہوگی‘ پاکستان بھارت پر واضح کر دینا چاہتا ہے کہ مظلوم کشمیریوں کی نسل کشی قطعاً برداشت نہیں کی جائیگی‘ پوری پاکستانی قوم اپنے کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ کھڑی ہے ہم کسی موڑ پر انہیں تنہا نہیں چھوڑیں گے، ہم انکے ساتھ تھے، ساتھ ہیں اور ہمیشہ ساتھ رہیں گے، بھارتی حکمرانوں سے کہتے ہیں کہ وہ ہوش کے ناخن لیں اور حالات کو اس نہج تک نہ لے جائیں جہاں سے واپسی ممکن نہ ہو، ہماری امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے،مسئلے کے حل کیلئے دنیا کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
صدر مملکت جناب عارف علوی کی جانب سے کشمیری بھائیوں کو یہ تسلی دینا کہ ہم تمہارے ساتھ تھے، ہیں اور رہیں گے، بر وقت ہے کیونکہ اس وقت مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے کرفیو کے نفاذ کو ایک ماہ سے زاید کا عرصہ بیت چکا ہے اور اس عرصے میں کشمیری بہن بھائیوں پر جو جو قیامتیں گزر گئیں ان کا احساس صرف وہی کرسکتا ہے جس پر یہ وقت بیتا ہے یعنی جس تن لاگے وہی تن جانے، ایسے نازک اور حساس وقت پر کشمیری بہن بھائیوں کو یہ احساس دلانا کہ وہ مصیبت کی اس گھڑی میں اکیلے نہیں ہیں بلکہ ہم بحیثیت قوم ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں بہت حوصلے کی بات ہے جبکہ اس سے قبل وزیراعظم عمران خان بھی متعدد بار یہ الفاظ دہرا چکے ہیں اور گذشتہ روز انہوں نے آزاد کشمیر میں ایک بہت بڑا جلسہ عام بھی منعقد کیا اور اس میں ایک بار پھر کشمیری عوام کو تسلی دی کہ وہ گھبرائیں نہیں پاکستان کے بائیس کروڑ عوام کے دل ان کے ساتھ دھڑکتے ہیں، پاکستان کے عوام، حکومت اور مسلح افواج دامے درمے سخنے انکے ساتھ ہیں۔ اس امر میں کوئی شک نہیں کہ جب انسان مصائب سے گزر رہا ہو تو صرف یہ احساس ہی اس کوسہارا دینے کیلئے کافی ہوتا ہے کہ وہ مصیبت کی اس گھڑی میں تنہا نہیں بلکہ اسکے کچھ چاہنے والے بھی اسکے ساتھ موجود ہیںلیکن یہ مسئلہ قابل غور ہے کہ ماضی میں ایک مسلمان بیٹی نے مصیبت کی گھڑی میں مسلمانوں کو پکار کر اپنی مدد کے لئے آواز بلند کی تو سیکڑوں میل دور سے محمد بن قاسم اپنی مسلمان بہن کی امداد کیلئے آیا اور اس کو آزادی دلائی آج چھ ہفتوں سے کشمیر کی مظلوم و بے یار ومدد گار بیٹیاں مصیبت کی اس گھڑی میں جب بھارتی فوجی درندوں کی صورت میں انکے سامنے شیطان محو رقص ہوتا ہے، انکے بدن سے بوٹی بوٹی نوچ لی جاتی ہے اس وقت وہ بھی پاکستان کی جانب رخ کرکے المدد المدد یا برادر، پکارتی ہوں گی، جب بھارت کے فوجی درندے رات کی تاریکی میں دروازے توڑ کر گھروں میں گھس کر لوٹ مار کرتے ہونگے اور نوجوانوں کو گولی مار کر بچوں کو اٹھا کر لے جاتے ہوں گے اس وقت انکے ضعیف و لاچار والدین پاکستان کی جانب رخ کرکے رو رو کر پکارتے ہونگے، اے ہمارے دینی بھائیو بھارتی درندے ہماری زندگی بھر کی کمائی لوٹ رہے ہیں ہماری مدد کو آﺅ اور اس وقت ان کے کانوں میں وزیر اعظم یا صدر مملکت کے یہ الفاظ کیا تاثر پیدا کرتے ہونگے کہ ہم تمہارے ساتھ تھے، ہیں اور رہیں گے، سوال یہ نہیں کہ ہمارے ساتھ تھے، ہو اور رہوگے بلکہ سوال یہ ہے کہ بھارت نے تو جو کرنا تھا وہ کئے جارہا ہے اور تم صرف زبانی کلامی دعوے کررہے ہو کہ ہمارے ساتھ تھے ہو اور رہوگے، کیا کشمیری بہن بھائی یہ نہ سوچتے ہونگے کہ تم ہمارے ساتھ رہ کر کیا کرلوگے؟ بھارت دشمن ہوکر بھی ہمارے ساتھ ہے اور جو من مانی کرنا چاہتا ہے کئے چلا جارہا ہے اور تم یہ پکارتے نہیں تھکتے کہ ہماری سیاسی، سفارتی اور اخلاقی امداد جاری رکھوگے، کیا کشمیری بھائی یہ نہیں سوچتے ہوں گے کہ جب ہماری بیٹیوں کی چادر عصمت تار تار ہورہی تھی تو تمہاری سیاسی، سفارتی اور اخلاقی امداد نے کیا کیا؟ جب ہمارے نوجوان بیٹوں کو گولی ماری جارہی تھی تو تمہاری یہ جھوٹی امداد کہاں تھی، جب ہماری خواتین کو بے حرمت کیا جارہا تھا تب تم اپنی اس دکھاوے کی امداد کے ساتھ کہاں تھے، جب کرفیو کی وجہ سے ہمارے گھروں میں راشن پانی ختم ہوگیا تھا اور ہمارے بچوں اور بزرگوں کے ہونٹوں پر پپڑی جم گئی تھی، وہ نڈھال نڈھال لیٹے ویران آنکھوں سے دروازے سے باہر پاکستان کی جانب دیکھتے ہوئے یہ سوچتے ہوئے راہی ملک عدم ہوئے کہ ہمارے پاکستانی بھائی ہمارے لئے کھانے کا انتظام ضرور کریں گے تو بتاﺅ پھر کہ اگر تمہاری مدد صرف زبانی کلامی حد تک ہی ہے توکیوں ہمیں دھوکہ دیتے ہو، کہہ دو کہ تم بھارتی قوت سے خوف زدہ ہو تم ایسا کوئی قدم نہیں اٹھاﺅ گے جس کے جواب میں بھارت تمہارے خلاف بھی جارحانہ رویہ اپنالے یا جس کی بنا پر اس خطے میں ایٹمی جنگ شروع ہوجائے، یاد رہے کہ ایٹمی جنگ کی صورت میں تباہی صرف ہمارا ہی مقدر نہیں بنے گی بلکہ اس پورے خطے کے علاوہ باقی دنیا کو بھی تباہی سے دوچار کرے گی، اور دنیا کی پوری دنیا کی حفاظت کی ذمہ داری تنہا ہمارے ناتواں کندھوں پر ہی نہیں جتنی ہم پر ہے اتنی ہی بھارت پربھی ہے اور ساتھ ہی اقوام متحدہ اور حقوق انسانی کے عالمی اداروں کے ساتھ ساتھ پوری عالمی برادری پر بھی عائد ہوتی ہے، لہٰذا ہمیں دنیا کی سلامتی کے اندیشے سے دبلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
غضب خدا کا کہ کشمیر میں چھ ہفتے سے بدترین کرفیوہے، تعلیمی ادارے، تجارتی مراکز، میڈیکل سٹور سب بند ہیں، ذرائع مواصلات مفقود ہیں، ٹی وی نشریات بند ہیں، کشمیری عوام مکمل اندھیرے میں ہیں، وہ نہیں جانتے کہ بیرونی دنیا ان کیلئے کیا کیا کچھ کر رہی ہے، اور ہم نہیں جانتے کہ آج کشمیریوں پر کیا گزر رہی ہے، کتنے کشمیری کھانے کی اشیاء کو ترس رہے ہیں کتنے بچے بھوک سے بلک رہے ہیں، کتنے افراد رفتہ رفتہ بھوک کی وجہ سے موت کی جانب بڑھ رہے ہیں ، ہمیں نہیں معلوم کہ کتنے مریض دوا نہ ہونے سے موت کی آغوش میں سورہے ہیں اور کتنے مریض طبی امداد نہ ہونے کی وجہ سے قبر میں جا سوئے ہیں، لیکن ان کے مقدر میں ابھی قبر بھی کہاں، قبر کیلئے بھی گھروں سے باہر نکلنا پڑتا ہے اور بھارتی درندے انہیں گھروں سے باہر نکلنے نہیں دے رہے۔ ہم یہ سب جانتے ہیں اور اسکے باوجود نعرہ زن ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں… بہت خوب، شائد ایسے ہی ماحول کیلئے شاعر نے کہا تھا کہ ”ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو“۔ خدا کیلئے مظلوم کشمیری بہن بھائیوں کو، دنیاکو ، عوام کو اور سب سے بڑھ کر یہ کہ خود کو دھوکہ نہ دو اور جو دل میں ہے وہ صاف صاف کہہ دو، کہہ دو کہ کشمیری بھائی بہنو دنیا میں سب اکیلے اکیلے آئے تھے، سب نے اپنی قسمت بنانے کیلئے اکیلے ہی محنت کی ہے تم بھی اکیلے ہو، ا?زادی حاصل کرسکتے ہو تو کرلو ہم سے کسی قسم کی آس نہ لگاﺅکیونکہ اگر ہم تمہاری مدد کو آئیں گے تو پھر بھارت سے ایٹمی جنگ ہوجائے گی اور اس صورت میں تم رہوگے نہ ہم، اس لئے بھارت جو مظالم کررہا ہے ان کو برداشت کرسکتے ہو تو کرلو نہیں کرسکتے تو تڑپ تڑپ کر مرجاﺅ ہماری جانب نہ دیکھو۔ ہم تہتر سال میں تمہارے لئے باتیں بنانے کے علاوہ کچھ نہ کرسکے تو اب کیا کرلیں گے، خود کو دھوکے میں نہ رکھو، لڑ سکتے ہو تو لڑ جاﺅ، مر سکتے ہو تو مر جاﺅ لیکن جو بھی کرو اپنے بھروسے پر ہمارے بھروسے پر نہیں کیونکہ ہم تو تمہاری سیاسی، سفارتی اور اخلاقی امداد ہی کرسکتے ہیں اور یہی کر بھی رہے ہیں۔صدر مملکت نے مزید کہا کہ معاشی اعتبار سے وطن عزیز اس وقت تاریخ کے مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے‘ حکومت کو کرنٹ اکاونٹ اور بجٹ خسارہ اور گردشی قرضے ورثے میں ملا ہے۔ سابقہ حکمرانوں نے کرپشن کا بازارگرم کرکے ملکی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا‘ملکی خزانے اور وسائل کو لوٹنے والوں کا احتساب جاری ہے‘ہم نے پاکستان کو ایک فلاحی ریاست بنانا ہے‘مدینہ جیسی فلاحی ریاست کا قیام اسی وقت ممکن ہے جب قوم کا ہر فرد ریاست کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالے‘پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ نہ صرف دونوں ممالک کیلئے فائدہ مند ہے بلکہ اس کی تکمیل سے خطے کا مستقبل بھی تابناک ہو گا۔
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ معاشی اعتبار سے وطن عزیز مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے لیکن سوال اب یہ نہیں سابق حکمران کیا کیا لوٹ مار کرتے رہے کیونکہ اب ایک سال سے عمران خان ملک کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے ہیں، اب سوال یہ ہے کہ موجودہ حکومت نے معیشت کو سنبھالنے کیلئے کیا کیا اقدامات کئے اور انکے کیا نتائج برآمد ہوئے کیونکہ سابقہ حکمرانوں کی لوٹ مار کا رونا رونا ابتدا میں تو ٹھیک تھا لیکن اب تو موجودہ حکومت کو بھی ایک سال ہوچکا ہے سوال یہ ہے کہ موجودہ حکومت نے دیانت داری سے کام کرتے ہوئے معیشت کو سہارا دینے کیلئے کیا کیا اقدامات کئے اور انکے کیا نتائج برآمد ہوئے۔ب پی ٹی آئی حکومت کو ماضی کا رونا رونا بند کرتے ہوئے اپنی کارگزاری پر نظر رکھنی چاہئے اور یہ بتانا چاہئے کہ انہوں نے کیا کیا اقدامات کئے اور انکے کیا نتائج برآمد ہورہے ہیں، برسبیل تذکرہ یہاں یہ بات بھی نوکِ قلم پر آگئی کہ احتساب کا عمل بھی اب شفاف نہیں رہا اب تو عدالت نے عظمیٰ بھی کہہ دیا ہے کہ احتساب سیاسی انجینئرنگ محسوس ہوتاہے تو یہ تاثر پیدا نہیں ہونا چاہئے اور یہ بھی صاف ظاہر ہے کہ سیاسی انجینئرنگ کیوں محسوس ہورہا ہے کہ حکومت میں شامل کسی بھی فرد کا احتساب نہیں ہورہا خاص طور پر اعظم سواتی کو پھر سے حکومت میں لے لیا، پرویز خٹک جن پر مالم جبہ کا مقدمہ ہے اور دیگر کئی افراد ایسے ہیں جن پر مقدمات ہیں۔ انہیں کوئی کچھ نہیں کہتا، یہ احتساب کی بدترین شکل ہے، انصاف ہونا چاہئے اور ہوتا نظر بھی آنا چاہئے، جب وطن عزیز میں انصاف ہوگا اور ہوتا نظر بھی آئے گا اور ایک ہی صف میں محمود و ایاز کھڑے ہوں گے تو پھر کسی جانب سے کوئی اختلافی آواز نہیں آئیگی۔ لہٰذا وزیراعظم عمران خان کو حزب اختلاف کی قیادت سے پہلے اپنے ساتھیوں کو پاک صاف کرنا چاہئے جب وہ عدالت سے پاک صاف ہوکر باہر آئیں گے تو پھر وطن عزیز میں احتساب کے خلاف کوئی آواز بلند ہوگی اور نہ ہی کسی شخصیت کو سزائے قید دینے پر کسی قسم کامنفی ردِ عمل نظر آئے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں