24

کتے کے کاٹنے سے نہیں بلکہ’’چاٹنے‘‘سے آدمی کی موت واقع ہوگئی

برلن: آپ نے بالکل صحیح پڑھا: عنوان میں کتے کے کاٹنے کا نہیں بلکہ کتے کے ’’چاٹنے‘‘ ہی کا تذکرہ ہے۔ گزشتہ دنوں یہ عجیب و غریب واقعہ جرمنی میں پیش آیا جب ایک شخص کو اس کے پالتو کتے نے بہت پیار سے چاٹ لیا، جس کے صرف دو ہفتے بعد ہی اس کی موت واقع ہوگئی۔تفصیلات کے مطابق، کچھ ماہ پہلے بریمن، جرمنی کے ریڈ کراس ہاسپٹل میں ایک 63 سالہ شخص کو لایا گیا جس کی کھال پر شدید انفیکشن کے نشانات موجود تھے۔ حیرت انگیز طور پر، نہ تو وہ شخص پہلے سے کسی بیماری میں مبتلا تھا اور نہ ہی اس کی صحت کے ساتھ مسائل تھے۔ البتہ، اس شخص کے اہلِ خانہ نے بتایا کہ چند روز قبل اس کے پالتو کتے نے اسے چاٹا تھا۔اسے فوری طور پر اسپتال میں داخل کرلیا گیا اور اس کا تفصیلی طبّی معائنہ کیا گیا، جس کے بعد انکشاف ہوا کہ وہ شخص ’’کیپنوسائٹوفیگا کینی مورسس‘‘ نامی ایک جرثومے سے متاثر ہے۔ اس قسم کے جراثیم (بیکٹیریا) کتے بلیوں میں عام پائے جاتے ہیں جو ان جانوروں کےلیے بالکل بے ضرر ہوتے ہیں جبکہ بہت کم ہی انسانوں میں منتقل ہوتے ہیں۔ مگر انسانوں میں منتقل ہوجانے کے بعد بھی یہ عموماً زیادہ نقصان نہیں پہنچاتے اور متاثرہ شخص ان سے ہونے والے انفیکشن سے کچھ ہی دنوں میں صحت یاب ہوجاتا ہے۔ڈاکٹروں نے اندازہ لگایا کہ کتے کے چاٹنے کی وجہ سے یہ بیکٹیریا مذکورہ شخص کے جسم میں منتقل ہوگئے اور انفیکشن کی وجہ بن گئے۔ علاج کی غرض سے ڈاکٹروں نے اس آدمی کو مختلف دوائیں دیں مگر اس کی حالت سنبھلنے نہیں پائی اور بالآخر، اسپتال میں داخل ہونے کے 16 روز، وہ شخص انفیکشن کی شدت بڑھنے، نمونیا اور دل کی تکلیف کے باعث موت کے منہ میں چلا گیا۔ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ کینی مورسس بیکٹیریا سے متاثرہ انسانوں میں ہلاکت کی شرح 25 فیصد ہے لیکن شاید میڈیکل لٹریچر میں اس جرثومے کے انسانی اثرات پوری طرح سے پیش نہیں کیے گئے ہیں۔
صرف کتے کے چاٹنے سے انسانی ہلاکت کا یہ واقعہ اس قدر غیرمعمولی تھا کہ ڈاکٹروں نے اس کی روداد ’’یورپین جرنل آف کیس رپورٹس ان انٹرنل میڈیسن‘‘ نامی ریسرچ جرنل میں اشاعت کےلیے بھیج دی جو اس کے تازہ ترین شمارے میں آن لائن شائع ہوئی ہے۔اس کیس پر کام کرنے والے سائنسدانوں نے پالتو جانوروں کے مالکان کو خبردار کیا ہے کہ اگر ان میں کبھی فلو جیسی ظاہری علامات نمودار ہوں، جو وائرس سے متاثر ہونے کی عمومی علامات سے شدید ہونے لگیں، تو انہیں فوراً اپنے ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں