tiger 16

خونی چیتوں نے خوف پھیلا دیا، تلاش کیلئے کیمرے نصب

کھٹمنڈو : نیپال میں جنگلی حیات کے ماہرین نے ایک آدم خور چیتے کو پکڑنے کے لیے کیمرے نصب کر دیے ہیں۔ حکام اس کوشش میں ہیں کہ اس چیتے کو زندہ پکڑ کراس کا کسی طرح علاج کیا جا سکے۔نیپال کے علاقے تاناہون کے جنگلوں میں ایک آدم خور چیتے نے دہشت پھیلا رکھی ہے۔ اس چیتے نے گزشتہ ہفتوں کے دوران کم از کم دو بچوں کو ہلاک کر کے اُنہیں اپنی خوراک بنایا ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک چار سالہ لڑکی ہے، جسے اِس چیتے نے بھانو گاؤں میں اُس کو گھر سے باہر کھیلتے ہوئے اٹھایا تھا۔ اب شک کیا جا رہا ہے کہ پہلی دسمبر کو اس نے ایک دس سالہ بچے کو بھی ہلاک کیا ہے۔ یہ ہلاکت بھی اس بھانو گاؤں میں ہوئی ہے۔جنگلی حیات کے ماہرین کا خیال ہے کہ اس وقت یہ چیتا بھانو نامی گاؤں کے قریبی جنگلات میں مقیم ہے اور موقع دیکھتے ہوئے گاؤں میں مال مویشی کو شکار بنانے کی کوشش کرتا ہے۔نیپال کے علاقے تاناہون کے فاریسٹ افسر کیدار برال نے نیوز ایجنسی ڈی پی اے کو بتایا کہ اس وقت مختلف مقام پر چار کیمرے نصب کر دیے گئے ہیں اور اُن سے اس چیتے کی حرکات پر نگاہ رکھی جا رہی ہے۔ ان کیمروں میں نشاندہی پر شکاری ٹیمیں فوری طور پر چیتے کے قریب پہنچنے کی کوشش کریں گی۔
نیپال کے جنگلات میں خونخوار جنگلی حیات کو خوراک کی کمیابی کا سامنا ہے
کیدار برال نے یہ بھی بتایا کہ ایک سو افراد پر ایک ٹیم بھی تشکیل دی گئی ہے اور اس ٹیم میں پولیس، رینجرز اور مقامی دیہاتی شکاری بھی شامل ہیں۔ سرکاری اہلکار نے واضح کیا کہ اس ٹیم کا اولین مقصد اس چیتے کو زندہ پکڑنا ہے اور اس مقصد کے لیے بے ہوش کرنے والی رائفلیں بھی ٹیم کو مہیا کی گئی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں