42

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنا غیر قانونی اقدام ہے، عالمی عدالت انصاف

دی ہیگ(جرات نیوز) عالمی عدالت انصاف نے مقبوضہ کشمیر کو بھارتی آئین میں حاصل خصوصی حیثیت کو ختم کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیریوں کے آئینی و قانونی حقوق سلب کرنا غیر قانونی اقدام ہے جس سے وادی میں بنیادی انسانی حقوق کے بحران میں مزید اضافہ ہوگا۔
عالمی عدالت انصاف نے جموں و کشمیر پر مودی سرکار کی چالبازیوں کی مذمت کرتے ہوئے بھارتی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر کی سفارشات پر عمل درآمد کرے اور جموں و کشمیر کے شہریوں کو عالمی قوانین کے تحت حاصل حق خود ارادیت کی پاسداری کرتے ہوئے لوگوں کی جان و مال کی تحفظ کے ساتھ ساتھ لوگوں کے انسانی حقوق کی فراہمی کو یقینی بنائے۔عالمی عدالت انصاف نے اپنی ویب سائٹ پر جاری بیان میں مزید کہا ہے کہ کشمیر کی خود مختاری اور خصوصی حیثیت ختم کرنا قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے جس کے ذریعے کشمیریوں کی ریاستی امور میں نمائندگی اور شراکت داری کے حقوق پر قدغن لگائی گئی ہے۔ یہ بنیادی حقوق کشمیریوں کو عالمی قوانین اور بھارتی آئین کے تحت حاصل تھے۔ غیر انسانی قانون کیخلاف سب کی نظریں بھارتی سپریم کورٹ پر لگی ہیں کہ وہ کشمیریوں کے حقوق کا تحفظ اور بھارتی آئین پر عمل درآمد یقینی بنائے۔عالمی عدالت انصاف نے مزید کہا کہ وادی میں رابطے مسدود کر دیئے گئے ہیں، سیاسی رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا اور جلسے جلوس پر پابندی عائد کرکے لوگوں کے بنیادی حقوق سلب کر لیے ہیں۔ کشمیر 1947 سے پاکستان اور بھارت کے درمیان متنازع علاقہ ہے جو سنگین خلاف ورزیوں کے باعث وادی انسانی حقوق کا قبرستان بن گئی ہے۔
عالمی عدالت انصاف نے کہا کہ اس موقع پر اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر نے بھی بھارت کو کشمیریوں کی حق خود ارادیت، جان و مال کے تحفظ اور بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کو یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے اس اہم معاملے پر عالمی قوانین کے احترام اور پاسداری پر زور دیا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں