انتہا پسند ہندو جماعت کا تاج محل کے بعد قطب مینار کو بھی مندر بنانے کا مطالبہ

نئی دہلی: بھارت میں انتہا پسند ہندو جماعتوں نے وزیر داخلہ امیت شاہ سے نئی دہلی میں واقع ثقافتی ورثے قطب مینار کو وشنو مندر میں تبدیل کرنے کا مطالبہ کردیا۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق انتہا پسند ہندو جماعت کے سربراہ بھگوان گوئل نے وزیر داخلہ امیت شاہ کو میمورنڈم دیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ثقافتی مقام قطب مینار جو مسلم حکمراں قطب الدین ایبک نے تعمیر کرایا تھا، دراصل وشنو ٹیمپل تھا۔
یونائیٹڈ ہندو فرنٹ کے سربراہ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ جس میں وشنو ٹیمپل میں 27 مورتیاں تھیں جن کی الگ الگ پوجا پاٹ کی جاتی تھی۔ مسل حکمراں نے انھیں منہدم کرکے قطب مینار بنایا تھا اس لیے مندر دوبارہ بنایا کر اس کے اندر ’پوجا آرتی‘ تعمیر کی جائے۔
قبل ازیں انتہا پسند ہندو جماعتوں بالخصوص یونائیٹڈ ہندو فرنٹ کے کارکنان قرون وسطیٰ کے آثار قدیمہ کے عجائب گھر قطب مینار میں ہندو تہوار ہنومان چالیسہ منانے جمع ہوئے، مذہبی گیت گائے اور جئے شری رام کے نعرے لگائے۔
ثقافتی ورثے میں جمع ہوکر نعرے بازی کرنے پر پولیس نے یونائیٹڈ ہندو فرنٹ کو گرفتار کرکے سربراہ جے بھگوان گوئل کو گھر میں نظر بند کردیا۔ماضی میں ہندوتوا کے کارکنوں نے ہندو تہوار مہاشیو راتری کے موقع پر آگرہ میں تاج محل کمپلیکس کے اندر شیو چالیسا پڑھا تھا جس پر ہندو جاگرن منچ کے کچھ ارکان، ایک ہندوتوا تنظیم کے ضلعی صدر گورون ٹھاکر کو پولیس نے گرفتار کرلیا تھا۔قبل ازیں ایودھیا میں بی جے پی کے مقامی رہنما رجنیش کمار سنگھ کی الہ آباد ہائی کورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں تاج محل کو دراصل شیو مندر ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا تھا کہ تاج محل کے اندر بند کمرے کو کھول دیا جائے کیوں کہ اندر ہندو مورتیاں اور صحیفے موجود ہیں۔
واضح رہے کہ بابری مسجد میں مندر کے قیام کے بعد سے بھارتیہ جنتا پارٹی نے نہ صرف مسلم علاقوں کے نام تبدیل کیے بلکہ تاج محل، قطب مینار اور دیگر قدیم عمارتوں اور مساجد کو مندر میں تبدیل کرنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں