پائلٹ کے بیمار ہونے پر ایک مسافر طیارے کو اتارنے میں کامیاب

پرواز کو سنبھالنے کا کوئی تجربہ نہ رکھنے والا مسافر اس وقت فلوریڈا ایئرپورٹ پر ایک طیارے کو بحفاظت اتارنے میں کامیاب رہا جب پائلٹ کی طبیعت بگڑ گئی تھی۔سنگل انجن سیسنا 208 طیارے میں 2 افراد سوار تھے اور پرواز کے دوران پائلٹ کی طبیعت بگڑ گئی۔اس موقع پرڈیرن ہیریسین نامی مسافر نے ایئر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ کرتے ہوئے کہا کہ اسے سنگین صورتحال کا سامنا ہے، پائلٹ کی حالت خراب ہوگئی ہے اور اسے طیارے کو اڑانے کا کوئی تجربہ نہیں۔اس صورتحال میں ایک ایئر ٹریفک کنٹرولر رابرٹ مورگن نے مسافر کو طیارے کو اتارنے کے لیے ہدایات دینا شروع کیں اور دونوں کی مشترکہ کوشش سے طیارے کو بحفاظت فلوریڈا کے پام بیچ انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اتارلیا گیا۔
دونوں کی درمیان ہونے والی گفتگو کی آڈیو کے متن کے مطابق ایئر ٹریفک کنٹرولر نے مسافر کو کہا کہ وہ ونگز لیول کو ایک سطح پر رکھنے کی کوشش کرے ۔درحقیقت اس طرح طیارے کی پرواز کو جاری رکھنے اور اتارنے کے لیے کم از کم 20 گھنٹے کی تربیت درکار ہوتی ہے۔مگر ایئر ٹریفک کنٹرولر نے اس لینڈنگ کو 10 میں سے 10 نمبر دیئے۔
طیارے کے اترنے کے بعد رابرٹ مورگن اپنے نئے طالبعلم سے ملے اور دونوں نے پرجوش معانقہ بھی کیا۔
رابرٹ مورگن نے کہا کہ ان کی نظر میں ڈیرن ہیریسین ایک ہیرو ہے ، میں تو بس اپنا کام کررہا تھا۔
اس واقعے پر دیگر پائلٹس پر بھی دنگ رہ گئے ، کیونکہ دوسری آڈیو ریکارڈنگ میں ایک اور ایئر ٹریفک کنٹرولز کو فضامیں موجود دیگر طیاروں کو صورتحال کے بارے میں بتاتے ہوئے سنا گیا۔
اس آپریٹر نے امریکن ایئرلائنز کے ایک پائلٹ کو بتایا کہ آپ نے ابھی ایک مسافر کو طیارے کو اتارتے ہوئے دیکھا ہے۔اس کے جواب میں پائلٹ نے کہا کہ کیا آپ نے کہا کہ مسافر نے طیارے کو اتارا؟ زبردست کام۔
امریکی فیڈرل ایوی ایشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اس واقعے کی تحقیقات کی جارہی ہے اور دیکھا جارہا ہے کہ پائلٹ کو کیا ہوا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں