سراج الحق کا آئندہ بجٹ غیر سودی پیش کرنے کا مطالبہ

اسلام آباد: امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے آئندہ بجٹ غیر سودی پیش کرنے کا مطالبہ کردیا۔سراج الحق نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس وقت عدم استحکام کا شکار ہے، ڈالر نے دوسو کی سرخ لکیر بھی عبور کرلی ہے، پاکستانی کرنسی بنگلہ دیش اور افغانستان سے بھی نیچے گر گئی ہے، معاشی تباہی کی وجہ سودی نظام ہے۔
سراج الحق نے کہا کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے غیر سودی نظام معیشت کی بات کی، ملک کی ابتدا سے لیکر آج تک سود کے خاتمے کی بات کی گئی، سود کے خلاف اعلی عدالتیں فیصلے کرچکی ہیں مگر عمل نہیں کیا جارہا ہے۔
سراج الحق کا کہنا تھا کہ وفاقی شرعی عدالت نے 27 رمضان کو ربا و سود کو ہر شکل میں ختم کرنے کا فیصلہ سنایا ہے، حکومت فوری طورپر سودی نظام کو ختم کرے، آئندہ بجٹ غیر سودی پیش کیا جائے، اسٹیٹ بینک تمام بینکوں کو ایک سال میں 50 فیصد تک اسلامی بینکاری نظام نافذ کرنے کا حکم دے۔
امیر جماعت اسلامی نے بتایا کہ حکومتیں کب تک بیرونی خیرات پر چلیں گی، پاکستانی روزانہ چالیس ارب روپے کے صدقات دے رہے ہیں، باہر ممالک اور اداروں کی بجائے بیرون ملک پاکستانیوں اور اندرون ملک پاکستانیوں سے قرض لے لیا جائے، زکوۃ و عشر کا نظام نافذ کریں، 7 کروڑ لوگ زکوۃ و عشر دے سکتے ہیں، صدقات کا الگ بینک قائم کیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سابق وزیر اعظم نوازشریف نے ماضی میں ایک بینک کو استعمال کرکے سود سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کی، اب کوئی بینک اگر سود کے حق میں اپیل لیکر آیا تو ہم اس کے بائیکاٹ کا اعلان کریں گے، جاپان اور ڈنمارک سمیت بہت سے ممالک غیر سودی نظام سے الگ ہوچکے ہیں تو پاکستان کیوں نہیں ہوسکتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں