سگریٹ نوشی آنکھوں کے لیے بھی خطرناک قرار

لندن: دنیا بھر میں لاکھوں افراد سگریٹ نوشی کرتے ہیں یا ویپ اشیاء کا استعمال کرتے ہیں اور اس کے نتیجے میں ان کی بڑی تعداد صحت کے متعدد مسائل کا سامنا کرتی ہے۔ایک اندازے کے مطابق دنیا میں 1.3 ارب لوگ سگریٹ نوشی کرتے ہیں اور بچھلے کچھ سالوں میں لوگوں میں سگریٹ نوشی کے رجحان میں کمی آئی ہے جبکہ ویپنگ کا رجحان بڑھا ہے۔مطالعوں میں یہ بات بتائی گئی ہے کہ ویپنگ سگریٹ نوشی سے کم نقصان دہ ہے لیکن کچھ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ اشیاء دماغ کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
ان اشیاء کی تشہیر بچوں کو ان کی جانب راغب کرتی ہے اور ان کی صحت خطرے میں ڈالتی ہے۔
اکثر لوگوں کو یہ علم ہوتا ہے کہ تمباکو کی یہ اشیاء ہماری صحت کے لیے خطرناک ہوتی ہیں، جیسے کہ یہ ہمارے پھیپھڑوں یا گلے کے لیے مسائل پیدا کرتی ہیں۔ لیکن ایک ماہر نے خبردار کیا ہے کہ ان اشیاء کے ہماری آنکھوں پر بھی خطرناک اثرات ہوسکتے ہیں۔کانٹیکٹ لینس آپٹیشین سُجاتا پال کا کہنا ہے کہ کئی لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ ان اشیاء کا ہماری نظر پر منفی اثر ہوسکتا ہے۔سُجاتا نے بتایا کہ سگریٹ نوشی آپ کی آنکھوں کے لیے سنجیدہ نوعیت کے مسائل میں اضافہ کر سکتی ہے اور ان مسائل میں بصارت سے مستقل محرومی، موتیا اور کالا موتیا شامل ہوسکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ قلیل مدتی نظریے سے دیکھا جائے تو تمباکو نوشی ڈرائی آئی سِنڈروم کا سبب بھی ہوسکتا ہے جس کی وجہ سے آنکھوں میں خارش اور تکلیف ہوسکتی ہے۔ماہرِ چشم کا کہنا تھا کہ جہاں سگریٹ نوشی خطرناک ہے، وہیں ویپنگ بھی آنکھوں میں تکسیدی دباؤ کا سبب بن سکتی ہے۔ تکسیدی دباؤ تب ہوتا ہے جب آپ میں آکسیجن کی سطح غیر مساوی ہوجاتی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ جسم میں کسی بھی جگہ کی طرح اضافی دباؤ ہماری صحت پر منفی اثرات مرتب کرسکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں