دہشت گردی کیس میں عمران خان کی بریت کی حمایت کرنے والے دو پراسیکیوٹرز برطرف

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی دہشت گردی کے مقدمے میں بریت کی حمایت کرنے والے دو پراسیکیوٹرز کو عہدے سے برطرف کردیا گیا۔
وزارت داخلہ نے دونوں اسپیشل پبلک پراسیکیوٹرز کو عہدے سے ہٹانے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ عامر سلطان گورایا اور فاخرہ عامر سلطان انسداد دہشت گردی عدالت کے اسپیشل پبلک پراسیکیوٹرز تھے۔دونوں پبلک پراسیکیوٹرز نے عمران خان اور پی ٹی آئی قیادت کی پارلیمنٹ پر حملے کے مقدمے میں بریت کی حمایت کی تھی۔ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے عمران خان کی بریت کی حمایت کرنے پر دونوں پراسیکیوٹرز کو عہدے سے ہٹانے کیلئے خط لکھا تھا۔
2020 میں اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے پارلیمنٹ حملہ کیس میں وزیراعظم عمران خان کو بری کردیا تھا۔ 2014 میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور پاکستان عوامی تحریک (پی اے ٹی) کے دھرنے کے دوران مشتعل افراد نے پی ٹی وی کے ہیڈ کوارٹر پر دھاوا بولا تھا۔
ن لیگ کی حکومت نے عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری سمیت کم و بیش 70 افراد کے خلاف تھانہ سیکریٹریٹ میں پارلیمنٹ ہاؤس، پی ٹی وی اور سرکاری املاک پر حملوں کے الزام میں دہشت گرد کا مقدمہ درج کیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں