فرانس میں اناڑی کوہ پیماؤں کے جنازے کے اخراجات پیشگی لینے کی تجویز

پیرس: فرانس کے مشہور پہاڑ مونٹ بلانک علاقے سے وابستہ میئر نے تجویز پیش کی ہے کہ یہاں آنے والے کوہ پیماؤں سے پھنس جانے یا فوت ہوجانے کی صورت میں ان کے بچاؤ یا جنازے کی رقم ایڈوانس میں لی جائے۔
یورپ کی سب سے بلند چوٹی مونٹ بلانک کے شہر سیںٹ گرویس سے وابستہ میئر جین مارک پائلے نے کہا ہے کہ وہ دشوار گزار پہاڑ پر اپنی جان خطرے میں ڈالنے والے مہم جو افراد سے پریشان ہوچکے ہیں جن میں کئی اناڑی بھی شامل ہیں۔ اسی لیے ان کے جنازے یا ریسکیو پر خرچ ہونے والی رقم ان سے پہلے ہی لی جانی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ یہاں آنے والے کوہ پیماؤں کا تانتا بندھا ہوا ہے اور حالیہ گرم موسم میں راہ بھٹکنے، پھنس جانے اور اموات کے خطرات مزید بڑھ چکے ہیں۔
انہوں نے شہری انتظامیہ سے کہا ہے کہ ایک کوہ پیما کو بچانے پر 10 ہزار یورو خرچ ہوتے ہیں اور اگر وہ مرجائے تو تدفین پر 500 یورو لگانے پڑتے ہیں۔ ان کے شوق کی قیمت عوامی ٹیکس سے ادا کرنا ناانصافی ہوگی۔ انہوں نے یہاں تک کہا ہے کہ اب جو لوگ پہاڑ پر جارہے ہیں ان کی پشت پر لگے بیگ میں ہی ان کی موت موجود ہوتی ہے۔
انہوں نے مونٹ پلانک پہاڑ پر ایک راستے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسے ’موت کی راہداری‘ کہا جاتا ہے جو مشکل ترین راستہ ہے جبکہ دوسرا راستہ شاہی راستہ (رائل وے) ہے جو بہت مقبول بھی ہے۔
تاہم مونٹ بلانک کا کچھ حصہ اٹلی میں بھی ہے اور وہاں کی انتظامیہ فرانسیسی میئر سے اتفاق نہیں کرتی۔ اٹلی کا مؤقف ہے کہ یہ پہاڑ کسی کی جائیداد نہیں۔ انہوں نے پیشگی رقم ادا کرنے کی تجویز کو عجیب و غریب قرار دیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں