نینسی پلوسی کے دورہ تائیوان کا معاملہ: وائٹ ہاؤس نے چینی سفیر کو طلب کرلیا

واشنگٹن: وائٹ ہاؤس نے ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی کے دورہ تائیوان پر سخت ردعمل دینے پر چینی سفیر کو طلب کرلیا۔امریکی خبر رساں ادارے واشنگٹن پوسٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس نے نینسی پلوسی کے دورہ تائیوان کے سلسلے میں چین کے سخت رد عمل اور چین میں امریکی سفیر کی طلبی کے بعد چینی سفیر کو جمعرات کے روز طلب کیا۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق نینسی پلوسی کے دورہ تائیوان کے بعد دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی کشیدگی پر امریکی حکام نے یہ واضح کیا کہ امریکا خطے میں کسی بھی قسم کا بحران نہیں چاہتا۔واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی سکیورٹی کونسل کے ترجمان جان کربی نے اپنے بیان میں چینی سفیر کی طلبی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ چینی سفیر کو نینسی پلوسی کے دورہ تائیوان پر سخت ردعمل کے جواب میں طلب کیا گیا ہے۔جان کربی نے کہا کہ امریکا تائیوان میں چین کی فوجی مشقوں کی مذمت کرتا ہے اور یہ عمل انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے۔سکیورٹی کونسل کے ترجمان نے چین کی فوجی مشقوں کو امریکا کے تائیوان میں امن و استحکام کے مقاصد کو دھچکا قرار دیا اور کہا کہ چینی سفیر سے سفارتی چینل کے ذریعے اس معاملے پر احتجاج کیا گیا ہے۔واشنگٹن پوسٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس نے چینی سفیر پر واضح کیا کہ امریکا رابطوں کے تمام راستے کھلے رکھنا چاہتا ہے اور اس کی ون چائنا پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
واضح رہے کہ امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی کے متنازع دورہ تائیوان پر چین نے تائیوان کے قریب سب سے بڑی جنگی مشقوں کا آغاز کیا تھا۔چین نے امریکا کو خبردار کیا تھا کہ اگر نینسی پلوسی نے تائیوان کا دورہ کیا تو چین کی فوج ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہیں بیٹھے گی لیکن اس کے باوجود امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی تائیوان کے دورے پر پہنچ گئیں جس پر امریکا اور چین کے درمیان تناؤ مزید شدت اختیار کر گیا۔تائیوان کی جانب سے چینی فوجی مشقوں کو سمندری اور فضائی حدود بند کرنے سے تشبیہ دی گئی جب کہ امریکا نے چین کی جنگی مشقوں کو غیر ذمہ دارانہ اقدام قرار دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں