خواجہ سراوں کا یو این ڈی پی کے خلاف کراچی پریس کلب کے باہراحتجاج

کراچی: خواجہ سراوں نے یو این ڈی پی کے خلاف کراچی پریس کلب کے باہر شدید احتجاج کیا۔ خواجہ سراوں کی رہنما بندیا رانا کا کہنا تھا کہ یو این ڈی پی نے ایچ آئی وی پریوینشن پروجیکٹ معاہدے سے قبل ہی ختم کر دیا، خواجہ سراء باعزت روزگار سے محروم ہو گئے۔تفصیلات کے مطابق یونائیٹڈ نیشن ڈیویلپمنٹ پروگرام (یو این ڈی پی) نے یکم جولائی 2021 میں خواجہ سراؤں میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کام شروع کیا تھا، اس معاہدے کے تحت جینڈر انٹرایکٹو الائنس کو 2023 تک خواجہ سرائوں کی بہبود کے لیے کام کرنا تھا، معاہدہ کسی نوٹس کے بغیر ہی ختم کر دیا گیا جس پر خواجہ سرا کمیونیٹی نے کراچی پریس کلب کےباہراحتجاج کیا۔
جیا فاونڈیشن کی ایگزیکیٹیو ڈائریکٹر بندیا رانا کا کہنا تھا کہ پروجیکٹ ختم ہونے سے 22 خواجہ سرا بے روزگار ہوئے اور علاج میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ خواجہ سراء رہنماء شہزادی رائے کا کہنا تھا کہ ٹرمینیشن کا کوئی طریقہ کار ہوتا ہے لیکن یہاں کوئی قانونی طریقہ کار نہیں اپنایا گیا۔ کراچی میں 19000 خواجہ سراء ہیں،جن میں سے 1500 ایچ آئی وی سے متاثر ہیں۔
دوسری جانب یو این ڈی پی کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ جی آئی اے کے ساتھ معاہدہ اپنی مدت پوری ہونے پر ایکسپائر ہو گیا ہے کسی کو ٹرمینیٹ نہیں کیا گیا۔ کمیونیکیبل ڈیزیز کنٹرول (سی ڈی سی) ایچ آئی وی کے ایڈیشنل ڈائریکٹر اور سی ڈی سی کے ڈپٹی ڈائریکٹر سندھ ڈاکٹر ارشاد کاظمی کا کہنا ہے کہ یو این ڈی پی کی جانب سے جی آئی اے کو لکھے گئے خط کی کاپی موصول ہوئی ہے، جس میں کہا گیا کہ معاہدہ ناگزیر وجوہات کی بناء پر ختم کیا گیا ہے۔
کراچی کی خواجہ سراء کمیونٹی کا کہنا ہے کہ ہمارے حقوق سلب کیے گئے ہیں، 14 اگست کو یو این ڈی پی اور وفاقی وزارت صحت کے دفتر کے باہر دھرنا دیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں