مفت آٹا تقسیم کے دوران بدنظمی کے واقعات، مزید 2 افراد جاں بحق

پختونخوا / پنجاب: مختلف شہروں میں مفت آٹے کی تقسیم کے دوران بدنظمی کے باعث بھگدڑ اور دھکم پیل کے نتیجے میں مزید 2 افراد جاں بحق اور خواتین سمیت کئی زخمی ہو گئے۔ چارسدہ میں مفت آٹا تقسیم کے دوران بھگدڑ کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور 4 زخمی ہو گئے۔ پولیس کے مطابق مفت آٹے کی تقسیم کے دوران دھکم پیل اور بھگدڑ ایک شخص کے جاں بحق اور دیگر کے زخمی ہونے کی وجہ بنی۔شہریوں کا کہنا ہے کہ خواتین اور مردوں کے لیے ایک ہی سینٹر میں مفت آٹا تقسیم کا پوائنٹ مقرر کیا گیا ہے اور صبح 6بجے سے ہزاروں مرد و خواتین مفت آٹے کے حصول کے لیے سینٹر پہنچ گئے تھے۔مفت آٹا آنے سے قبل جیسے ہی سینٹر کا گیٹ کھولا گیا تو بھگدڑ مچ گئی۔ شہریوں کے مطابق ضلعی انتظامیہ کی طرف سے ناقص انتظامات کے سبب افسوس ناک واقعہ پیش آیا ہے۔ آٹا ڈیلرز ایسوسی ایشن اور ضلعی انتظامیہ کی ملی بھگت سے کم پوائنٹ مقرر کیے گئے ہیں۔دوسری جانب بنوں میں فلور ملز کے قریب دیوار گرنے سے حادثہ پیش آیا، جس میں ایک شخص جاں بحق اور 4 زخمی ہو گئے۔ اطلاعات کے مطابق آٹا لینے کے لیے لوگ کھڑے تھے کہ دیوار گر گئی، جس سے زخمی ہوے والوں کو طبی امداد کے لیے ڈی ایچ کیو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔دریں اثنا بنوں ہی میں مفت آٹے کے حصول کے لیے قطار میں کھڑی ایک خاتون بے ہوش ہو گئی، جسے ریسکیو 1122 کے اہل کاروں نے اسپتال منتقل کیا۔ بعد ازاں آٹا لینے کے لیے اسپورٹس کمپلیکس میں آنے والی خواتین نے احتجاج کیا اور مفت آٹے کے تھیلے نہ ملنے پر بنوں کوہاٹ روڈ احتجاجاً ہر قسم ٹریفک کے لیے بند کر دیا۔ مشتعل خواتین نے فوڈ انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی کی۔اُدھر مردان میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے آٹا تقسیم کے پوائنٹ پر بدنظمی کا واقعہ پیش آیا، جہاں دوپہر بارہ بجے تک آٹا تقسیم کا عمل شروع نہیں کیا گیا، جس کی وجہ سے عوام کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ مردان اسپورٹس کمپلیکس میں ہزاروں کی تعداد میں مرد و خواتین جمع ہیں۔علاوہ ازیں بہاولنگر میں منچن آباد میں سرکاری آٹا پوائنٹ پر بھگدڑ کا واقعہ پیش آیا، جس میں خواتین سمیت متعدد افراد دب گئے۔ واقعے میں تین خواتین زخمی ہوئیں۔ اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ بدنظمی کا واقعہ انتظامیہ کی نااہلی کی بناپر پیش آیا۔ بتایا گیا ہے کہ مردوں اور خواتین کے لیے ایک ہی پوائٹ پر آٹا تقسیم کرنے کاانتظام ہے، جس کی وجہ سے بھگدڑ مچی۔ دھکم پیل میں اسسٹنٹ کمشنر منچن آباد بھی زمین پر گر گئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں