(روزنامہ جرأت)پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے تھانہ ٹاؤن شپ میں چوری اور فراڈ کے الزام میں گرفتار 2 خواتین دم توڑ گئیں جب کہ گزشتہ روز یہ خبر سامنے آئی تھی کہ تھانہ غازی آباد کے اے ایس آئی عمران نے ایک ذہنی معذور لڑکی سے مبینہ زیادتی کی۔رپورٹ کے مطابق پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ دونوں خواتین کی موت منشیات کے زیادہ استعمال کے باعث ہوئی، دونوں خواتین پرکئی مقدمات درج تھے اور دونوں منشیات بھی استعمال کرتی تھیں۔
ایمرجنسی15کی کال پر آپریشنز وِنگ نےکارروائی کرتے ہوئے خواتین کو حراست میں لیا تھا۔مدعیوں نےخواتین پر چوری اور دھوکا دہی کی دفعات کےتحت مقدمہ درج کرایا تھا، خواتین کی طبیعت خراب ہونے پر ریسکیو 1122 کو کال کرکے تھانے بلا کر خواتین کو اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے انہیں “مردہ” قرار دیا۔اس واقعے کے بعد پولیس کے حوالے سے تشویش میں اضافہ ہوا جب کہ اس سے قبل لاہور کے غازی آباد پولیس اسٹیشن کے اندر پولیس اہلکار کی جانب سے ذہنی طور پر معذور لڑکی کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کے بعد لاہور پولیس پہلے ہی شدید تنقیدی صورتحال کا سامنا کر رہی ہے۔گزشتہ دنوں انوسٹی گیشن کے اے ایس آئی عمران نے ایک ذہنی معذور لڑکی سے مبینہ زیادتی کی تھی جس پر پولیس نے اے ایس آئی کے خلاف مقدمہ درج کرکے اسے گرفتار کر لیا تھا، ڈی آئی جی آپریشنز نے سب انسپکٹرز، 8 اے ایس آئی اور 5 ہیڈ کانسٹیبلز سمیت 78 اہلکاروں کو معطل کیا جبکہ فرنٹ ڈیسک عملہ، محرر اور ڈرائیورز بھی معطل کیے گئے، تھانہ غازی آباد میں ایس ایچ او سمیت تمام اہلکاروں کی معطلی کی ایف آئی آر درج کر دی گئی۔
شکایت کنندہ شہری نے ایف آئی آر میں الزام لگایا کہ خواتین اس کے گھر میں داخل ہوئیں اور اس کی بیوی سے پانی مانگا، جب اس کی بیوی پانی لینے گئی تو ملزمان نے گھر سے اس کے طلائی زیورات اور 5000 روپے نقدی چوری کر لی۔
انہوں نے کہا کہ جب خواتین کو رنگے ہاتھوں پکڑا گیا تو مقامی لوگوں نے وہاں جمع ہو کر ان کی پٹائی کی اور پھر انہیں پولیس کے حوالے کر دیا۔انویسٹی گیشن پولیس کے ترجمان نے کہا کہ خواتین آپریشنز ونگ پولیس کی تحویل میں انتقال کر گئیں، آپریشنز ونگ کے اہلکاروں کی جانب سے ریسکیو 1122 کو ہسپتال منتقل کرنے کے لیے کال کی گئی۔
ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے بتایا کہ ملزمان میں سے ایک ٹاؤن شپ تھانے میں جبکہ دوسری لٹن روڈ تھانے میں بیہوش ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں خواتین کو فوری طور پر اسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ٹاؤن شپ پولیس نے ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک ملزمہ کو مزید تفتیش کے لیے لٹن روڈ تھانے منتقل کر دیا گیا، اسے مزید تفتیش کے لیے خواتین پولیس اہلکاروں کے حوالے کر دیا گیا، جبکہ دوسری ٹاؤن شپ پولیس کی تحویل میں تھی۔ڈی آئی جی نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی کہ حراست میں خواتین پر تشدد کیا گیا یا ان کے ساتھ سخت سلوک کیا گیا۔
ابتدائی انکوائری رپورٹس کے مطابق دونوں خواتین منشیات کی دائمی عادی تھیں، منشیات کے ممکنہ زیادہ مقدار کی وجہ سے خواتین کی صحت متاثر ہوئی۔انہوں نے مزید کہا کہ اس واقعے کے حقائق جاننے کے لیے اعلیٰ سطح کی انکوائری کی ضرورت ہے کیونکہ زیر حراست دو خواتین کی موت کو کسی بھی صورت میں نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس حکام متعلقہ ہسپتالوں کے ڈاکٹروں سے رابطے میں ہیں تاکہ جلد از جلد لاشوں کا پوسٹ مارٹم کرایا جا سکے۔




