shahbazsharifmeeting

وزیراعظم کی خلیجی ممالک کو اشیائے خورونوش کی فراہمی تیز کرنے کی ہدایت

(روزنامہ جرأت)وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت موجودہ علاقائی صورتحال کے تناظر میں خلیجی ریاستوں کو اشیائے خورونوش کی فراہمی اور پاکستان کی بندرگاہوں اور میری ٹائم آپریشنز کے حوالے سے اہم جائزہ اجلاس آج وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔اجلاس کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے خلیجی ممالک کو اشیائے خورونوش کی فراہمی کے حوالےسے بنائی گئی حکمت عملی اور اب تک کی پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور اس حوالےسے کام کرنے والے متعلقہ محکموں اور افسران کی کارکردگی کو سراہا۔
انہوں نے ہدایت کی کہ خلیجی ممالک کو درکار اشیائے خورونوش کی فراہمی اور ان کے غذائی تحفظ کے حوالےسے تمام متعلقہ محکمے خلیجی ممالک سے قریبی رابطے میں رہیں۔ان کا کہنا تھا کہ موجودہ علاقائی صورتحال کے تناظر میں، جبکہ عالمی سپلائی لائین متاثر ہے، خلیجی ممالک کی غذائی ضروریات کا خیال رکھنا ہمارا فرض ہے۔انہوں نے ہدایت کی کہ ملکی غذائی ضروریات کو متاثر کئے بغیر ملک میں وافر مقدار میں موجود اشیاء خورونوش کی خلیجی ممالک میں برآمد کیلئے تیزی سے کام کیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملکی غذائی ضروریات کیلئے اشیاء خورونوش کی طلب و رسد کی مکمل نگرانی کی جائے؛ حکومتی اداروں کی سطح پر فیصلہ سازی میں کسی قسم کی تاخیر کا قابل قبول نہیں۔ تاخیر کے مرتکب افراد کی جواب دہی یقینی بنائی جائے گی۔وزیراعظم نے کراچی، گوادر اور دیگر پاکستانی اہم بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر فلائٹ آپریشنز میں اضافے کے لئے جامع لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت بھی کی۔اجلاس کو دی گئی خلیجی ممالک کو اشیائے ضروریہ کی برآمدات کے حوالےسے اٹھائے گئے اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ خلیجی ممالک کے ساتھ برآمدات کے فروغ کے لئے بنائی گئی خصوصی کمیٹی نے برآمدات کے حوالےسے 40 فوڈ آئٹمز کی منظوری دی ہے؛ ان فوڈ آئٹمز میں چاول، خورنی تیل ، چینی، گوشت، پولٹری ، خشک دودھ، ڈیری مصنوعات پھل، سبزیاں وغیرہ شامل ہیں؛ خلیجی ممالک کے ساتھ تجارت کے حوالے سے برآمد کنندگان کا ڈیٹا بیس تیار کیا گیا ہے۔سبزیوں، پھلوں اور گوشت کی برآمد کے حوالے سے کوئی اضافی ادائیگی نہیں کی جائیگی ؛ اشیائے خورونوش کی برآمدات کے حوالےسے ہوائی اور بحری اوپن روٹس کو استعمال کیا جائے گا؛ خلیجی ممالک کے ساتھ بزنس ٹو بزنس اجلاس اور ویبینارز منعقد کئے جا رہے ہیں۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ کراچی اور بن قاسم کی بندرگاہیں عید الفطر کی چھٹیوں کے دوران بھی بھرپور فعال رہیں ۔ٹرانس شپمنٹ کی صلاحیت میں اضافے کے لئے آف-ڈاک ٹرمینلز پر بھی ٹرانس شپمنٹ ہینڈلنگ کی اجازت دی گئی ہے جس کے لئے کسٹمز قوانین میں ضروری ترامیم کر دی گئیں.بندرگاہوں پر نقل و حمل کے حوالے سےنرخ 60 فیصد تک کم کر دئے گئے ہیں ؛ بندرگاہوں پر ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن ڈیسکس فعال کر دیئے گئے، خام تیل لانے والے بحری جہازوں کو بندرگاہوں پر ترجیحی بنیادوں پر لنگر انداز کرایا جا رہا ہے ۔اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وزیر بحری امور چوہدری جنید انور، وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری نے شرکت کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں