trupmwarningiran

اگر معاہدہ نہ ہوا تو بہت کم چھوڑ کر پورے ایران کو تباہ کیا جاسکتا ہے: ٹرمپ کی ایک اور دھمکی

(روزنامہ جرأت)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے خلاف سخت بیان دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر جلد معاہدہ نہ ہوا تو ایران کو شدید تباہی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ کا جاری تنازع ہفتوں نہیں بلکہ چند دنوں میں ختم ہونا چاہیے۔امریکی نشریاتی ادارے اے بی سی نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو بہت کم چھوڑ کر پورے ایران کو تباہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کے لیے زمینی فوج بھیجنا ضروری نہیں، تاہم اس امکان کو مکمل طور پر رد بھی نہیں کیا جا سکتا۔
صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کے معاملے پر بھی ایران کو سخت تنبیہ کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران نے یہ اہم آبی گزرگاہ نہ کھولی تو شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے اور صورتحال انتہائی سنگین ہو جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے لیے آنے والے دن نہایت اہم ہیں اور نتائج بہت سخت ہو سکتے ہیں۔اپنے سوشل میڈیا بیان میں بھی امریکی صدر نے ایران کے خلاف سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ اگر آبنائے ہرمز بند رہی تو ایران کی معیشت اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے، جس میں پل، پاور پلانٹس اور دیگر اہم تنصیبات شامل ہیں۔
صدر ٹرمپ کا یہ بیان اس 48 گھنٹے کی مہلت کے دوران سامنے آیا ہے جو انہوں نے خود ایران کو دی تھی تاکہ وہ معاہدہ کرے یا آبنائے ہرمز کھول دے۔ یاد رہے کہ یہ اہم سمندری راستہ فروری کے آخر میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے بڑی حد تک متاثر ہے، جس کے باعث عالمی تیل کی ترسیل بھی متاثر ہو رہی ہے۔دوسری جانب صدر ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کے کچھ عہدیدار مذاکرات میں شامل ہیں اور امکان ہے کہ جلد کوئی پیش رفت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ اگر ایران معاہدہ کر لیتا ہے تو بعض ایرانی مذاکرات کاروں کو محدود سطح پر عام معافی بھی دی جا سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق صدر ٹرمپ کے حالیہ بیانات سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے، تاہم سفارتی حل کی امید اب بھی موجود ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں