واشنگٹن:(روزنامہ جرأت) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی برقرار ہے، تاہم امریکا ایران کے خلاف سخت اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے، جن میں معاشی دباؤ اور ناکہ بندی شامل ہے۔
میری لینڈ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران اس وقت انتہائی مشکل صورتحال سے گزر رہا ہے اور وہ اپنا تیل عالمی منڈی میں فروخت نہیں کر سکے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور امریکی کارروائیوں کے نتیجے میں ایران کی فوج اور بحری صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔صدر ٹرمپ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان تقریباً 21 گھنٹے تک مذاکرات ہوئے، تاہم انہوں نے کہا کہ انہیں اس بات کی پرواہ نہیں کہ ایران دوبارہ مذاکرات کی میز پر آتا ہے یا نہیں۔
دوسری جانب ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک طویل بیان میں کیتھولک مسیحیوں کے پیشوا پوپ لیو کوتنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے پوپ کے جنگ مخالف بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ پوپ کے بڑے مداح نہیں ہیں۔ٹرمپ نے پوپ لیو کو کمزور اور خارجہ پالیسی کے معاملے میں ناکام قرار دیا، جبکہ ان کا کہنا تھا کہ جرائم سے نمٹنے کے معاملے میں بھی پوپ کا مؤقف مؤثر نہیں ہے۔ٹرمپ کے ان بیانات کے بعد عالمی سطح پر مختلف حلقوں کی جانب سے ردعمل سامنے آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔




