کچھ مادہ مینڈک “مرنے کا ڈرامہ” رچاتی ہیں تاکہ ناپسندیدہ نروں سے بچ سکیں۔
اس مضحکہ خیز رویے کو سائنسی اصطلاح میں tonic immobility یا thanatosis کہا جاتا ہے، یعنی موت کا روپ اپنانا۔
یہ رویہ خاص طور پر یورپین کامن فراگز میں دیکھا گیا ہے۔ تحقیقی مطالعے نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مادہ مینڈک جب مرد کی جنسی ہراسگی یا جوش کے باعث دباؤ میں آتی ہے، تو خود کو اس سے دور کرنے کے طور پر یہ حرکت اختیار کرتی ہے۔
تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ جب نر مادہ کو گھیر لیتے ہیں تو مادائیں درج ذیل ردعمل ظاہر کرتی ہیں:
1) جسم کو گھما کر ازسرِ نو جگہ بدلنے کی کوشش
2) نر کے آواز کی نقل کرنے والی آوازیں
3) بازوؤں اور ٹانگوں کو کھول کر جسم کو ساکت کر دینا اور بالکل بے حرکت رہنا جیسے مر گئی ہوں۔
اس ڈرامائی حرکت سے مادائیں نر کے قبضے سے نجات پاتی ہیں خاص طور پر چھوٹے اور نوجوان مادہ زیادہ مؤثر طریقے سے یہ حربے استعمال کرتی ہیں، شاید اس لیے کہ ان کے پاس زیادہ تجربہ نہیں ہوتا، اور خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔