0

بالوں سے بنا عجیب و غریب ٹوتھ پیسٹ

بالوں سے بنا عجیب و غریب ٹوتھ پیسٹ محض خیالی بات نہیں، بلکہ حال ہی میں سائنسدانوں نے ایک ایسا بایوٹیکنالوجیکل طریقہ دریافت کیا ہے جو بالوں یا اون سے حاصل ہونے والے کیراٹن کو استعمال کرتے ہوئے دانتوں کے اینامل (enamel) کی مرمت کے لیے ایک پیسٹ یا جیل تیار کر سکتا ہے۔

کِنگز کالج لندن کے محققین نے پایا ہے کہ کیراٹن جو بالوں، جلد اور ناخن میں پایا جاتا ہے، دانتوں کی سطح پر منرل (جیسے کیلشیم اور فاسفیٹ) کے ساتھ تعامل کرکے ایک طرح کا کرسٹل نما حفاظتی کوٹنگ بناتا ہے جو قدرتی اینامل کی طرح کام کرتی ہے۔

یہ عمل نہ صرف دانتوں کے سڑنے کو روکتا ہے بلکہ ابتدائی سطح کے نقصان شدہ اینامل کو دوبارہ تعمیر کر سکتا ہے جو کہ عمومی فلورائیڈ پیسٹ یا ریزنز کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔

کیراٹن ایسی بائیولوجیکل اجزا (بال، اون، جِلد) سے حاصل ہوتا ہے، جو ایک پائیدار اور ماحول دوست متبادل ہے اور اس سے پلاسٹک پر مبنی ریزنز کا استعمال کم کیا جا سکتا ہے۔

محققین نے اندازہ لگایا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی اگلے 2 تا 3 سال میں مارکیٹ میں دستیاب ہو سکتی ہے بشرطیکہ مزید آزمائشیں اور صنعتی شراکت داری ہو جائے۔

لیب تجربات میں یہ کوٹنگ روایتی پلاسٹک ریزنز سے 5 سے 6 گُنا زیادہ مضبوط ثابت ہوئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں